اسلام آباد(مشرق نامہ): حکومت کی جانب سے صنعتوں اور زرعی صارفین کے لیے متعارف کرائے گئے انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کو نیپرا اور کاروباری برادری نے ’’پیچیدہ، امتیازی اور غیر مؤثر‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ یہ پیکیج ’’ماضی کے تجربات سے حاصل شدہ بصیرت‘‘ پر مبنی ہے اور ملکی معیشت میں 1.16 ٹریلین روپے کے اضافے کا باعث بنے گا۔ تاہم صنعتکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس اسکیم کی کامیابی کے لیے بجلی کا نرخ 9 سینٹ فی یونٹ مقرر کیا جائے اور لوڈ فیکٹر 60 فیصد سے کم کرکے 40 فیصد کیا جائے۔
پاور ڈویژن کے مطابق صارفین کو ان پاور پلانٹس کو بھی 1.7 ٹریلین روپے کی ادائیگیاں کرنا پڑ رہی ہیں جو بجلی پیدا نہیں کر رہے — یعنی فی یونٹ 17 روپے۔
محکمے نے انکشاف کیا کہ شمسی توانائی کے فروغ (سولرائزیشن) سے بجلی کی مانگ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، کیونکہ تقریباً 1,300 میگاواٹ کے صارفین گرڈ سے الگ ہو گئے ہیں۔ زرعی شعبے میں بھی طلب میں 40 سے 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
حکومت کے مطابق پیکیج کا مقصد بجلی کے استعمال میں اضافہ، گرڈ کی استحکام، اور کیپیسٹی چارجز کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔
نیپرا نے منگل کے روز اس پیکیج کی منظوری کے لیے عوامی سماعت منعقد کی۔ منصوبے کے تحت صنعتی اور نجی زرعی صارفین کو 22.98 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی فراہم کی جائے گی۔ یہ رعایت اضافی استعمال پر لاگو ہوگی، جو دسمبر 2023 سے نومبر 2024 تک کے ریفریس پیریڈ سے موازنہ کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔
صنعتکاروں نے اس اسکیم کو ’’امتیازی اور مبہم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کچھ شعبوں کو فائدہ جبکہ باقی کو نقصان ہوگا۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے نمائندے ریحان جاوید نے کہا کہ پیکیج کی شرائط پیچیدہ ہیں اور مدتِ حوالہ کو ایک کے بجائے تین سال تک بڑھایا جانا چاہیے۔
ایک اور نمائندے عامر شیخ نے کہا کہ گزشتہ پیکیج اس وقت کامیاب ہوا تھا جب حکومت نے 9 سینٹ فی یونٹ کا فلیٹ ریٹ مقرر کیا تھا۔ انہوں نے حکومت سے یہی شرح دوبارہ مقرر کرنے اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے لوڈ فیکٹر 40 فیصد تک کم کرنے کا مطالبہ کیا۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA) کے نمائندے سید عبسر علی نے کہا کہ موجودہ اسکیم سے ٹیکسٹائل صنعت کو فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ زیادہ تر صنعتی یونٹ اپنی کھپت 15 فیصد سے زیادہ بڑھا ہی نہیں سکتے۔
کاروباری نمائندے تنویر بیری نے کہا کہ ’’یہ پیکیج مزید ابہام پیدا کر رہا ہے، موجودہ صورت میں یہ کامیاب نہیں ہوگا۔‘‘
نیپرا حکام نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے عدم وضاحت سے صنعتوں میں بے یقینی پیدا ہوگی، اور اس صورت میں حکومت کو دوبارہ نظرِ ثانی کرنا پڑے گی۔

