ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیشامی صدر احمد الشرع کا امریکہ کا سرکاری دورہ

شامی صدر احمد الشرع کا امریکہ کا سرکاری دورہ
ش

دمشق (مشرق نامہ) – شامی صدر احمد الشرع سرکاری دورے پر امریکہ پہنچ گئے ہیں، جہاں واشنگٹن حکومت امید کر رہی ہے کہ دمشق کو داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں شامل کیا جائے گا۔

شامی سرکاری میڈیا کے مطابق، صدر الشرع ہفتہ کی شب امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی پہنچے، اسی دوران شام کی وزارتِ داخلہ نے پورے ملک میں داعش کے سیلز کے خلاف ایک "وسیع پیمانے کی سیکیورٹی کارروائی” کے آغاز کا اعلان کیا۔

صدر الشرع، جن کی باغی افواج نے گزشتہ سال طویل عرصے تک برسراقتدار رہنے والے بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ ماہرین کے مطابق، یہ شام کی آزادی کے بعد 1946 سے کسی شامی صدر کا پہلا سرکاری دورۂ امریکہ ہے۔

الشرع، جو مئی میں ریاض میں صدر ٹرمپ سے پہلی بار ملے تھے، کو جمعہ کے روز امریکہ کی "دہشت گردی کی فہرست” سے خارج کر دیا گیا۔

امریکہ کے شام کے لیے نمائندہ ٹام بیرک نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ امید ہے الشرع امریکہ کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط کریں گے۔

ادھر رائٹرز اور اے ایف پی کے مطابق، واشنگٹن دمشق میں ایک فوجی اڈہ قائم کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ شام اور اسرائیل کے درمیان ایک سیکیورٹی معاہدے کو ممکن بنایا جا سکے۔ تاہم شامی خبر رساں ایجنسی سانا نے وزارتِ خارجہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔

الشرع اپنے دورے کے دوران شام کی تعمیرِ نو کے لیے مالی امداد حاصل کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ عالمی بینک کے مطابق، 13 سالہ خانہ جنگی کے بعد ملک کی بحالی پر کم از کم 216 ارب ڈالر لاگت آئے گی، جسے اس نے ایک "محتاط تخمینہ” قرار دیا ہے۔

احمد الشرع ماضی میں شام میں القاعدہ سے منسلک تنظیم کے سربراہ رہے ہیں، تاہم ان کے گروہ نے ایک دہائی قبل القاعدہ سے علیحدگی اختیار کی اور بعد میں داعش کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ان کی تنظیم تحریر الشام کو امریکہ نے رواں سال جولائی میں دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا تھا۔

الشرع کا یہ دورہ اقوام متحدہ میں ان کی ستمبر میں کی جانے والی تاریخی تقریر کے بعد ہو رہا ہے، جو ان کا امریکی سرزمین پر پہلا قیام تھا۔ وہ کئی دہائیوں بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے پہلے شامی صدر بنے۔

جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کی قیادت میں ان پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے حق میں ووٹنگ بھی کی گئی۔

دمشق میں سرکاری میڈیا نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ شامی سیکیورٹی فورسز نے داعش کے خلاف ملک بھر میں 61 چھاپے مارے، جن کے دوران کم از کم 71 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد برآمد ہوا۔

سانا کے مطابق، یہ کارروائیاں حلب، ادلب، حماہ، حمص اور دمشق کے دیہی علاقوں میں کی گئیں اور وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ یہ مہم "دہشت گردی کے خاتمے اور عوامی سلامتی کے تحفظ کے لیے جاری قومی کوششوں” کا حصہ ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین