خیبر(مشرق نامہ):پاکستان اور افغانستان کے درمیان مصروف ترین تجارتی گزرگاہ تورخم بارڈر مسلسل 26ویں روز بدھ کو بھی تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند رہا، جس سے دوطرفہ تجارت بری طرح متاثر ہوئی اور ہزاروں مال بردار ٹرک دونوں اطراف پھنس گئے۔
کسٹمز حکام کے مطابق، بارڈر کی بندش کے باعث کئی کلومیٹر طویل ٹرکوں کی قطاریں لگ گئی ہیں جبکہ درآمدات، برآمدات اور ٹرانزٹ سامان مختلف مقامات پر رُکا ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق تورخم کے ذریعے یومیہ تقریباً 85 کروڑ روپے مالیت کی تجارت ہوتی ہے، جن میں پاکستان کی برآمدات 58 کروڑ روپے اور افغانستان سے درآمدات 25 کروڑ روپے تک ہوتی ہیں۔ حکومت اس سرگرمی سے روزانہ 5 کروڑ روپے کسٹمز ریونیو حاصل کرتی ہے۔
ادھر، تین روز قبل بارڈر کو غیر دستاویزی افغان شہریوں کی واپسی کے لیے جزوی طور پر کھولا گیا تھا، جس کے بعد ہزاروں افغان مہاجرین اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ تجارت کی طویل معطلی سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو نقصان پہنچے گا اور سرحدی علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق، صرف 2025 میں اب تک پانچ لاکھ افغان پاکستان سے واپس جا چکے ہیں۔

