بدھ, فروری 11, 2026
ہوممضامینمتحدہ عرب امارات سوڈان کی خونی خانہ جنگی میں کیوں ملوث ہے؟

متحدہ عرب امارات سوڈان کی خونی خانہ جنگی میں کیوں ملوث ہے؟
م

تحریر: ڈینیئل ٹیسٹر

ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کو متحدہ عرب امارات کی پشت پناہی حاصل ہے، جس پر بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے سوڈان کی نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے الفضل شہر پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ویڈیوز میں آر ایس ایف کے جنگجوؤں کو اجتماعی قتل و غارت کرتے دکھایا گیا ہے، جبکہ سیٹلائٹ تصاویر میں زمین پر خون کے وسیع دھبے دیکھے گئے ہیں۔ ییل یونیورسٹی کی ہیومینیٹرین ریسرچ لیب کے نتھینیئل ریمونڈ نے اسے “روانڈا جیسے پیمانے پر اجتماعی نسل کشی” قرار دیا۔

یہ قتلِ عام سوڈان کی خانہ جنگی کا تازہ ترین باب ہے، جو آر ایس ایف اور سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) کے درمیان جاری ہے۔
اس لڑائی نے اپریل 2023 سے اب تک تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔

دونوں فریقین پر سنگین جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔ آر ایس ایف پر قتل عام، عصمت دری اور اذیت کے الزامات لگے ہیں، جبکہ ایس اے ایف پر اندھا دھند فضائی بمباری کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام ہے۔

آر ایس ایف تنہا نہیں ہے — اسے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی عسکری مدد حاصل ہے، جس پر سوڈانی حکومت نے اپریل 2025 میں بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں نسل کشی میں شمولیت کا الزام عائد کیا۔

یہ مضمون وضاحت کرتا ہے کہ متحدہ عرب امارات سوڈان کی خانہ جنگی میں کس طرح اور کیوں ملوث ہے۔

سوڈان میں کیا ہو رہا ہے؟

سوڈان نے 1956 میں برطانیہ اور مصر سے آزادی حاصل کی۔
اس کے بعد عمر حسن البشیر نے 1989 میں منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور تین دہائیوں تک ملک پر حکومت کی۔

بشیر کے دور میں 2003 سے 2005 کے دوران دارفور میں عام شہریوں پر قتل و غارت، عصمت دری اور لوٹ مار کے سنگین واقعات پیش آئے، جن کے باعث بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے ان پر نسل کشی کے الزامات عائد کیے۔

2019 میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں فوج نے بشیر کو ہٹا دیا۔
تاہم اکتوبر 2021 میں فوجی کمانڈر عبدالفتاح البرہان نے ایک اور بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

آر ایس ایف کے سربراہ جنرل محمد حمدان دگالو، جو حمیدتی کے نام سے معروف ہیں، کو ان کا نائب سربراہ مقرر کیا گیا۔

نئی فوجی حکومت نے ایمرجنسی نافذ کی، سویلین رہنماؤں کو گرفتار کیا، احتجاجی تحریکوں کو کچلا اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے۔

2023 میں سوڈان میں کیا ہوا؟

یہ واضح نہیں کہ خانہ جنگی کی ابتدا کس فریق نے پہلے گولی چلانے سے کی۔
البتہ یہ معلوم ہے کہ حمیدتی کی آر ایس ایف اور سوڈانی فوج (ایس اے ایف) کے درمیان آر ایس ایف کو قومی فوج میں ضم کرنے کے معاملے پر کشیدگی بڑھتی جا رہی تھی۔

15 اپریل 2023 کو آر ایس ایف کے دستے برہان کی رہائش گاہ کی جانب بڑھے۔
اس کے بعد ہونے والی جھڑپ نے مکمل خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لی۔
ابتدائی دنوں میں آر ایس ایف نے دارالحکومت خرطوم کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا، جس کے باعث سوڈانی حکومت کو بندرگاہی شہر پورٹ سوڈان منتقل ہونا پڑا۔

دو سال بعد بھی ہزاروں سوڈانی ہلاک ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (OCHA) کے مطابق ڈھائی کروڑ کے قریب افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

شمالی دارفور کا شہر الفضل، سوڈانی فوج کا مغربی علاقے میں آخری مضبوط گڑھ تھا۔
مئی 2024 میں آر ایس ایف کے محاصرے کے دوران دس لاکھ سے زائد شہری شہر کے اندر پھنس گئے۔

اگست 2025 میں اقوام متحدہ کے زیرِ انتظام انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) نے شہر کے باہر بے گھر افراد کے کیمپوں میں قحط کی باضابطہ تصدیق کی۔

یہ شہر 500 دن سے زائد عرصے تک محاصرے میں رہا، یہاں تک کہ گزشتہ ماہ آر ایس ایف نے اس پر قبضہ کر لیا۔

آر ایس ایف کون ہے؟

ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) دراصل جن جاوید ملیشیا سے وجود میں آئی، جو عرب نسل کے جنگجوؤں پر مشتمل ایک گروہ تھا، جسے بشیر حکومت نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں دارفور میں عوامی بغاوتوں کو کچلنے کے لیے تشکیل دیا تھا۔

ان پر قتل عام، تشدد اور عصمت دری جیسے جنگی جرائم کے سنگین الزامات ہیں۔
اس جنگ میں تقریباً 25 لاکھ افراد بے گھر اور 3 لاکھ کے قریب ہلاک ہوئے۔

2013 میں اس گروہ کو باقاعدہ طور پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے نام سے منظم کیا گیا، اور حمیدتی اس کے کمانڈر مقرر ہوئے۔
یوں یہ گروہ بشیر کے اقتدار کے لیے ایک علیحدہ طاقت کے مرکز کے طور پر ابھرا، جسے وہ دیگر سیکیورٹی اداروں کے مقابلے میں توازن کے لیے استعمال کرتا رہا۔

حمیدتی ایک کاروباری ارب پتی بن گئے، جن کے متحدہ عرب امارات سے مالی روابط خصوصاً سونا تجارت کے شعبے میں قائم ہیں۔
2023 میں ان کی دولت کا تخمینہ 7 ارب ڈالر لگایا گیا۔

روایتی طور پر سوڈانی فوج (ایس اے ایف) کا اثر ملک کے مشرقی حصے میں زیادہ ہے، جبکہ آر ایس ایف مغرب میں طاقتور ہے۔

2023 میں دارفور کے علاقے الجنینہ میں آر ایس ایف کے حملوں کے دوران مسالیت برادری کے خلاف قتل عام، عصمت دری اور تشدد کے الزامات لگے — جنہیں نسل کشی قرار دیا گیا۔

اپریل 2024 میں راول والن برگ سینٹر کی آزادانہ تحقیق، جس کی امریکی حکومت نے بھی توثیق کی، نے نتیجہ اخذ کیا کہ آر ایس ایف اور اس کی اتحادی ملیشیائیں مسالیت برادری کے خلاف نسل کشی کر رہی ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے آر ایس ایف کی کس طرح مدد کی ہے؟

سوڈان کی جنگ میں متعدد غیر ملکی طاقتیں ملوث ہیں۔
روس، خاص طور پر ویگنر گروپ کے ذریعے، دونوں فریقوں سے تعلق رکھتا ہے۔
دوسری جانب ترکی اور مصر نے سوڈانی فوج (ایس اے ایف) کی حمایت کی ہے۔

تاہم متحدہ عرب امارات سب سے نمایاں غیر ملکی فریق ہے۔
اگرچہ وہ طویل عرصے تک سوڈان میں کسی مداخلت سے انکار کرتا رہا، مگر اب واضح شواہد سامنے آئے ہیں کہ امارات آر ایس ایف کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے — جو بین الاقوامی اسلحہ پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔

جنگ کے آغاز پر آر ایس ایف کے تقریباً ایک لاکھ جنگجو تھے، جبکہ سوڈانی فوج کے دو لاکھ کے قریب سپاہی تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آر ایس ایف کی طویل مزاحمت دراصل بیرونی حمایت کی مرہونِ منت ہے۔

مڈل ایسٹ آئی نے جنوری 2024 میں رپورٹ کیا تھا کہ امارات آر ایس ایف کو لیبیا، چاڈ، یوگنڈا اور صومالیہ کے نیم خودمختار علاقوں کے ذریعے ایک پیچیدہ سپلائی نیٹ ورک کے توسط سے اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔

جولائی 2024 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی لیک شدہ دستاویزات کے مطابق، آر ایس ایف سے منسلک ایک طیارے کے ملبے سے اماراتی پاسپورٹ برآمد ہوئے۔

مئی 2025 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انکشاف کیا کہ یو اے ای دارفور میں چینی ساختہ جدید ہتھیار بھیج رہا ہے۔
تنظیم کے مطابق ان ہتھیاروں میں چین کی سرکاری کمپنی نوریئنکو گروپ کے تیار کردہ گائیڈڈ بم اور ہووٹزر توپیں شامل تھیں، جنہیں سوڈان میں استعمال ہوتے دیکھا گیا۔

اکتوبر 2025 میں امریکی خفیہ اداروں نے بھی اطلاع دی کہ یو اے ای آر ایس ایف کو چینی ساختہ ڈرونز اور دیگر جدید ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

امارات کے سوڈان میں دو اڈے ہیں — نایالہ (جنوبی دارفور) اور الملحہ (الفاشر سے 200 کلومیٹر دور) — جنہیں سپلائی اور انٹیلیجنس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ بوساسو (صومالیہ) میں بھی ایک اڈہ ہے، جہاں سے کولمبیائی کرائے کے فوجی، نقل و حمل کے طیارے اور سامان منتقل کیا جاتا ہے۔

تو متحدہ عرب امارات کیوں ملوث ہے؟

امارات نے بشیر کے 30 سالہ اقتدار کے آخری برسوں میں سوڈان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی۔
2015 کے بعد، دسیوں ہزار سوڈانی فوجی سعودی-اماراتی اتحاد کے ساتھ یمن کی جنگ میں شریک رہے۔

لیکن جب بشیر داخلی دباؤ کا شکار ہوا، تو امارات نے اس کی مالی مدد اور رسد بند کر دی۔
اماراتی حکام قطر کی ناکہ بندی پر بشیر کے موقف اور سیاسی اسلام سے اس کے روابط سے ناراض تھے۔

آج سوڈان، امارات کے لیے بحیرہ احمر اور مشرقی افریقہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا میدان بن چکا ہے۔

یو اے ای کے سوڈان میں زرعی اور معدنی وسائل میں وسیع مفادات ہیں — خاص طور پر سونا، جو ابھی تک مکمل طور پر دریافت نہیں ہوا۔
اپنی تیل پر انحصار کم کرنے کی پالیسی کے تحت، امارات سونے کی عالمی تجارت کا مرکز بن چکا ہے۔

آر ایس ایف کے نیٹ ورکس ان برآمدات کے تحفظ اور نقل و حرکت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
حمیدتی اور ان کے خاندان کی ملکیت میں ایک سونا کمپنی ہے، جو 2017 میں آر ایس ایف کے زیرِ قبضہ زمینوں پر کام کر رہی ہے۔
ان کا سب سے چھوٹا بھائی الگوینی دگالو امارات میں مقیم تاجر ہے۔

امارات کے سوڈان میں زرعی منصوبے بھی پھیلے ہوئے ہیں۔
خلیجی خطے میں خوراک کی سلامتی کے خدشات کے باعث، یو اے ای نے سوڈان کو ایک زرعی شراکت دار کے طور پر ترقی دی ہے۔

امارات کی سب سے بڑی فہرست شدہ کمپنی انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (IHC) اور جنان انویسٹمنٹ گروپ سوڈان میں 50,000 ہیکٹر سے زائد زمین پر کاشت کرتے ہیں۔

امارات نے بحیرہ احمر پر بندرگاہی منصوبوں میں بھی توسیع کی ہے۔
یہ خطہ عالمی کنٹینر تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ سنبھالتا ہے۔

مغربی کمپنیاں یو اے ای کی بندرگاہی کمپنی ڈی پی ورلڈ سے مسابقت کر رہی ہیں۔
امارات نے سوڈان کے ساحلی علاقے ابو اما مہ میں 8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی تھی، مگر نومبر 2024 میں خانہ جنگی کے دوران معاہدہ منسوخ ہو گیا۔

امارات کی سوڈانی فوج کے خلاف مخالفت کو بعض مبصرین نظریاتی قرار دیتے ہیں، کیونکہ فوج کے اندر اسلامی سیاسی دھڑوں سے تاریخی روابط موجود ہیں۔

دنیا نے سوڈان میں امارات کے کردار پر کیا ردعمل دیا؟

دنیا کی جانب سے ردعمل انتہائی سست رہا۔
نومبر 2023 میں جب سوڈانی فوج نے پہلی بار امارات پر آر ایس ایف کو اسلحہ دینے کا الزام لگایا، تو بین الاقوامی برادری نے فوری کارروائی نہیں کی۔

مئی 2025 میں بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) نے سوڈان کا امارات کے خلاف مقدمہ مسترد کر دیا،
یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ عدالت کے پاس دائرۂ اختیار نہیں کیونکہ یو اے ای نے 2005 میں نسل کشی کے مقدمات کے حوالے سے معاہدے سے استثنیٰ حاصل کر رکھا تھا۔

امارات نے اپنے اتحادیوں پر بھی دباؤ ڈالا۔
اپریل 2024 میں، برطانیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سوڈان کے مسئلے پر امارات کا دفاع نہ کرنے پر،
یو اے ای نے برطانوی وزیروں سے ملاقاتیں منسوخ کر دیں۔

دو ماہ بعد، گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی حکام نے افریقی سفارت کاروں کو ہدایت دی کہ وہ سوڈان میں امارات کے کردار پر بات نہ کریں۔

جنوری 2025 میں برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے چاڈ-سوڈان سرحد کا دورہ کیا اور صورتِ حال کو "دنیا کا سب سے بڑا انسانی المیہ” قرار دیا۔
تاہم واپسی پر انہوں نے پارلیمنٹ میں امارات کے کردار سے متعلق سوالات سے گریز کیا۔

گارڈین کی ایک اور رپورٹ کے مطابق، برطانوی حکومت نے آر ایس ایف کے ساتھ خفیہ مذاکرات بھی کیے ہیں،
اور یہ انکشاف کیا کہ آر ایس ایف کے پاس برطانوی ساختہ فوجی ساز و سامان بھی موجود ہے۔

اپریل 2025 میں لندن میں سوڈان بحران پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی۔
امارات کو مدعو کیا گیا، لیکن سوڈانی فوجی حکومت — جو برہان کی زیرِ قیادت ہے — کو نہیں بلایا گیا، جس سے اسے شدید غصہ ہوا۔

یہ کانفرنس سفارتی ناکامی ثابت ہوئی،
کیونکہ آر ایس ایف نے اسی دوران الفاشر پر حملہ کیا اور ایک متوازی حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا۔

اجلاس کا مقصد جنگ بندی کے لیے رابطہ گروپ قائم کرنا تھا،
مگر مصر، سعودی عرب اور امارات کے درمیان اختلافات کے باعث یہ مقصد حاصل نہ ہو سکا۔

ستمبر 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصر، سعودی عرب اور امارات کے اشتراک سے ایک امن منصوبہ پیش کیا،
جس میں تین ماہ کی انسانی فائر بندی، اس کے بعد مستقل جنگ بندی اور سول حکومت کی بحالی کی تجویز دی گئی۔

ادھر اسرائیل نے بھی امارات کے ساتھ مل کر سوڈانی فوج پر تنقید کی۔
31 اکتوبر کو، الفاشر میں آر ایس ایف کے قتل عام کے چند دن بعد،
اسرائیلی حکومت کے سرکاری عربی اکاؤنٹ نے ایک پوسٹ میں سوڈانی فوج (ایس اے ایف) کا تقابل مسلم برادری اور حماس سے کیا.

مقبول مضامین

مقبول مضامین