ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومپاکستانسابق چیف جسٹس کی سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کے تحفظ کے...

سابق چیف جسٹس کی سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کے تحفظ کے لیے درخواست
س

اسلام آباد(مشرق نامہ): سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے منگل کے روز 27ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کو اپنے آئینی و قانونی دائرہ اختیار کے تحفظ کے لیے حکم جاری کرے تاکہ اس کے اختیارات کسی بھی صورت میں محدود یا منسوخ نہ کیے جا سکیں۔

یہ آئینی درخواست وکیل خواجہ احمد حسین کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے کسی بھی قانون، بشمول 27ویں ترمیم، کی ایسی شقوں کو کالعدم قرار دیا جائے یا معطل کیا جائے جو سپریم کورٹ کے آئینی دائرہ اختیار کو ختم یا کم کرنے یا اسے کسی اور عدالت یا ادارے کو منتقل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ 27ویں ترمیم کی وہ شقیں بھی ختم کی جائیں جو ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلے سے متعلق ہیں، کیونکہ اس سے عدلیہ کی خودمختاری اور آئینی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

سابق چیف جسٹس نے مؤقف اپنایا کہ انہوں نے یہ درخواست اس لیے دائر کی ہے تاکہ سپریم کورٹ کو "آئینی عدالت کے طور پر ختم ہونے سے بچایا جا سکے”۔ ان کے مطابق اگر فوری طور پر اس معاملے کی سماعت نہ کی گئی تو خدشہ ہے کہ آئین میں ایسی تبدیلیاں کر دی جائیں گی جو سپریم کورٹ کے آئینی دائرہ اختیار کو سلب کر لیں گی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کی رو سے عدلیہ کی آزادی کو مکمل طور پر محفوظ کیا جانا لازمی ہے، اور سوال یہ ہے کہ کیا آئین کے تحت سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو ختم کیا جا سکتا ہے؟

سابق چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ انہیں اس مقدمے میں کوئی ذاتی مفاد نہیں، بلکہ ان کا مقصد عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ ان کے مطابق اگر سپریم کورٹ کا آئینی دائرہ اختیار ختم کر دیا گیا تو عوام اپنے بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے اعلیٰ ترین آزاد فورم سے محروم ہو جائیں گے۔

درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کا آئینی دائرہ اختیار اور خودمختاری 1973 کے آئین کی بنیادی اساس ہے، اور اس میں کسی قسم کی کمی یا تبدیلی آئین کے ڈھانچے اور عوامی ارادے کے منافی ہے۔

سابق چیف جسٹس نے مؤقف اختیار کیا کہ پارلیمنٹ کے ارکان عوام کے امانت دار ہیں اور وہ آئین میں درج عدلیہ کی آزادی جیسے بنیادی اصولوں کے خلاف کوئی ترمیم نہیں کر سکتے۔ یہاں تک کہ آئینی ترمیم بھی سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو منسوخ نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی خودمختاری آئین کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے اور اسے ختم یا کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش آئینی تسلسل کے لیے خطرہ ہوگی۔ آئین سازوں نے دانستہ طور پر سپریم کورٹ کے اختیارات کو ایسے انداز میں متعین کیا جو اس کی آزادی اور مرکزی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔

درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی یہ اصول تسلیم کر چکی ہے کہ بعض آئینی احکامات، مثلاً عدلیہ کی آزادی، کو اس انداز میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا جو ان کی اصل روح کو ختم کر دے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین