ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ میں اقوامِ متحدہ کے اسکول پناہ گاہوں میں تبدیل

غزہ میں اقوامِ متحدہ کے اسکول پناہ گاہوں میں تبدیل
غ

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – غزہ کے اسکولوں میں دو سال کی تباہ کن اسرائیلی جنگ کے بعد زندگی کے آثار آہستہ آہستہ بحال ہو رہے ہیں، جس نے فلسطینی علاقے کی روزمرہ زندگی کے ڈھانچے کو چکناچور کر دیا تھا — گھروں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو ملبے میں بدل دیا۔

امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کو چار ہفتے گزر چکے ہیں، تاہم اسرائیلی بمباری اور امداد کی ترسیل پر سخت پابندیوں کے درمیان فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ریلیف ایجنسی (UNRWA) غزہ میں اسکول دوبارہ کھولنے کے عمل میں مصروف ہے۔

اکتوبر 2023 سے اب تک تین لاکھ سے زائد طلبہ رسمی تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ ایجنسی کے 97 فیصد تعلیمی ادارے جنگ کے دوران تباہ یا جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ جو عمارتیں کبھی تعلیم کے مراکز تھیں، اب سیکڑوں بے گھر خاندانوں کی پناہ گاہ بن چکی ہیں۔

الجزیرہ کے نامہ نگار طارق ابو عظوم نے وسطی شہر دیر البلح سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ کئی خاندان ان کلاس رومز میں مقیم ہیں جہاں بچے اپنی کھوئی ہوئی تعلیم دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فلسطینی طالبہ انعام المغاری نے بتایا کہ اسرائیلی جنگ نے ان کی تعلیم پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ وہ دو برس سے اسکول سے دور رہی ہیں، دوسری اور تیسری جماعت مکمل نہیں کر سکیں، اور اب چوتھی جماعت میں ہیں مگر محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ نہیں جانتیں۔ انعام نے مزید بتایا کہ آج وہ میزوں کے بجائے گدے لے کر آئیں تاکہ انہی پر بیٹھ کر پڑھ سکیں۔

یو این آر ڈبلیو اے کی رابطہ افسر ایناس حمدان کے مطابق ادارہ آئندہ ہفتوں میں اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایجنسی غزہ میں 62 ہزار سے زائد طلبہ کے لیے عارضی اور محفوظ تعلیمی مراکز کے ذریعے براہِ راست تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ 67 اسکولوں میں موجود پناہ گزینوں کے درمیان ان سرگرمیوں کو بڑھانے پر کام جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تین لاکھ طلبہ کے لیے آن لائن تعلیم بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

ایک بے گھر خاتون، ام محمود، نے بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان ہفتے میں تین دن وہ کمرا خالی کر دیتے ہیں جہاں وہ رہ رہے ہوتے ہیں تاکہ بچوں کو پڑھنے کا موقع مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم ناگزیر ہے، اسی لیے ہم ترجیح دیتے ہیں کہ بچے پڑھ سکیں، امید ہے حالات بہتر ہوں گے اور تعلیم کا معیار بحال ہوگا۔

غزہ میں جاری جنگ نے بچوں پر شدید نفسیاتی اثرات ڈالے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق 80 فیصد سے زائد بچے شدید ذہنی صدمے کی علامات ظاہر کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کا اندازہ ہے کہ لڑائی کے دوران 64 ہزار سے زائد بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
یونیسیف کے مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈور بیگبیڈر کے مطابق، غزہ کے دس لاکھ بچے روزانہ زندہ رہنے کی اذیت ناک جدوجہد میں مبتلا ہیں — یہ دنیا میں بچوں کے لیے سب سے خطرناک مقام بن چکا ہے، جہاں ہر بچہ خوف، محرومی اور دکھ کے زخم لیے جی رہا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین