ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیسوڈان میں 70 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے

سوڈان میں 70 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے
س

خرطوم (مشرق نامہ) – سوڈان کے وزیر برائے انسانی وسائل و سماجی بہبود متعاصم احمد صالح نے بتایا ہے کہ اپریل 2023 میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے ملک میں غربت کی شرح تین گنا سے زائد بڑھ گئی ہے۔

خرطوم میں ہفتہ کو ایک پریس بریفنگ کے دوران وزیر نے کہا کہ تقریباً دو کروڑ تیس لاکھ سوڈانی شہری اب خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے مطابق سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 21 فیصد سے بڑھ کر 71 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے اس شدید معاشی زوال کو سوڈانی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان جاری تنازع کا نتیجہ قرار دیا۔ وزیر نے کہا کہ حکومت روزگار کے مواقع بڑھانے اور پیداواری شعبوں کی بحالی کے لیے ترقیاتی منصوبوں کو وسعت دے گی، جبکہ مقامی پیدا کنندگان کے لیے مالی سہولتوں کو زیادہ قابلِ رسائی بنانے کے لیے اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔

جاری خانہ جنگی نے مقامی معیشتوں کو تباہ کر دیا ہے اور لاکھوں افراد کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔

26 اکتوبر کو ریپڈ سپورٹ فورسز نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر اور فوج کی چھٹی انفنٹری ڈویژن کے ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کر لیا ہے۔ بعد ازاں سوڈان ڈاکٹرز یونین نے بتایا کہ ملیشیا کے داخلے کے ابتدائی چند گھنٹوں میں کم از کم 2,200 افراد ہلاک اور تقریباً 3,90,000 بے گھر ہو گئے۔

ایک اور تنظیم سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک کے مطابق شہر میں بگڑتے حالات کے باعث خوراک کی شدید قلت سے روزانہ کم از کم تین بچوں کی اموات ہو رہی ہیں۔

نومبر میں انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ستمبر تک تقریباً 2 کروڑ 12 لاکھ افراد — جو ملک کی آبادی کا 45 فیصد بنتے ہیں — شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار تھے، بالخصوص الفاشر اور کادُقُلی کے علاقوں میں۔

عالمی بینک کے مطابق، جون میں طے شدہ نیا عالمی معیار یہ ہے کہ کم آمدنی والے ممالک میں انتہائی غربت کی حد تین امریکی ڈالر یومیہ فی کس مقرر کی گئی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین