ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامی’نسل کشی صرف میڈیا میں رکی ہے‘: جنگ بندی کے ایک ماہ...

’نسل کشی صرف میڈیا میں رکی ہے‘: جنگ بندی کے ایک ماہ بعد بھی غزہ پر روزانہ بمباری جاری

ماہا حسینی – غزہ شہر، مقبوضہ فلسطین

غزہ میں جنگ بندی کو ایک ماہ گزر چکا ہے، مگر منار جندیہ کے لیے کچھ بھی نہیں بدلا۔
غزہ شہر کی رہائشی یہ فلسطینی خاتون 11 اکتوبر کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک دیرالبلح میں بے گھر حالت میں مقیم ہے، کیونکہ اس کا محلہ الشجاعیہ تاحال اسرائیلی قبضے میں ہے۔

جنگ بندی کے دو ہفتے بعد اسرائیلی فوج نے اس علاقے پر شدید بمباری کی جہاں وہ پناہ گزین تھی، جس کے بعد اسے دوبارہ نقل مکانی کرنا پڑی۔ ان حملوں میں اس کی بہن جاں بحق ہوگئی۔

منار نے بتایا کہ میرے بہنوئی جنگ کے آغاز میں ہی مارے گئے تھے، اور میری بہن اپنے بچوں کی اکیلی کفالت کر رہی تھی۔ جب غزہ شہر میں حملے بڑھ گئے اور بار بار انخلا کے احکامات جاری کیے گئے، تو وہ اپنے بچوں کو کھونے کے خوف سے ایک عارضی خیمے میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہیں اس کی موت منتظر ہے، اور اس کے بچے ماں باپ دونوں سے محروم ہو جائیں گے۔

منار جندیہ کا کہنا تھا کہ نسل کشی صرف میڈیا میں رکی ہے، ہمارے لیے یہ اب بھی جاری ہے۔

یہ تجربہ منار کا اکیلا نہیں؛ غزہ کے بیشتر شہریوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جنگ اور اس کے تباہ کن اثرات بدستور جاری ہیں۔

تقریباً ہر روز غزہ کے مختلف علاقوں میں بم دھماکے گھروں کے وسیع حصے تباہ کر دیتے ہیں۔ گولہ باری اور فائرنگ میں لوگ مارے جا رہے ہیں، جبکہ آسمان پر مسلسل ڈرونز منڈلاتے رہتے ہیں جو خوفناک پیغامات نشر کرتے ہیں۔

ادھر، اسرائیلی محاصرے کے باعث خوراک اور ادویات کی قلت شدید تر ہو چکی ہے۔ منار کہتی ہیں،
انہوں نے میڈیا میں کہنا بند کر دیا ہے، مگر حقیقت میں نسل کشی اب بھی جاری ہے۔

مشرقی علاقوں میں دھماکے

منار کے شوہر جنگ کے پہلے سال اس وقت مارے گئے تھے جب اسرائیلی افواج نے امداد کے انتظار میں کھڑے شہریوں پر فائرنگ کر دی تھی، جسے “آٹے کے قتلِ عام” کا نام دیا گیا۔
اب وہ اپنے بچوں اور سسرالی خاندان کے ساتھ مرکزی غزہ کے ایک اسکول میں پناہ گزین ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے پہلے مشرقی دیرالبلح میں پناہ لی تھی۔ جنگ بندی کے بعد سوچا کہ وہیں رہ جائیں، کیونکہ غزہ شہر میں بھی خیمہ ہی نصیب ہوتا، فرق کوئی نہیں۔
مگر بمباری نہ رکی۔
ہر صبح حملے شروع ہو جاتے، کچھ نہیں بدلا۔ ہمیں کبھی بھی محفوظ محسوس نہیں ہوا، لہٰذا دوبارہ غزہ شہر کے مرکز کی طرف لوٹ آئے۔

منار کے مطابق، وہاں بھی وقتاً فوقتاً دھماکے ہوتے رہتے ہیں اور دوبارہ جنگ چھڑنے کا خوف سایہ فگن ہے۔
میں روز کھانے کا ذخیرہ کرنے کی کوشش کرتی ہوں کہ کہیں محاصرہ مزید سخت نہ ہو جائے اور بھوک واپس نہ آ جائے۔ ہر صبح مشرق سے دھماکوں کی آوازیں آتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر دن نئے حملے اور نئے مقتول لاتا ہے۔

جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک 242 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں درجنوں بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل نے جنگ بندی کی دیگر شرائط بھی توڑ دی ہیں، جیسے رفح کراسنگ کی مسلسل بندش، جو شدید زخمیوں کو مصر منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

محاصرہ اب بھی تقریباً برقرار ہے، اور روزانہ اوسطاً صرف 150 امدادی ٹرک داخل ہو رہے ہیں، جب کہ طے شدہ تعداد 600 تھی۔ ان میں سے زیادہ تر غیر ضروری اشیاء پر مشتمل ہیں، جب کہ بنیادی ضروریات بدستور ناپید ہیں۔

خوف پھیلانے کی مہم

روزانہ کی بمباری کے علاوہ، غزہ کے شہریوں کو اسرائیلی ڈرونز کے مسلسل خوف کا سامنا ہے۔
غزہ شہر کے کچھ علاقوں میں یہ ڈرونز شہریوں سے “اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں حوالے کرنے” کے پیغامات نشر کرتے ہیں، یا رات گئے ایمبولینس کے سائرن جیسی خوفناک آوازیں سناتے ہیں۔

30 سالہ انس معین نے بتایا کہ تین دن پہلے آخری بار ڈرون میرے گھر کے اوپر سے گزرا تھا۔ ان کے پیغامات جان بوجھ کر مبہم اور مسخ شدہ لگتے ہیں، جیسے عوام میں دہشت اور اضطراب پھیلانا مقصد ہو۔

ان کے مطابق، یہ ڈرونز جنگ بندی کے دوران بھی رہائشیوں کو یہ باور کرانے کے لیے ہیں کہ فوج ابھی قریب ہے اور سب کچھ ختم نہیں ہوا۔
وہ پیغامات دیتے ہیں جیسے ‘لاشیں حوالے کرو’ یا ‘جنگ بندی کا احترام کرو’، حالانکہ ہم عام شہری ہیں۔ اصل میں وہ ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہم ہر وقت نشانے پر ہیں۔

رہائشیوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں نظر آنے والے ڈرونز پچھلے عام کواڈ کاپٹرز جیسے نہیں، بلکہ RA-01 ماڈل سے مشابہ ہیں — مثلثی شکل کے، نسبتاً بلند پرواز کرنے والے۔

انس معین نے کہا کہ یہ ڈرونز خودکش ڈرونز جیسے لگتے ہیں، مگر یہ پیغامات نشر کر رہے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی بھی لمحے پھٹ سکتے ہیں۔

بے قابو فائرنگ

ڈرون پیغامات کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز حماس کے خلاف اشتعال انگیز پمفلٹ بھی گرائے۔
انس معین کے مطابق، اس کے ساتھ زمینی حملے بھی تیزی سے بڑھ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 19 اکتوبر کو جنگ بندی کی پہلی بڑی خلاف ورزی کے بعد دھماکوں اور فائرنگ کی شدت کئی گنا بڑھ گئی۔ اس روز اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ رفح میں دو فوجی مارے گئے، جس کے بعد اس نے بمباری کی جس میں 100 فلسطینی شہید اور 150 زخمی ہوئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فوج اب بھی غزہ کے اندر گہری موجود ہے۔ میں مرکزی علاقے میں رہتا ہوں، مگر فوجی گاڑیاں میرے گھر سے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔

انس کے مطابق، یہ کبھی کبھار ہونے والے حملے نہیں، بلکہ روز کا معمول بن چکا ہے۔ فضائی بمباری، گولہ باری اور فائرنگ اس قدر شدید ہے کہ پاگل پن جیسی محسوس ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ایک سپاہی پندرہ منٹ تک مسلسل گولی چلاتا رہتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین