اسلام آباد(مشرق نامہ): پاکستان پیپلز پارٹی کے مطالبے پر آئین میں 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں ایک نئی شق شامل کی گئی ہے، جس کے تحت صدرِ مملکت کو تاحیات گرفتاری اور مقدمات سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا — یعنی ان کے خلاف دورِ صدارت کے دوران یا بعد میں کوئی مقدمہ درج یا کارروائی نہیں کی جا سکے گی۔
ذرائع کے مطابق یہ شق ہفتے کے روز پارلیمانی کمیٹی میں مشاورت کے دوران شامل کی گئی۔ اس کے تحت آرٹیکل 248 میں ترمیم کرتے ہوئے صدر کے لیے استثنیٰ کو مستقل حیثیت دے دی گئی ہے، جبکہ گورنرز کے لیے یہ تحفظ صرف ان کے عہدے کی مدت تک محدود رہے گا۔
ترمیم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ “کسی عدالت کا کوئی فیصلہ صدر کے خلاف لاگو نہیں ہوگا” اور کوئی عدالت صدر کی گرفتاری یا قید کا حکم جاری نہیں کر سکے گی۔
فوجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی
ترمیمی بل کے مطابق، آرٹیکل 243 میں تبدیلی کرکے مسلح افواج کی کمان ایک ہی عہدے کے تحت مرکوز کی جائے گی۔
اس کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے “چیف آف ڈیفنس فورسز” کے نیا منصب تخلیق کیا جا رہا ہے، جو چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ بیک وقت یہ ذمہ داری بھی نبھائے گا۔
بل کے مطابق، 27 نومبر 2025 سے چیئرمین جوائنٹ چیفس کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا۔
مزید یہ کہ جو افسر فیلڈ مارشل، ایئر مارشل یا ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدے پر ترقی پائیں گے، انہیں عمر بھر وردی، مراعات اور آئینی تحفظ حاصل رہے گا۔
وفاقی آئینی عدالت کا قیام
بل میں ایک نئی وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جو آئین کے باب ہفتم (Part VII) میں ایک نئے باب کے طور پر شامل کی جائے گی۔
یہ عدالت وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان آئینی تنازعات کا فیصلہ کرے گی اور بنیادی حقوق سے متعلق درخواستیں بھی سنے گی۔
وفاقی آئینی عدالت میں چیف جسٹس اور مساوی صوبائی نمائندگی رکھنے والے جج شامل ہوں گے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال ہوگی جبکہ چیف جسٹس کی مدتِ ملازمت 3 سال مقرر کی گئی ہے۔
ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے زیرِ سماعت آئینی مقدمات اس نئی عدالت میں منتقل ہو جائیں گے۔
عدالتی نظام میں بڑی اصلاحات
ترمیم میں آرٹیکل 175A میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، جس کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیلِ نو کی جائے گی۔
اب کمیشن میں سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے چیف جسٹسز، سینئر ججز اور ایک مشترکہ نامزد جج شامل ہوں گے۔
سب سے سینئر چیف جسٹس کمیشن کی صدارت کرے گا۔
سپریم کورٹ کے اختیارات میں کمی
بل میں ایک تاریخی تبدیلی یہ بھی شامل ہے کہ آرٹیکل 184 (سوموٹو اختیارات) کو آئین سے حذف کر دیا جائے گا، یعنی سپریم کورٹ اب ازخود نوٹس نہیں لے سکے گی۔
اسی طرح آرٹیکل 186 (صدر کا مشاورتی اختیار) اور 191A بھی ختم کر دیے جائیں گے، جس سے سپریم کورٹ کا دائرہ کار صرف عدالتی نوعیت تک محدود ہو جائے گا۔
ہائی کورٹ ججز کی منتقلی کا اختیار
ترمیم میں آرٹیکل 200 کے تحت صدر کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر صوبوں کے درمیان ججز کی منتقلی کر سکیں۔
اگر کوئی جج تبادلہ قبول نہیں کرتا تو اسے ریٹائرڈ تصور کیا جائے گا۔
یہ 27ویں آئینی ترمیمی بل — جو کابینہ کی منظوری کے بعد سینیٹ میں پیش کیا گیا — پاکستان کے سیاسی، عدالتی اور عسکری ڈھانچے میں انتہائی وسیع اور دور رس تبدیلیاں متعارف کرانے کی راہ ہموار کرتا ہے۔

