مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) نے بدھ کے روز کہا کہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی طلب ممکنہ طور پر 2050 تک بڑھتی رہے گی۔ یہ اندازہ ایجنسی کی سابقہ پیشگوئیوں سے مختلف ہے جن میں صاف توانائی کی جانب تیز منتقلی کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ دنیا غالباً اپنے ماحولیاتی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔
توانائی کے تحفظ کے حوالے سے مغربی دنیا کی نگران یہ ایجنسی حالیہ برسوں میں امریکہ کے دباؤ میں رہی ہے تاکہ وہ اپنی توجہ صاف توانائی کی پالیسیوں پر مرکوز کرے، خاص طور پر اس وقت جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ تیل اور گیس کی پیداوار میں مزید اضافہ کریں۔
جو بائیڈن کی صدارت کے دوران آئی ای اے نے پیشگوئی کی تھی کہ عالمی تیل کی طلب اس دہائی کے دوران اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ کر کم ہونا شروع ہو جائے گی اور یہ بھی کہا تھا کہ اگر دنیا اپنے ماحولیاتی ہدف حاصل کرنا چاہتی ہے تو تیل و گیس میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں۔
تاہم ٹرمپ کے وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے آئی ای اے کی ان پیشگوئیوں کو ’’بے معنی‘‘ قرار دیا۔ آئی ای اے اپنے رکن ممالک کی مالی معاونت سے چلتی ہے جن میں امریکہ سب سے بڑا حصہ دار ہے۔ اس کے تجزیے اور اعداد و شمار دنیا بھر میں حکومتوں اور کمپنیوں کی توانائی پالیسیوں کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
موجودہ پالیسیوں کی بنیاد پر، ماحولیاتی عزائم پر نہیں
بدھ کو جاری ہونے والی اپنی سالانہ رپورٹ "ورلڈ انرجی آؤٹ لک” میں آئی ای اے نے پیشگوئی کی کہ موجودہ پالیسیوں کے منظرنامے کے تحت تیل کی عالمی طلب وسطِ صدی تک روزانہ 113 ملین بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جو 2024 کی کھپت سے تقریباً 13 فیصد زیادہ ہے۔
ایجنسی نے اندازہ لگایا کہ 2035 تک عالمی توانائی کی طلب میں 90 ایگزا جول (تقریباً 15 فیصد) اضافہ ہو گا۔
یہ ’’موجودہ پالیسیوں‘‘ کا منظرنامہ ان حکومتی پالیسیوں کو مدِنظر رکھتا ہے جو پہلے سے نافذ العمل ہیں، نہ کہ ان عزائم کو جو ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے ظاہر کیے گئے ہیں۔
آئی ای اے نے آخری بار 2019 میں ’’موجودہ پالیسیوں‘‘ کے منظرنامے کو استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد 2020 سے اس نے اپنی پیشگوئیوں کو صاف توانائی کی منتقلی اور وسطِ صدی تک کاربن کے خالص صفر اخراج کے وعدوں کے مطابق ڈھال لیا تھا۔
اس سال کے آؤٹ لک میں ان وعدوں پر مبنی منظرنامہ شامل نہیں کیا گیا۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس نے 2031 سے 2035 کے لیے ممالک کے نئے ماحولیاتی اہداف کا جائزہ لینے کا ارادہ کیا تھا، لیکن اتنے کم ممالک نے اپنی پالیسی منصوبے جمع کرائے کہ ایک بامعنی تصویر تشکیل نہیں دی جا سکی۔
آئی ای اے کے ’’بیان کردہ پالیسیوں‘‘ کے منظرنامے میں، جو ان پالیسیوں پر مبنی ہے جو پیش تو کی گئی ہیں مگر اب تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہوئیں، تیل کی طلب تقریباً 2030 کے آس پاس اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس کے منظرنامے دراصل مختلف مفروضات کی بنیاد پر ممکنہ نتائج کی ایک حد کا جائزہ لیتے ہیں، یہ کسی حتمی پیشگوئی کے مترادف نہیں۔
ایل این جی کی گنجائش میں زبردست اضافہ
رپورٹ کے مطابق 2025 میں نئے مائع قدرتی گیس (LNG) منصوبوں میں سرمایہ کاری کے حتمی فیصلوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ تقریباً 300 ارب مکعب میٹر سالانہ نئی برآمدی صلاحیت 2030 تک شروع ہو جائے گی، جس سے دستیاب فراہمی میں 50 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
موجودہ پالیسیوں کے منظرنامے میں عالمی ایل این جی مارکیٹ 2024 کے 560 ارب مکعب میٹر سے بڑھ کر 2035 میں 880 ارب مکعب میٹر اور 2050 میں 1,020 ارب مکعب میٹر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ اضافہ بجلی کے شعبے میں بڑھتی طلب سے منسلک ہے، جسے ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت (AI) کے پھیلاؤ نے تقویت دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں ڈیٹا سینٹرز میں عالمی سرمایہ کاری 580 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو اگر حاصل ہو جائے تو تیل کی سالانہ عالمی سپلائی پر خرچ ہونے والے 540 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔
عالمی درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سیلسیس سے زیادہ اضافہ متوقع
رپورٹ میں ’’نیٹ زیرو‘‘ منظرنامہ بھی شامل ہے جو 2050 تک توانائی کے عالمی اخراج کو خالص صفر تک لانے کے راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔
2015 میں پیرس ماحولیاتی مذاکرات کے دوران 190 سے زائد ممالک نے یہ عہد کیا تھا کہ دنیا کو 1.5 ڈگری سیلسیس (2.7 ڈگری فارن ہائیٹ) سے زیادہ گرم ہونے سے روکنے کی کوشش کی جائے گی۔
تاہم رپورٹ کے مطابق دنیا تمام منظرناموں میں 1.5 ڈگری کی حد عبور کر جائے گی، سوائے اس صورت کے جب ’’نیٹ زیرو‘‘ منظرنامہ نافذ ہو اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو فضا سے نکالنے والی ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر استعمال میں لائی جائے۔

