مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر، جو کبھی ملک کی اقتصادی ترقی اور روزگار پیدا کرنے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا، حالیہ برسوں میں سنگین سست روی کا شکار ہے۔ نجی سرمایہ کاری میں گزشتہ چھ سالوں میں 46 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے، جس سے صنعتی ماہرین اور معیشت دانوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے کہ پیداوار اور ویلیو ایڈیشن میں یہ رکاؤٹ ملک کی طویل مدتی ترقی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر ایگزیکٹو کمیٹی ممبر، علی عمران آصف کے مطابق نجی سرمایہ کاری مالی سال 2018-19 میں 706 ارب روپے سے گھٹ کر 2024-25 میں 377 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ دہائی کی سب سے کم سرمایہ کاری کی سطح ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ سرمایہ کاری کی سطح بڑی صنعتوں میں مشینری اور اثاثوں کی قدر میں کمی کو پورا کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے، جس سے سیکٹر کی کل پیداواری صلاحیت میں ممکنہ کمی ظاہر ہوتی ہے۔ صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف وقتی سست روی نہیں بلکہ پاکستان کی صنعتی بنیاد میں زوال ہے۔ پالیسی کی غیر یقینی صورتحال، کم سرمایہ کار اعتماد، بلند سود کی شرح، اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت نے سرمایہ کاری کو مزید متاثر کیا ہے۔
برآمدی صنعتیں جیسے ٹیکسٹائل، چمڑا اور انجینئرنگ کی مصنوعات عالمی مقابلے میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ بڑے صنعتی شعبے کی پیداوار مالی سال 2024-25 میں 1.5 فیصد کم ہوئی، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں بالترتیب 4 فیصد اور تقریباً 4 فیصد صنعتی ترقی ہوئی۔ ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ملک کی صنعتی بحالی کے لیے فوری اقدامات اور پالیسی میں استحکام ضروری ہیں تاکہ سرمایہ کار اعتماد بحال ہو اور بڑی صنعتیں دوبارہ ترقی کا انجن بن سکیں۔

