اسلام آباد، 12(مشرق نامہ) نومبر: قومی اسمبلی میں آج ایک بار پھر 27ویں آئینی ترمیمی بل پر غور کیا جائے گا، جسے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے گزشتہ روز ایوانِ زیریں میں بحث کے لیے پیش کیا تھا۔
یہ بل، جسے پیر کے روز حکومتی اتحاد نے اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود سینیٹ سے منظور کرایا، اب قومی اسمبلی کی منظوری کا منتظر ہے۔ منظوری کے لیے 336 رکنی ایوان میں دو تہائی اکثریت درکار ہے، جس کے بعد بل صدر کے دستخط کے لیے بھیجا جائے گا۔
حکومتی اتحاد کے پاس مطلوبہ اکثریت موجود ہے، جس میں مسلم لیگ (ن) کے 125، پیپلز پارٹی کے 74، ایم کیو ایم پاکستان کے 22، مسلم لیگ (ق) کے پانچ، استحکامِ پاکستان پارٹی کے چار، جبکہ مسلم لیگ (ض)، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پیپلز پارٹی کے ایک ایک رکن شامل ہیں۔ اپوزیشن کے پاس 103 نشستیں ہیں۔
بل کی مخالفت
یہ ترمیمی بل ایک وفاقی آئینی عدالت کے قیام اور عسکری قیادت کے ڈھانچے میں تبدیلیوں کی تجویز پیش کرتا ہے۔
اپوزیشن اتحاد تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے اس ترمیم کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئین میں "انتہائی خطرناک اور سیاہ ترین” تبدیلی ہے۔
گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بحث کے دوران تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اس بل کے ذریعے “ایک نئی اشرافیہ” پیدا کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اس شق کی مخالفت کی جس کے تحت صدرِ مملکت کو تاحیات فوجداری کارروائی اور گرفتاری سے استثنیٰ دینے کی تجویز ہے۔
سابق اور موجودہ ججوں کے ساتھ وکلا نے بھی اس مجوزہ ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سپریم کورٹ کے اختیارات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
بل کی منظوری کا پس منظر
حکومت کی جانب سے آئین میں 27ویں ترمیم لانے کا منصوبہ تقریباً ایک سال بعد سامنے آیا ہے، جب اکتوبر 2024 میں راتوں رات ہونے والے اجلاس میں 26ویں ترمیم منظور کی گئی تھی۔ اُس وقت تحریکِ انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے سات ارکان کو زبردستی اغوا کرکے حمایت پر مجبور کیا گیا۔
بعد ازاں بھی 26ویں ترمیم متنازع رہی اور عدالتوں میں چیلنج ہوتی رہی، تاہم اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں ایک اور ترمیم — یعنی 27ویں ترمیم — کی بازگشت جاری رہی۔
یہ قیاس آرائیاں اُس وقت ختم ہوئیں جب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے 3 نومبر کو بتایا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ایک وفد نے ترمیم کے لیے پیپلز پارٹی کی حمایت مانگی ہے۔
وفاقی کابینہ نے 8 نومبر کو باکو سے ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے اجلاس میں اس بل کی منظوری دی، جسے بعد میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں نے معمولی ترامیم کے ساتھ منظور کیا۔
10 نومبر کو وزیر قانون نے بل کو سینیٹ میں ووٹنگ کے لیے پیش کیا، جہاں شور شرابے کے باوجود 64 ارکان کی حمایت سے اسے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔ حکومتی اتحاد کو دو اپوزیشن سینیٹروں کی غیر متوقع حمایت بھی حاصل رہی، جنہوں نے اپنی جماعت کی ہدایت کے برعکس ووٹ دیا۔

