ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیبیروت میں عرب نیشنل کانفرنس کا مزاحمتی تحریکوں کے مرکزی کردار پر...

بیروت میں عرب نیشنل کانفرنس کا مزاحمتی تحریکوں کے مرکزی کردار پر زور
ب

بیروت (مشرق نامہ) – بیروت میں منعقدہ 34ویں عرب نیشنل کانفرنس میں 250 سے زائد عرب شخصیات نے شرکت کی، جہاں مقررین نے فلسطینی اور لبنانی مزاحمت کے ہتھیار اتارنے کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت ہی خطے کی بقا اور آزادی کا بنیادی ذریعہ ہے۔

شرکاء نے عرب اتحاد کے تحفظ اور سیاسی، مذہبی یا جغرافیائی تقسیم کی ہر شکل کو رد کرنے پر زور دیا۔

باشور: مزاحمت ہی قوم کی بیداری کی بنیاد

عرب نیشنل فورم کے بانی اور صدر معان باشور نے کہا کہ مزاحمت کا نظریہ قوم کی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد ہے، اور یہ صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی، ثقافتی اور سماجی جدوجہد کا ڈھانچہ ہے جو حقوق اور خودمختاری کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

صباحی: شکست خوردہ ذہنیت کو چیلنج کرنا ہوگا

عرب نیشنل کانفرنس کے سیکریٹری جنرل حمدین صباحی نے کہا کہ موجودہ مرحلے میں سب سے بڑی ترجیح اس پروپیگنڈے کو رد کرنا ہے کہ عرب دنیا شکست کھا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں قوم نے جیت حاصل کی ہے، اور فلسطین کی آزادی کا دن قریب ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب "قلم، آواز اور تصویر کا کردار ہتھیار کی طرح اہم ہے، کیونکہ یہ جدوجہد ہمہ جہتی ہے۔” صباحی نے فلسطینی اور لبنانی مزاحمت کے ہتھیار اتارنے کے تمام مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہتھیار "قوم کی عزت و وقار” کی علامت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عملی جدوجہد میں عوامی شرکت ہی خطے کے مستقبل کا تعین کرے گی، اور آپریشن طوفان الاقصیٰ نے ثابت کیا کہ تقسیم اور معمول کے تعلقات کے منصوبے ناکام ہو گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیو یارک کے میئر کے طور پر زوہران ممدانی کا انتخاب عالمی رائے عامہ میں فلسطین کے حق میں ایک نئے رجحان کی علامت ہے۔

الخیا: طوفان الاقصیٰ نے فلسطین کو مرکز میں لوٹا دیا

حماس کے رہنما خلیل الحیا نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ فلسطینی مسئلے کو مٹانے کی کوششوں کے جواب میں آیا۔ ان کے مطابق سات اکتوبر وہ لمحہ تھا جب پوری امت غزہ کے لیے یکجا ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ غزہ آج زخمی ہے مگر سر بلند کھڑا ہے۔ فلسطین اپنے مردوں، عورتوں اور بچوں سمیت ظلم کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گا، اور ناانصافی کا خاتمہ یقینی ہے۔

النخالہ: غزہ نے بین الاقوامی اتحاد کا مقابلہ کیا

اسلامی جہاد کے سیکریٹری جنرل زیاد النخالہ نے کہا کہ غزہ نے امریکہ کی قیادت میں ایک بین الاقوامی اتحاد کا مقابلہ کیا، اور آج حالات اسرائیلی قبضے کے قابو سے باہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس جنگ سے اپنے ہتھیاروں سمیت نکلے ہیں، اور تمام مزاحمتی گروہ متحد رہے۔ النخالہ نے ایران، لبنان، یمن، مصر اور قطر کا شکریہ ادا کیا اور خبردار کیا کہ مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کے خلاف حقیقی جنگ جاری ہے۔

مزہر: مزاحمت کے عزم کی تجدید
فلسطین کی عوامی محاذ برائے آزادی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل جمیل مزہر نے کہا کہ یہ اجتماع فلسطینی عوام پر سرپرستی اور آبادیاتی تبدیلی کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دشمن اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنی جدوجہد کے عہد کو دہرانے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ قبضے کے ٹینک اگر دمشق کے قریب ہیں تو بھی جنگ جاری ہے۔

مزہر نے زور دیا کہ اب نعرے نہیں بلکہ عملی اقدامات کا وقت ہے۔ انہوں نے عرب لیگ پر زور دیا کہ وہ فلسطینی مفاہمت اور سیاسی تنظیم نو کی سرپرستی کرے۔

الموسوی: مزاحمت ہی مستقبل کی معمار ہے

حزب اللہ کے عرب و بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ عمار الموسوی نے کہا کہ حزب اللہ نے غزہ کے محاذ میں شرکت اس مقدس اور جائز جدوجہد پر ایمان” کے تحت کی ہے، اور "ہمیں اپنے فیصلے پر کوئی پشیمانی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ لبنانی حکومت کے بعض فیصلے عرب و مغربی دباؤ کے نتیجے میں کیے گئے ہیں، مگر مزاحمت جس نے اپنے شہید قائدین پیش کیے، آج بھی نئے قائد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور یہی مزاحمت فلسطین سے لبنان تک مستقبل تشکیل دے گی۔

الموسوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ "اسرائیلی قبضے کے ہر جنگی جرم میں شریک ہیں۔ انہوں نے یمن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "غزہ کے دفاع میں یمن نے جو کیا، وہ اخلاقی فریضہ ہے جو تمام عرب و مسلم اقوام پر عائد ہوتا ہے۔

السید الحوثی: حمایت کے محاذوں کا کلیدی کردار

انصاراللہ کے رہنما سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں حمایت کے محاذوں کا کردار فیصلہ کن رہا۔ حزب اللہ نے اپنی ثابت قدمی اور قربانیوں سے قیادت کا کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل "طاقت کے اصول” کو مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور لبنان کو اس کی دفاعی صلاحیتوں سے محروم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ غزہ پر مکمل قبضہ کیا جا سکے۔

سید الحوثی نے انکشاف کیا کہ یمن سے 1830 فوجی کارروائیاں کی گئیں جن میں بیلسٹک و کروز میزائل، ڈرون اور بحری آپریشن شامل ہیں۔ ان کے مطابق "228 اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بندرگاہ اُم الرشراش دو سال تک بند رہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی جارحیت کے خلاف 22 MQ-9 طیارے مار گرائے گئے، اور انصاراللہ کی افواج نے پانچ امریکی طیارہ بردار جہازوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔

ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے یمن پر اب تک تقریباً تین ہزار فضائی حملے کیے جا چکے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین