جنیوا(مشرق نامہ): عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی تازہ رپورٹ کے مطابق تپِ دق (ٹی بی) بدستور دنیا کی سب سے مہلک متعدی بیماری ہے، جس نے گزشتہ سال 12.3 لاکھ انسانی جانیں لیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان اُن آٹھ ممالک میں شامل ہے جو دنیا بھر کے دو تہائی ٹی بی کیسز کے ذمہ دار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2024 میں 1 کروڑ 7 لاکھ افراد ٹی بی کا شکار ہوئے، جن میں 58 لاکھ مرد، 37 لاکھ خواتین، اور 12 لاکھ بچے شامل ہیں۔ اگرچہ اموات میں 3 فیصد اور کیسز میں 2 فیصد کمی آئی ہے، لیکن فنڈز کی کمی اب بھی سب سے بڑا چیلنج ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ان آٹھ ممالک میں بھارت (25%)، انڈونیشیا (10%)، فلپائن (6.8%)، چین (6.5%)، پاکستان (6.3%)، نائجیریا (4.8%)، جمہوریہ کانگو (3.9%)، اور بنگلہ دیش (3.6%) شامل ہیں۔
ٹی بی ایک قابلِ علاج اور قابلِ تدارک بیماری ہے جو عام طور پر پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے اور کھانسی یا چھینک سے ہوا کے ذریعے پھیلتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق وبا کے بعد پہلی مرتبہ ٹی بی کے کیسز اور اموات میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم ادارے نے خبردار کیا کہ فنڈز میں کمی اور دیگر وجوہات دوبارہ وبا کو شدت دے سکتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2024 میں 83 لاکھ افراد کو علاج تک رسائی حاصل ہوئی — یہ اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے، اور 2000 سے اب تک 8.3 کروڑ زندگیاں بروقت علاج سے بچائی جاچکی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق بی سی جی ویکسین کے باوجود، گزشتہ ایک صدی میں ٹی بی کی کوئی نئی ویکسین منظور نہیں کی گئی۔ فی الحال 18 نئی ویکسینز انسانوں پر تجربات کے مراحل میں ہیں، جن میں سے چھ فیز تھری میں داخل ہوچکی ہیں۔
عالمی ادارے نے زور دیا کہ اگر سیاسی عزم، سرمایہ کاری، اور عالمی تعاون برقرار رہا تو اس ’’قدیم قاتل‘‘ کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکتا ہے۔

