ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیلبنان پر ممکنہ جنگ سے قبل اسرائیلی فوج میں افرادی قلت

لبنان پر ممکنہ جنگ سے قبل اسرائیلی فوج میں افرادی قلت
ل

مقبوضہ فلسطین (مشرق نامہ) – اسرائیلی فوج اس وقت سنگین افرادی قلت کا سامنا کر رہی ہے اور رپورٹوں کے مطابق وہ 12 ہزار نئے فوجیوں کی بھرتی کا منصوبہ بنا رہی ہے، جن میں سے 7 ہزار کو جنگی یونٹس میں تعینات کیا جائے گا۔ یہ اقدام لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے ساتھ ممکنہ تصادم کی تیاریوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وائی نیٹ ویب سائٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج کے پلاننگ اینڈ پرسنل ایڈمنسٹریشن ڈویژن کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل شائی طیّب نے کنیسٹ (پارلیمان) کی ذیلی کمیٹی کو بتایا کہ فوج کو لازمی طور پر بھرتی کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ہوگا تاکہ افرادی قلت پر قابو پایا جا سکے۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ جنوری 2027 تک فوجی اہلکاروں کی تعداد میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ ان کے بقول، آئندہ پانچ برسوں میں ہمیں فوجی سروس کے لیے 36 ماہ کی مدت اور سالانہ 70 دن کے ریزرو ڈیوٹی نظام کی تیاری کرنا ہوگی۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب تل ابیب نے لبنانی فوج (LAF) سے مطالبہ کیا کہ وہ جنوبی لبنان میں گھر گھر تلاشی کے ذریعے حزب اللہ کے ہتھیار ضبط کرے۔ تاہم لبنانی فوج نے اس مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے پیر کے روز لبنانی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل نے لبنان کی فوج پر حزب اللہ کے خلاف زیادہ سخت رویہ اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے، جس میں جنوبی علاقوں میں نجی مکانات کی تلاشی بھی شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق لبنانی فوج نے اس درخواست کو رد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات ملک میں خانہ جنگی کو بھڑکا سکتے ہیں اور عوام انہیں ’’اسرائیل کی تابعداری‘‘ کے طور پر دیکھیں گے۔ ایک لبنانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا، وہ ہم سے گھر گھر تلاشی کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور ہم یہ نہیں کریں گے۔

یہ مطالبہ اُس جنگ بندی میکانزم کے ذریعے پہنچایا گیا جو واشنگٹن، تل ابیب، بیروت، پیرس اور اقوام متحدہ کی امن فورس (یونیفیل) کے درمیان رابطے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ تاہم لبنانی فوج کے انکار کے بعد اسرائیلی فضائی حملوں اور سرحد پار جارحیت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

لبنانی سکیورٹی اور حکومتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ پیر کے روز اسرائیلی فضائی حملے میں حزب اللہ کے ایک کمانڈر، سمیر علی فقیہ، کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی ڈرون نے جنوبی لبنان کے سرافند-بیساریہ شاہراہ پر ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی (NNA) نے بھی تصدیق کی کہ سمیر علی فقیہ اسرائیلی ڈرون حملے میں جاں بحق ہوئے۔

لبنانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے پیر کے روز جنوبی اور مشرقی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر تقریباً 20 فضائی حملے کیے اور مجموعی طور پر 40 فضائی میزائل داغے۔

دوسری جانب حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے نائب سربراہ محمود قماطی نے پیر کے روز اپنے بیان میں مزاحمتی تحریک کے ہتھیاروں کے دفاع کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان کے ہتھیار لبنان کے وجود اور طاقت کی ضمانت ہیں اور یہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک مؤثر دفاعی ڈھال کا کردار ادا کرتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین