ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیشام کا داعش مخالف امریکی اتحاد میں شمولیت کا اعلان

شام کا داعش مخالف امریکی اتحاد میں شمولیت کا اعلان
ش

دمشق (مشرق نامہ) – شام نے امریکی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد دہشت گرد گروہ داعش (ISIL) کے خلاف کارروائیوں کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ اعلان شام کے وزیرِ اطلاعات حمزہ المصطفیٰ اور امریکی حکام کی جانب سے اُس وقت کیا گیا جب شامی صدر احمد الشراع پیر کے روز واشنگٹن پہنچے اور وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا خیرمقدم کیا۔

حمزہ المصطفیٰ نے بتایا کہ دمشق کی جانب سے اتحاد کے ساتھ دستخط کیا گیا ’’سیاسی تعاون کا اعلامیہ‘‘ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ شام ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خطے کے استحکام‘‘ کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ فی الحال صرف سیاسی نوعیت کا ہے اور اس میں کسی عسکری تعاون کی شق شامل نہیں ہے۔

اس معاہدے کے بعد شام داعش مخالف اتحاد میں شامل ہونے والا 90واں ملک بن گیا ہے۔ اتحاد کا مقصد غیر ملکی جنگجوؤں کی داعش میں شمولیت کو روکنا اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود تنظیم کے باقی ماندہ نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔

یہ پیش رفت متوقع تھی۔ شام کی وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ صدر الشراع کے دورۂ امریکہ سے قبل ملک بھر میں داعش کے سیلز کے خلاف پیشگی کارروائیاں کی گئی ہیں۔

سرکاری نشریاتی ادارے الاخباریہ ٹی وی کے مطابق شامی سکیورٹی فورسز نے 61 چھاپے مار کر 71 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جبکہ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ ضبط کیا گیا۔

پیر کے روز خبر رساں ادارے رائٹرز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دو حکام کے حوالے سے بتایا کہ شام نے صدر الشراع کے قتل کے دو منصوبے ناکام بنا دیے ہیں۔ ان حکام کے مطابق یہ منصوبے گزشتہ چند ماہ میں بے نقاب کیے گئے جو ظاہر کرتے ہیں کہ 14 سالہ خانہ جنگی سے تباہ حال ملک میں اقتدار مستحکم کرنے کی کوششوں کے دوران صدر الشراع کو براہِ راست خطرات لاحق ہیں۔

صدر الشراع کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے سراہا اور شام پر عائد امریکی پابندیوں میں چھ ماہ کی عارضی معطلی کا اعلان کیا۔

43 سالہ احمد الشراع نے دسمبر میں ایک تیز رفتار مسلح مہم کے ذریعے سابق صدر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ وہ ماضی میں مسلح تنظیم ’’حیات تحریر الشام‘‘ کے سربراہ رہ چکے ہیں جو القاعدہ کی اتحادی تھی۔ انہیں گزشتہ ہفتے واشنگٹن کی ’’دہشت گردوں کی فہرست‘‘ سے خارج کیا گیا اور ان کے سر کی قیمت کے طور پر مقرر 10 ملین ڈالر کا انعام بھی منسوخ کر دیا گیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین