ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیامریکہ نے روس کی مذمت سے گریز پر بنگلادیشی حکومت کو نشانہ...

امریکہ نے روس کی مذمت سے گریز پر بنگلادیشی حکومت کو نشانہ بنایا، سابق وزیر
ا

ڈھاکہ (مشرق نامہ) – سابق وفاقی وزیر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محب الحسن چودھری نے کہا ہے کہ بنگلادیش کی جانب سے یوکرین تنازع میں روس کی مذمت سے گریز، وہ بنیادی وجوہات میں سے ایک تھی جن کی بنا پر امریکہ نے وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کو ہٹانے کی کوشش کی۔

انہوں نے آر ٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے میں امریکی ادارے یو ایس ایڈ (USAID) اور کلنٹن خاندان سے منسلک فنڈز نے براہِ راست کردار ادا کیا۔

شیخ حسینہ، جو پندرہ برس تک بنگلادیش کی وزیراعظم رہیں، اگست 2024 میں ملک چھوڑ کر فرار ہوئیں۔ یہ اقدام ان پُرتشدد طلبہ احتجاجوں کے بعد سامنے آیا جن میں مختلف اندازوں کے مطابق سات سو افراد جان کی بازی ہار گئے۔

چودھری، جو اس وقت بنگلادیش کے وزیرِ جہاز رانی کے عہدے پر فائز تھے، بحران کے دوران ڈھاکا حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکراتی رابطوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔ اس کے بعد سے ملک ایک عبوری حکومت کے زیرِ انتظام ہے جس نے 2026 میں عام انتخابات کرانے کا وعدہ کیا ہے۔

محب الحسن چودھری نے آر ٹی کو پیر کے روز نشر ہونے والے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ یہ بغاوت دراصل اُن غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے منظم کی گئی تھی جو یو ایس ایڈ اور کلنٹن فیملی سے وابستہ تھیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ واشنگٹن کو شیخ حسینہ کی حکومت سے کیا اختلاف تھا، تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ اختلاف بنگلادیش کے اُس موقف سے شروع ہوا جو روس۔یوکرین تنازع کے دوران اختیار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ میں ایک قرارداد پیش کی گئی تھی اور بنگلادیش پر روس کے خلاف ووٹ ڈالنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا تھا، لیکن ہمارا مؤقف یہ تھا کہ ہم ووٹنگ سے غیر حاضر رہیں گے۔

چودھری کے مطابق، جنوبی ایشیا کے بہت سے ممالک "اندھی تقلید میں وہی کر رہے تھے جو ان سے کہا جا رہا تھا،” لیکن بنگلادیش کو "اپنے بین الاقوامی تعلقات کو متوازن رکھنے کی ضرورت تھی۔”

انہوں نے وضاحت کی کہ روس بنگلادیش کا طویل المدتی اتحادی ہے، جو ملک کو گندم، خوراکی اجناس اور کھاد کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سابق وزیر نے مزید کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع سے سب سے زیادہ نقصان عالمی جنوب کے عوام کو پہنچا ہے، جسے "کچھ طاقتوں کے ہاتھوں مزید بھڑکایا جا رہا ہے۔”

ان کے مطابق، حسینہ حکومت نے "امن کی اپیل کی تھی” اور واضح کیا تھا کہ جنگ پسندی انسانیت کے لیے تباہی کا باعث بن رہی ہے، لیکن "یہ بات کچھ ممالک کو پسند نہیں آئی۔”

یاد رہے کہ بنگلادیش نے 2022 اور 2023 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں روس کے خلاف پیش کی جانے والی متعدد قراردادوں پر ووٹنگ سے اجتناب کیا تھا، جن میں ماسکو کی مذمت اور روسی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس موقف پر روسی سفارت خانے نے ڈھاکا حکومت کا شکریہ ادا کیا تھا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین