ماسکو (مشرق نامہ) – روس نے بھارت کے ساتھ جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کو ایک نئے مرحلے تک وسعت دینے کا عندیہ دیا ہے، جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی سطح پر بڑے پیمانے پر تیاری شامل ہوگی۔ روسی ریاستی جوہری ادارے روس ایٹم (Rosatom) کے سربراہ الیگزی لیکھاچیف نے یہ بات آر ٹی سے گفتگو میں کہی۔
لیکھاچیف نے ممبئی میں بھارت کے محکمہ جوہری توانائی کے چیئرمین اجیت کمار موہنتی سے ملاقات کے بعد کہا کہ دونوں ممالک آئندہ ماہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی متوقع سربراہی ملاقات سے قبل دوطرفہ منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
بھارت نے آئندہ چند دہائیوں میں جوہری توانائی کی پیداوار 10 گیگاواٹ سے بڑھا کر 100 گیگاواٹ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے تحت نئی شراکت داری پر بات چیت جاری ہے۔ اس میں ایک ہزار میگاواٹ یا اس سے زائد استعداد رکھنے والے بڑے منصوبے اور چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز شامل ہیں، جو نئی نسل کے ایسے جوہری ری ایکٹر ہیں جنہیں موقع پر ہی جوڑا جا سکتا ہے۔
لیکھاچیف کے مطابق، روایتی منصوبوں کے علاوہ ہم زمینی اور تیرتے ہوئے چھوٹے جوہری اسٹیشنوں پر بھی بات کر رہے ہیں۔ یہ روس ایٹم کی ایک منفرد مہارت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ روس پچھلے پانچ برسوں سے آرکٹک کے ساحلی شہر پی ویک (Pevek) میں فلوٹنگ نیوکلیئر پاور اسٹیشن ‘اکیڈیمک لومونوسوف’ کامیابی سے چلا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سرد شمالی پانیوں کے ساتھ ساتھ گرم بحرِ ہند میں بھی ایسے منصوبے چلانے کے لیے تیار ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی منصوبہ تیار کیا گیا ہے جسے ’ٹراپیکل ویریئنٹ‘ کہا جاتا ہے، یعنی گرم علاقوں کے لیے موزوں فلوٹنگ نیوکلیئر پاور پلانٹ۔
روس ایٹم کے سربراہ نے کہا کہ ادارہ بھارت میں روسی ٹیکنالوجی کی مقامی سطح پر تیاری (localization) کے امکانات کو نمایاں طور پر بڑھانے کا خواہاں ہے، خاص طور پر چھوٹے منصوبوں میں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ہم اسٹیشن کے آلات، ٹربائن آئلینڈ اور جہاز سازی سے متعلق ٹیکنالوجی اپنے بھارتی شراکت داروں کو منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں، بھارت ایک بحری طاقت ہے اور اسے نہ صرف آپریشن بلکہ اپنے شہری بحری بیڑے کی تعمیر میں بھی خاطرخواہ تجربہ حاصل ہے۔ اس موضوع پر بات چیت جاری ہے.
فی الوقت روس ایٹم بھارتی ریاست تمل ناڈو میں کُڈنکُلم جوہری بجلی گھر کے چار یونٹوں کی تعمیر میں شامل ہے۔ اس پاور پلانٹ کے دو یونٹ، جن کی پیداواری صلاحیت ایک ہزار میگاواٹ فی یونٹ ہے، بالترتیب 2013 اور 2016 میں بھارت کے قومی گرڈ سے منسلک کیے گئے تھے اور وہ ملک کے جنوبی حصوں کو بجلی فراہم کر رہے ہیں، جبکہ مزید چار یونٹس تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔

