تحریر: علی زراعَت پیشہ
امریکہ میں اوپیائی (Opioid) بحران جدید تاریخ کے بدترین عوامی صحت کے المیوں میں سے ایک ہے، جو ہر سال لاکھوں اموات کا سبب بن رہا ہے۔
یہ بحران اُن منشیاتی ادویات کے غلط استعمال سے جڑا ہے جن میں نسخے سے ملنے والے درد کم کرنے والے اجزا جیسے Oxycodone اور Hydrocodone، غیر قانونی ہیروئن، اور مصنوعی منشیات جیسے Fentanyl شامل ہیں۔
امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے مطابق، 2023 میں 1,07,000 سے زائد امریکی منشیات کے زیادہ استعمال سے ہلاک ہوئے، جن میں تقریباً تین چوتھائی اموات اوپیائی ادویات کے باعث ہوئیں۔
ہر روز اوسطاً 290 افراد اوپیائی ادویات کے زیادہ استعمال سے جان گنوا بیٹھتے ہیں۔ Fentanyl، جو ہیروئن سے پچاس گنا زیادہ طاقتور ہے، ان اموات کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے، اور اکثر جعلی نسخہ جاتی گولیوں یا گلی کی منشیات میں پایا جاتا ہے۔
یہ بحران امریکہ کے کئی علاقوں کو تباہ کر چکا ہے۔ اپالیشیا، مڈ ویسٹ اور نیو انگلینڈ کے قصبے نشے اور موت کے مراکز بن گئے ہیں۔ اسپتالوں میں رش بڑھ چکا ہے جبکہ ہزاروں بچے اپنے والدین کو منشیات کے باعث کھو کر سرکاری کفالت کے نظام میں پہنچ چکے ہیں۔
امریکی محکمہ صحت (HHS) کے مطابق، اس وقت 25 لاکھ سے زیادہ امریکی اوپیائی لت میں مبتلا ہیں، تاہم علاج اب بھی مہنگا، نایاب اور سماجی بدنامی کا شکار ہے۔
معاشی نقصان بھی تباہ کن ہے۔ یہ بحران امریکہ کی معیشت سے ہر سال 500 ارب ڈالر سے زیادہ نچوڑ رہا ہے۔
اوپیائی بحران کا آغاز کیسے ہوا؟
اس بحران کی جڑیں بیسویں صدی کے اواخر میں ملتی ہیں، جب امریکی طب میں ایک بڑی تبدیلی اور دوا ساز کمپنیوں کے منافع پر مبنی عزائم نے مل کر تباہ کن اثرات پیدا کیے۔
طویل عرصے تک ڈاکٹرز اوپیائی ادویات صرف شدید یا جان لیوا امراض کے لیے دیتے تھے۔ مگر 1990 کی دہائی میں نئی طبی سوچ اور کارپوریٹ دباؤ نے درد کے علاج کا تصور بدل دیا۔
ایک نظریہ سامنے آیا — "درد بطور پانچواں حیاتیاتی اشارہ”۔ اس سے قبل صرف جسمانی درجہ حرارت، نبض، سانس کی رفتار اور بلڈ پریشر کو حیاتیاتی اشاریے مانا جاتا تھا۔ 1990 کی دہائی میں امریکن پین سوسائٹی (APP) اور ویٹرنز ہیلتھ ایڈمنسٹریشن (VHA) نے مطالبہ کیا کہ درد کو بھی اسی درجہ دیا جائے۔ ہسپتالوں میں "سمائیلی فیس” چارٹس متعارف ہوئے اور ڈاکٹرز پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ مریض کے درد کو ہر حال میں کم کریں۔
اسی موقع پر دوا ساز کمپنیوں نے منافع کا نیا بازار دیکھا۔ Purdue Pharma نے 1996 میں OxyContin متعارف کرایا، یہ کہہ کر کہ اس کا "سلو ریلیز” فارمولا نشہ پیدا نہیں کرے گا۔ پھر کمپنی نے طبی تاریخ کی سب سے بڑی مارکیٹنگ مہم چلائی، ہزاروں نمائندوں کو بھیج کر ڈاکٹروں کو یقین دلایا کہ اوپیائی ادویات محفوظ ہیں۔
1999 سے 2010 تک امریکہ میں اوپیائی ادویات کے نسخوں کی تعداد چار گنا بڑھ گئی، حالانکہ عوام میں درد کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا۔ نتیجتاً، پورے ملک میں نشہ تیزی سے پھیل گیا۔
جب حکومت نے آخرکار ان ادویات پر پابندیاں لگائیں، تب تک لاکھوں لوگ عادی ہو چکے تھے اور انہوں نے ہیروئن کی طرف رخ کر لیا۔ بعدازاں Fentanyl آیا — زیادہ طاقتور اور مہلک — جس نے بحران کو ایک نئی ہلاکت خیز سطح تک پہنچا دیا۔
بڑی دوا ساز کمپنیوں کا کردار
Purdue کے بعد Johnson & Johnson, Teva اور Endo International جیسی کمپنیوں نے بھی منافع کی دوڑ میں شمولیت اختیار کی۔ سب نے یہی جھوٹا دعویٰ دہرایا کہ ان کی ادویات محفوظ ہیں اور ان سے نشہ پیدا نہیں ہوتا۔
ان کمپنیوں نے طبی شعبے کو تجارتی مفادات سے آلودہ کیا — کانفرنسز کی اسپانسرشپ، جعلی تحقیقی مقالوں کی فنڈنگ، اور ڈاکٹروں کو مالی ترغیبات دے کر من گھڑت سائنسی حقائق کو عام کیا گیا۔
تقسیم کار کمپنیاں — McKesson, AmerisourceBergen, Cardinal Health — نے اربوں گولیاں چھوٹے قصبوں میں بھیجیں، بغیر اس کے کہ مشکوک آرڈرز پر کوئی نگرانی کی جائے۔
ایک مثال کے مطابق، ویسٹ ورجینیا کے ایک قصبے، جس کی آبادی صرف 400 تھی، کو دو برس میں 90 لاکھ اوپیائی گولیاں بھیجی گئیں۔
سرکاری ادارے بھی ناکام رہے۔ FDA نے گمراہ کن لیبلز کے ساتھ ادویات کی فروخت کی اجازت دی، جبکہ DEA نے لائسنس اور کوٹہ جاری رکھے، حالانکہ اموات بڑھ رہی تھیں۔ تحقیقات کے انتباہات کو نظرانداز کیا گیا اور کارپوریٹ لابنگ نے ضوابط کو کمزور رکھا۔
جب حقیقت چھپ نہ سکی تو ہزاروں مقدمات سامنے آئے۔ بیشتر کمپنیوں نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کیا، محدود معاوضے دیے اور نئے ناموں سے کاروبار شروع کر دیا۔
امریکی معاشرے پر اثرات
1999 سے اب تک 11 لاکھ سے زائد امریکی منشیات کے زیادہ استعمال سے ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر اموات اوپیائی ادویات سے جڑی ہیں۔ بے شمار خاندان برباد ہو گئے۔
ویسٹ ورجینیا، اوہائیو اور کینٹکی کے کئی اضلاع میں نسل در نسل افراد اس عادت میں مبتلا ہیں۔ والدین کے مرنے کے بعد ہزاروں بچے سرکاری کفالت میں چلے گئے — صرف 2000 سے 2025 کے درمیان ایسے بچوں کی تعداد دوگنی ہو گئی۔
اقتصادی طور پر بھی تباہی عیاں ہے۔ ان علاقوں میں جہاں پہلے ہی صنعتی زوال تھا، نشہ نے بچا کھچا نظام بھی نگل لیا۔
کونسل آف اکنامک ایڈوائزرز (CEA) کے مطابق، 2019 میں اوپیائی بحران امریکی معیشت کو سالانہ 700 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہا تھا۔
دیہی اسپتال عملے اور وسائل کی کمی کے باعث دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ شہروں کے ایمرجنسی وارڈ بھرے ہوئے ہیں۔ علاج اب بھی عام شہری کی پہنچ سے دور ہے۔
منشیات کے استعمال سے جڑی سماجی بدنامی علاج کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اور حکومتی فنڈنگ ناکافی ہے۔
یہ بحران امریکی سماجی و سیاسی منظرنامے کو بھی بدل چکا ہے۔ عوامی اداروں پر اعتماد کم ہوا اور امریکی منشیات پالیسی میں نسل پرستی کی دوہری سوچ بے نقاب ہوئی۔
1980 کی دہائی میں جب "کریک کوکین” بحران نے سیاہ فام برادریوں کو متاثر کیا تو ریاست نے جیلیں بھریں، مگر جب اوپیائی بحران نے سفید فام مزدور طبقے کو تباہ کیا، تو حکومت نے اچانک اسے "صحت کا مسئلہ” قرار دے دیا۔
ٹرمپ حکومت کا سیاسی استحصال
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں اوپیائی بحران کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، خوف اور غلط معلومات کے ذریعے اپنی بنیاد مضبوط کرنے کی کوشش کی، بجائے اس کے کہ اس وبا کے اسباب کا علاج کرتے۔
ٹرمپ اور ان کے مشیر مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے کہ Fentanyl کا زیادہ تر بہاؤ چین اور میکسیکو سے ہو رہا ہے۔ مگر امریکی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 90 فیصد Fentanyl امریکی شہریوں کے ذریعے اسمگل کیا جاتا ہے، غیر قانونی تارکین وطن کے ذریعے نہیں۔
اگرچہ کچھ کیمیائی اجزا چین سے آتے ہیں، مگر DEA کے مطابق زیادہ تر Fentanyl امریکہ کے اندر ہی تیار ہوتا ہے۔ واشنگٹن کے یہ الزامات محض سیاسی ہیں تاکہ امریکی دوا ساز کمپنیوں اور اندرونی پالیسی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
حکومتی اقدامات بھی اسی بیانیے کے مطابق ہیں۔ جولائی 2025 میں "ہالٹ فینٹانائل ایکٹ” منظور کیا گیا جس نے پولیس کے اختیارات بڑھا دیے اور معمولی جرم پر بھی سخت سزائیں عائد کیں، جبکہ بحالی اور علاج کے پروگراموں کے فنڈز میں 12 فیصد کٹوتی کر دی گئی، جس سے 1.5 لاکھ متاثرہ افراد امداد سے محروم ہو گئے۔
ماہرین کے مطابق، یہ پالیسیاں ریگن دور کی "وار آن ڈرگز” کی بازگشت ہیں — جو غریب اور اقلیتی طبقات کو سزا دیتی ہیں، مگر اموات کو کم نہیں کرتیں۔

