بغداد (مشرق نامہ) – عراق میں 2025 کے پارلیمانی انتخابات کے خصوصی ووٹنگ مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں سیکیورٹی اور فوجی اہلکار، عوامی مزاحمتی فورس (الحشد الشعبی) اور کرد پیشمرگہ فورسز شامل ہیں۔
المیادین کے مطابق بغداد میں تعینات نامہ نگار نے بتایا کہ اتوار کی صبح سے عراق کی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار خصوصی ووٹنگ کے لیے مقرر کردہ الیکٹرانک مراکز پر پہنچنا شروع ہو گئے۔ اس مرحلے میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ دفاع، انسدادِ دہشت گردی فورس، سرحدی اداروں، کردستان کی وزارتِ داخلہ، کرد پیشمرگہ فورس اور عوامی مزاحمتی فورس کے اہلکار شامل ہیں۔
عراقی آزاد اعلیٰ الیکشن کمیشن کے مطابق، اس مرحلے میں ووٹ ڈالنے کے اہل 13 لاکھ 13 ہزار 980 ووٹرز ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
سرحدی اتھارٹی کے 1,596 اہلکار
وزارتِ داخلہ کے 5,97,453 اہلکار
وزارتِ دفاع کے 2,98,054 اہلکار
انسدادِ دہشت گردی سروس کے 18,410 اہلکار
کردستان کی وزارتِ داخلہ کے 1,24,312 اہلکار
کرد پیشمرگہ وزارت کے 1,45,907 اہلکار
عوامی مزاحمتی فورس (الحشد الشعبی) کے 1,28,127 اہلکار
نگرانی، ٹرن آؤٹ اور سیکیورٹی انتظامات
المیادین کے مطابق ووٹنگ کے تمام مراکز میں عمل کو مکمل شفافیت کے لیے آڈیو و ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا ہے، جبکہ ووٹنگ کے دوران سیکیورٹی فورسز اپنی ذمہ داریاں بھی معمول کے مطابق انجام دے رہی ہیں۔
بیلٹ بکس شام 6 بجے بند کر دیے جائیں گے، اور اس کے بعد ڈالے گئے ووٹ کالعدم تصور ہوں گے۔
اربیل میں المیادین کے نامہ نگار کے مطابق دن بھر ووٹر ٹرن آؤٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، تاہم مجموعی طور پر عمل شفاف اور منظم انداز میں جاری ہے، اور اب تک سیکیورٹی یا انتظامی سطح پر کسی مسئلے کی اطلاع نہیں ملی۔
عراقی وزیرِ داخلہ عبد الامیر الشمری نے تصدیق کی کہ خصوصی ووٹنگ بغداد سمیت تمام صوبوں میں پرسکون اور منظم انداز میں جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹرز کو مرحلہ وار انداز میں افسران اور کمانڈرز کی نگرانی میں پولنگ مراکز تک پہنچایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام پولنگ مراکز میں سیکیورٹی کی صورتِ حال مکمل طور پر قابو میں ہے، جبکہ مختلف سیکیورٹی اداروں، پولنگ سپروائزرز اور الیکشن کمیشن کے درمیان مربوط تعاون یقینی بنایا گیا ہے۔

