مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – ایپل اور واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ دنیا بھر کے صارفین کو، بشمول امریکہ، اس وقت متنبہ کرتے رہیں گے جب حکومتی ادارے ان کے خلاف جاسوسی کے آلات استعمال کریں۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب دو متنازعہ اسرائیلی کمپنیوں، این ایس او گروپ اور پیراگون سولوشنز، نے ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکی اداروں تک اپنی رسائی بڑھانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
پیراگون سولوشنز، جو ’’گرافائٹ‘‘ نامی اسپائی ویئر تیار کرتی ہے، نے ستمبر میں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ساتھ دو ملین ڈالر مالیت کا معاہدہ کیا، جو اس وقت ممکن ہوا جب محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اس منصوبے پر عائد پابندی اٹھا لی۔
ایپل اور واٹس ایپ دونوں نے عالمی سطح پر اسپائی ویئر کے پھیلاؤ کے خلاف سخت موقف اختیار کر رکھا ہے اور انہوں نے اٹلی، اسپین، بھارت اور دیگر ممالک میں ایسے افراد کو خبردار کیا جن کے آلات ہیکنگ کی زد میں آئے۔
ایپل نے گارڈین کو جاری بیان میں کہا کہ ہمارے خطرے سے آگاہی نوٹیفکیشنز ان صارفین کو مطلع کرنے کے لیے ہیں جنہیں تجارتی جاسوسی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہو، اور ان کے مقام کا اس عمل سے کوئی تعلق نہیں۔
واٹس ایپ نے اپنے علیحدہ بیان میں کہا کہ واٹس ایپ کی اولین ترجیح صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، تاکہ تجارتی جاسوسی کی کوششوں کو روکا جا سکے، حفاظتی پرتوں میں اضافہ کیا جا سکے اور متاثرہ صارفین کو آگاہ کیا جا سکے، خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں۔
ایپل اور واٹس ایپ کی بنیادی کمپنی میٹا کے ماضی میں ٹرمپ انتظامیہ سے قریبی تعلقات رہے ہیں، جس پر یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر امریکی صارفین کو بھی اسپائی ویئر کا نشانہ بنایا گیا تو یہ کمپنیاں کس حد تک مزاحمت کر پائیں گی۔
ٹرمپ کے اتحادی این ایس او گروپ کی واپسی
این ایس او گروپ طویل عرصے سے عالمی سطح پر متنازعہ رہا ہے کیونکہ اس کا تیار کردہ ’’پیگاسس‘‘ اسپائی ویئر کسی بھی ہدف کے موبائل فون کی مکمل نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 2021 میں بائیڈن انتظامیہ نے کمپنی پر قومی سلامتی کے خلاف کارروائی کا الزام لگاتے ہوئے پابندیاں عائد کی تھیں۔
تاہم اب کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ سابق امریکی سفیر برائے اسرائیل، ڈیوڈ فریڈمین، نئی ہولڈنگ کمپنی کے ایگزیکٹو چیئرمین ہوں گے۔ کمپنی حال ہی میں امریکی سرمایہ کاروں کے ایک گروپ کے زیرِ انتظام آگئی ہے جن میں معروف ہالی ووڈ پروڈیوسر رابرٹ سائمونڈز بھی شامل ہیں۔
فریڈمین سے جب پوچھا گیا کہ کیا کمپنی پابندیوں کے خاتمے کے لیے کوشش کرے گی تو انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے یہ جلد ممکن ہوگا، تاہم فی الحال ہم نے ایسی کوئی درخواست نہیں دی اور مزید کہا کہ اس معاملے پر ان کی ٹرمپ سے کوئی بات نہیں ہوئی۔
اٹلی میں شہری و صحافتی حلقے گرافائٹ اسپائی ویئر کی زد میں
پیراگون سولوشنز نے بائیڈن دور میں 2024 میں ICE کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، مگر 2023 کے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت اسپائی ویئر کے جائزے کے دوران یہ معاہدہ عارضی طور پر منجمد کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ کی منظوری کے بعد ICE کو دوبارہ اس ٹیکنالوجی تک رسائی دے دی گئی۔
پیراگون کو جنوری 2025 میں اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب واٹس ایپ نے انکشاف کیا کہ 90 افراد، بشمول صحافیوں اور سماجی کارکنوں، کو ’’گرافائٹ‘‘ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ اس انکشاف کے بعد کمپنی نے اطالوی حکومت کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کر دیا اور شرائط کی خلاف ورزیوں کو جواز قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ اسپائی ویئر صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، کاروباری شخصیات اور حتیٰ کہ سیاسی مشیروں کو بھی نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوا۔ اطالوی حکومت نے محدود پیمانے پر نگرانی کی تصدیق کی مگر وسیع پیمانے پر الزامات کی ذمہ داری سے انکار کیا۔
سابق اطالوی وزیراعظم ماتیو رینزی نے اسے ’’اطالوی واٹرگیٹ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اگر حکومت اس جاسوسی کو تسلیم نہیں کرتی تو سوال یہ ہے کہ پھر یہ کام کس نے کیا؟
امریکہ میں نگرانی کی ٹیکنالوجی پر تشویش
امریکی سول رائٹس تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ICE جیسا ادارہ اسپائی ویئر کا استعمال کرتا ہے تو شہری آزادیوں کے سنگین خدشات پیدا ہوں گے۔ سینیٹر رون وائڈن نے گارڈین سے گفتگو میں کہا کہ ICE پہلے ہی قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بے گناہ بچوں اور خاندانوں کو قید میں ڈال رہا ہے۔ اب اگر اسے اسپائی ویئر اور چہرہ شناسی جیسی ٹیکنالوجیز تک رسائی دی گئی تو شہریوں کے حقوق مکمل طور پر پامال ہو جائیں گے۔
سِٹیزن لیب کے سینئر محقق جان اسکاٹ ریلٹن کے مطابق امریکہ کے ادارے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں۔ نہ اسپتال، نہ وکلا و جج، نہ سیاست دان، اور نہ عام شہری — کوئی بھی محفوظ نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ وقت ایسا نہیں جب امریکہ ایک خاموش اسپائی ویئر وبا برداشت کر سکے۔

