ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومپاکستانپاکستانی پاسپورٹ اسرائیل کیلئے بدستور ناقابلِ استعمال

پاکستانی پاسپورٹ اسرائیل کیلئے بدستور ناقابلِ استعمال
پ

اسلام آباد(مشرق نامہ):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں جمعرات کو پاکستانی پاسپورٹ کے نئے ڈیزائن سے متعلق افواہوں اور سینیٹرز کے آن لائن فراڈ کا شکار ہونے کے انکشافات سامنے آئے۔

اجلاس کی صدارت سینیٹر فیصل سلیم نے کی۔ کمیٹی میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی اس افواہ پر بحث ہوئی کہ پاکستان نے اپنے پاسپورٹ سے وہ عبارت ہٹا دی ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ “یہ پاسپورٹ تمام ممالک کے لیے قابلِ استعمال ہے سوائے اسرائیل کے۔”

ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس نے واضح کیا کہ پاسپورٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی — صرف سکیورٹی خصوصیات کو بہتر بنایا گیا ہے، جبکہ اسرائیل سے متعلق شق جوں کی توں برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا ڈیزائن دستاویز کی سکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے ہے، نہ کہ کسی سیاسی مؤقف میں تبدیلی کے لیے۔

اجلاس کے دوران کئی سینیٹرز نے بتایا کہ وہ آن لائن فراڈ کا شکار ہوئے ہیں۔ سینیٹر بلال مندوخیل، سیف اللہ ابڑو، دلاور خان اور فلق ناز چترالی نے بتایا کہ ان سے 5 سے 8.5 لاکھ روپے تک کی رقم جعلسازوں نے لوٹ لی۔

سینیٹر چترالی نے بتایا کہ ایک جعلساز نے خود کو کونسلنگ سینٹر کا نمائندہ ظاہر کر کے ان سے رقم لی اور ان کے خاندان کی تفصیلات بھی جانتا تھا، لیکن شکایت کے باوجود نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے کوئی گرفتاری نہیں کی۔

چیئرمین کمیٹی نے سندھ اور بلوچستان کے پولیس سربراہان کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ آئندہ اجلاس میں شریک نہ ہوئے تو کمیٹی خود فیصلہ کرے گی۔

ڈی جی این سی سی آئی اے خرم علی نے بتایا کہ ڈیٹا لیکس سے متعلق کئی مقدمات درج ہو چکے ہیں، ایک ملزم گرفتار کیا گیا ہے، اور ٹیلی کام کمپنیوں کا آڈٹ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ آئندہ چھ ماہ میں مکمل طور پر فعال ہو جائے گا اور نئے عملے کی بھرتی سے کارکردگی بہتر بنائی جائے گی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین