ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیشمالی کوریا کا امریکی وزیر دفاع کے دورے کے بعد میزائل تجربہ

شمالی کوریا کا امریکی وزیر دفاع کے دورے کے بعد میزائل تجربہ
ش

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق، شمالی کوریا نے مشرقی سمندر (جسے جاپان کا سمندر بھی کہا جاتا ہے) کی جانب کم از کم ایک بیلسٹک میزائل داغا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ جنوبی کوریا کے سالانہ سیکیورٹی مذاکرات کے لیے دورے پر موجود تھے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے جمعے کو تصدیق کی کہ میزائل مختصر فاصلے کا تھا، جو تقریباً 700 کلومیٹر تک پرواز کر کے مشرقی سمندر میں گرا۔ جاپانی حکومت نے بھی تصدیق کی کہ شمالی کوریا نے میزائل فائر کیا، جو غالباً جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر گرا ہے۔

یہ تازہ تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل جنوبی کوریا نے الزام لگایا تھا کہ پیونگ یانگ نے مغربی سمندری حدود میں 10 توپ کے گولے فائر کیے، اور ایک ہفتہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیول کو جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز بنانے کی اجازت دی تھی۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام جنوبی کوریا کی بحری اور دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ ایک صدارتی اہلکار نے بتایا کہ جنوبی کوریا امریکہ سے افزودہ یورینیم حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے مقامی طور پر تیار کی جانے والی جوہری آبدوز کے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

رواں سال کے آغاز میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے صدر ٹرمپ اور جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے خواہاں ہیں۔ تاہم کم جونگ اُن نے 2019 میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد سے واشنگٹن اور سیول سے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے گریز کیا ہے۔

ستمبر میں کم جونگ اُن نے کہا تھا کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ امریکہ پیونگ یانگ سے جوہری ہتھیار ترک کرنے کا مطالبہ واپس لے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا ایک "ناقابلِ واپسی ایٹمی ریاست” ہے۔

گزشتہ ماہ کم جونگ اُن نے پیونگ یانگ میں منعقدہ ایک بڑے فوجی پریڈ میں شرکت کی، جس میں روس اور چین کے اعلیٰ سطحی حکام بھی شریک تھے۔ اس موقع پر شمالی کوریا کے جدید ترین ہتھیاروں، بشمول ایک نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی نمائش کی گئی۔

اس ہفتے شمالی کوریا اور روسی فوجی حکام نے پیونگ یانگ میں ملاقات کی تاکہ عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق، کورین پیپلز آرمی کے جنرل پولیٹیکل بیورو کے نائب ڈائریکٹر پاک یونگ اِل نے روسی نائب وزیر دفاع وکٹر گوریمیکن کی سربراہی میں آنے والے وفد سے ملاقات کی۔

کے سی این اے نے بتایا کہ دونوں اتحادیوں نے تعلقات کو وسعت دینے پر بات کی، جو کم جونگ اُن اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان طے پانے والے "گہرے دوطرفہ تعلقات” کے فریم ورک کا حصہ ہے۔

اسی دوران جنوبی کوریا کی انٹیلیجنس سروس نے کہا ہے کہ اس نے شمالی کوریا میں ممکنہ بھرتی اور تربیتی سرگرمیوں کا پتہ لگایا ہے، جو ممکنہ طور پر روس کو مزید فوجی بھیجنے کی تیاری کی علامت ہو سکتی ہیں۔

سیول کے مطابق، اب تک شمالی کوریا تقریباً 15 ہزار فوجی روس بھیج چکا ہے جو یوکرین کی جنگ میں مدد فراہم کر رہے ہیں، اور ان میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
مزید یہ کہ قومی انٹیلیجنس سروس کا کہنا ہے کہ کم جونگ اُن نے ستمبر سے اب تک تقریباً 5 ہزار تعمیراتی فوجی بھی روس روانہ کیے ہیں جو وہاں انفراسٹرکچر کی بحالی کے منصوبوں میں مدد کر رہے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین