تحریر: آندریاس کریگ
ال فاشر کا سقوط نہ صرف مغربی سوڈان کے نقشے کو دوبارہ ترتیب دے چکا ہے بلکہ ایک ایسی حقیقت کو بھی واضح کر گیا ہے جو ابو ظہبی کی حکمتِ عملی پر گہری نظر رکھنے والوں کے لیے طویل عرصے سے عیاں تھی: جب متحدہ عرب امارات کی قیادت کو چیلنج کیا جاتا ہے تو وہ پیچھے نہیں ہٹتی۔
گزشتہ دو برسوں سے تنقید اور منفی میڈیا کوریج کے باوجود، جو سوڈان میں امارات کی کھلی اور خفیہ مداخلتوں سے متعلق تھی، ابو ظہبی نے اپنے موقف میں مزید سختی اختیار کی ہے۔ اس کا بنیادی حلیف — ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) — اب دارفور کے لاجسٹک مرکز پر قابض ہے، اور اس کے ساتھ وہ طاقت کا ایک ایسا مرکز رکھتا ہے جس سے سونا حاصل کیا جا سکتا ہے، سرحد پار راستوں سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے اور پڑوسی ممالک کے خلاف دباؤ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ نتیجہ محض میدانِ جنگ کی قسمت نہیں، بلکہ ابو ظہبی کے طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے — ایک ایسا طرز جو جارحیت، مبینہ توہین کا بدلہ لینے اور وقت کے ساتھ اثرورسوخ بڑھانے کو ترجیح دیتا ہے۔
عملیت پسندی، تکنوکریٹک معنی میں، اماراتی طرزِ سیاست میں کم اہم ہے۔ اصل مقصد غالب آنا ہے۔ محمد بن زاید کے دورِ حکمرانی میں پچھلے پندرہ سالوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امارات کے لیے سوال یہ نہیں کہ وہ کسی دارالحکومت پر قابض ہوتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ کہ وہ اپنے مخالفین کو فیصلہ کن فتح سے روک سکے، گزرگاہوں اور منڈیوں تک اپنی رسائی کو مستحکم رکھے، اور خبروں کے دباؤ سے زیادہ دیر تک زندہ رہے۔ یمن اور لیبیا اس کے واضح نمونے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یہ عام تاثر کہ متحدہ عرب امارات “استحکام کا خواہاں ہے”، اکثر گمراہ کن ثابت ہوتا ہے۔ درحقیقت، ابو ظہبی مکّیاؤیلی انداز میں صرف فائدہ چاہتا ہے۔
اماراتی قیادت کا یہ انداز بالکل لین دین پر مبنی ہے، اور اعلیٰ سطح پر انتہائی شخصی نوعیت رکھتا ہے۔ صدر محمد بن زاید — جو اس پالیسی کے معمار ہیں — خود کو ایک ایسے اسٹریٹیجسٹ کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے نزدیک باز deterrence اور ساکھ reputation ایک دوسرے سے جدا نہیں۔
پیچھے ہٹنا ان کے نزدیک کمزوری کی علامت ہے، جبکہ تصعید (escalation) شرائط کو ازسرِ نو طے کرنے کا طریقہ۔ عرب بہار کے بعد سے محمد بن زاید کا اصول ہمیشہ یہی رہا ہے: مقامی قوتوں کو اماراتی لاجسٹکس اور مالی نظام سے جوڑنا، اطاعت پر انعام دینا، غداری پر سزا دینا، اور متعدد اتحادی پیدا کرنا تاکہ مذاکرات کی ہر میز پر اپنی نشست برقرار رکھی جا سکے۔
ساکھ کی قیمت
اس طرزِ سیاست کو بعض ماہرین “weaponised interdependence” یعنی ہتھیار بنائی گئی باہمی انحصار کہتے ہیں۔
گزشتہ دہائی میں متحدہ عرب امارات نے بندرگاہوں، آزاد تجارتی زونز، فضائی مراکز، تجارتی کمپنیوں اور مالیاتی خدمات کا ایک ایسا نیٹ ورک قائم کیا ہے جو بحیرہ احمر سے ساحل تک، اور بحیرہ روم کی گہرائیوں تک پھیلا ہوا ہے — ایک ایسا کثیرالجہتی ڈھانچہ جو علیحدگی پسند قوتوں سے جڑا ہوا ہے۔
یہ مادی و مالی راستے ان کمپنیوں اور نجی اداروں کے جال سے منسلک ہیں جو ریاستی سرپرستی کے تحت کام کرتے ہیں اور پیسہ، سامان اور افرادی قوت کو تیزی سے اور گمنامی میں منتقل کر سکتے ہیں۔ جب ابو ظہبی کسی فریق کی پشت پناہی کرتا ہے تو وہ صرف رقم یا اسلحہ نہیں دیتا، بلکہ اسے اپنے معاشی و لاجسٹک نظام کے دروازے کھول دیتا ہے۔ جب تک یہ راستے کھلے رہیں، وقت ابو ظہبی کے حق میں رہتا ہے۔
سوڈان اس ماڈل کو کھول کر سامنے لاتا ہے۔
امارات نے کئی سطحوں پر سرمایہ کاری کی ہے۔
اگر مقصد “جیتنا” ہے تو سوڈان میں “جیت” کی نئی تعریف یہ بن سکتی ہے کہ بدترین نتائج سے بچتے ہوئے یہ ثابت کیا جائے کہ اماراتی اثر و رسوخ کسی بھی تصفیے کے لیے ناگزیر ہے۔
امارات نے سوڈان کی سویلین شخصیات سے بھی روابط رکھے ہیں جو مستقبل میں تکنوکریٹ حکومت کا چہرہ بن سکتی ہیں۔
اس نے سوڈانی فوج (SAF) سے بھی تعلقات قائم رکھے، کیونکہ کوئی بھی پائیدار تصفیہ فوجی قیادت کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔
اور سب سے بڑھ کر، اس نے ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) سے اتحاد کیا، جو دارفور کے اپنے سرپرستی نیٹ ورک کو ایک جنگی معیشت میں بدل چکی ہے۔
یہ آخری فیصلہ، ظاہر ہے، سب سے زیادہ ساکھ کو نقصان پہنچانے والا ہے، کیونکہ RSF کے نسل کشی جیسے جرائم کی عالمی سطح پر مذمت ہو چکی ہے۔
لیکن وہی عوامل جو RSF کو بدنام بناتے ہیں، ابو ظہبی کے لیے اسے مفید بھی بناتے ہیں — وہ سرحدی راستوں کی نگرانی کر سکتی ہے، تجارت و سونے سے محصول وصول کر سکتی ہے، اور مغرب میں اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکتی ہے چاہے دارالحکومت میں جنگ جاری رہے۔
ایک بیرونی سرپرست کے لیے یہ “صاف فتح” سے زیادہ برداشت (endurance) پر مبنی سرمایہ کاری ہے۔
واشنگٹن اور لندن کی تنقید یا یورپی پابندیوں کی دھمکیوں نے بھی اس سمت کو تبدیل نہیں کیا۔
جب دباؤ بڑھتا ہے، ابو ظہبی کا ردِعمل ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے: حقائق پر تنازع کھڑا کرنا، سفارتی راستے وسیع کرنا، اور زمینی حقائق کو مضبوط کرنا تاکہ اثر و رسوخ ہاتھ سے نہ جائے۔
یہ رویہ مصالحت کے بجائے مزاحمت پر مبنی ہے — اور یہ اس اعتماد سے جنم لیتا ہے جو ساختی گہرائی (structural depth) سے حاصل ہوا ہے.
اختیارات کھلے رکھنا
فی الوقت خطے کا کوئی دارالحکومت امارات کی طرح مالی وسائل، لاجسٹک صلاحیت اور سفارتی رسائی کے امتزاج کا حامل نہیں۔
یہی اعتماد اماراتی انداز کی ایک اور نمایاں خصوصیت سمجھاتا ہے: ہر تنازع میں دونوں اطراف کے دروازے کھلے رکھنا۔
یمن میں ابو ظہبی نے جنوبی علیحدگی پسندوں کی حمایت کی، مگر شمالی حوثی مخالف قوتوں سے بھی رابطے برقرار رکھے۔
لیبیا میں اس نے مشرقی کمانڈر خلیفہ حفتر کی پشت پناہی کی، جبکہ مغرب میں کاروباری اور بلدیاتی نیٹ ورکس سے تعلقات بھی برقرار رکھے۔
سوڈان میں وہ سابق وزیراعظم عبداللہ حمدوک اور RSF کے سربراہ محمد حمدان دگالو (حمیدتی) دونوں سے بات کر سکتا ہے، جبکہ جنرل عبدالفتاح البرہان سے بھی رابطے جاری رکھ سکتا ہے۔
اگر ایک دروازہ بند ہو، تو دوسرا ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔
لیکن اس طرزِ حکمتِ عملی کی ایک قیمت ہے — اور وہ بڑھتی جا رہی ہے۔
اس قسم کی طاقت کا سب سے بڑا سہارا یعنی “انکار کی گنجائش” (deniability) ہر نئی ڈرون ویڈیو، کارگو مینی فیسٹ اور سیٹلائٹ تصویر کے ساتھ کمزور ہو رہا ہے۔
پڑوسی ممالک نے بھی یہ تبدیلی محسوس کی ہے۔
قطر اور عمان اب خود کو مصالحت کار کے طور پر پیش کر رہے ہیں؛
سعودی عرب، جو اپنے اتحادی کے دباؤ میں پھنسنے سے محتاط ہے، سوڈان پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ وہ سکیورٹی معاملات میں ابو ظہبی کا ساتھ دیتا رہتا ہے۔
یہ سب منظرنامہ اہم ہے۔
جب پڑوسی امن کے علمبردار بننے کی کوشش کرتے ہیں، تو وہ فریق جو اسلحہ اور سرپرستی سے وابستہ سمجھا جاتا ہے، خود کہانی بن جاتا ہے۔
اور جب یہ کہانی جم جاتی ہے تو اثر و رسوخ اپنی قدر کھو دیتا ہے: طاقت برقرار رہتی ہے مگر اس کے استعمال کے فورم اور مواقع کم ہو جاتے ہیں۔
ابوظہبی کی نگاہ میں “جیت” کیا ہے
یہ سمجھنے کے لیے کہ ابو ظہبی کیوں پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں، ضروری ہے یہ دیکھا جائے کہ اس کے نزدیک “جیتنا” کیا ہے۔
یہ خرطوم کے صدارتی محل پر جھنڈا لہرانا نہیں، بلکہ ان فیصلوں پر ویٹو پاور رکھنا ہے جو اماراتی مفادات سے متعلق ہوں۔
یہ بحیرہ احمر کی بحری گزرگاہوں، توانائی کی ترسیل اور ڈیٹا کیبلز کو ایسے جھٹکوں سے محفوظ رکھنا ہے جنہیں دوسرے استعمال کر سکیں۔
یہ اسلام پسند تحریکوں کو — جنہیں اماراتی قیادت اپنے لیے وجودی خطرہ سمجھتی ہے — مستحکم ہونے سے روکنا ہے۔
اور یہ دبئی کے مالیاتی نظام سے گزرنے والے قانونی و غیر قانونی آمدنی کے سلسلوں کی حفاظت ہے۔
اسی پیمانے پر دیکھا جائے تو دارفور میں RSF کی موجودگی، جسے ایک وفاقی معاہدے یا منجمد تنازع کی بنیاد بنایا جا سکے، ایک قابلِ قبول توازن معلوم ہوتی ہے — خاص طور پر اگر کہیں اور ایک شہری حکومت کا “چہرہ” دکھایا جا سکے۔
ال فاشر: ایک آزمائش
ال فاشر کا سقوط ابو ظہبی کے ماڈل کے لیے ایک اسٹریس ٹیسٹ بھی ہے اور اسے نئے رخ دینے کا موقع بھی۔
اگر متحدہ عرب امارات یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس کی حکمتِ عملی محض ذاتی مفادات نہیں بلکہ علاقائی استحکام بھی لا سکتی ہے، تو سوڈان ایک فوری موقع فراہم کرتا ہے۔
وہی نیٹ ورک جو ایک پراکسی کو رسد پہنچا سکتا ہے، اگر سرپرست چاہے تو جنگ بندی بھی نافذ کرا سکتا ہے۔
لاجسٹک راستوں کو بند کرنا دلکش سفارت کاری نہیں، مگر فیصلہ کن قدم ہے۔
ایئر برج اور زمینی نقل و حمل کے راستے بند کیے جائیں، دارفور کے سونے کی غیر رسمی تجارت کو روکا جائے، اور RSF و SAF دونوں کو ایک نگرانی شدہ جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کیا جائے۔
قاہرہ کے ساتھ قابلِ اعتماد رابطوں کے ذریعے یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ مصر کو ایک ایسا راستہ دکھائی دے جو نیل کے خطے کو محفوظ رکھے اور ان اسلام پسند تحریکوں کو دور رکھے جن سے وہ خوفزدہ ہے۔
ریاض میں اثرورسوخ استعمال کیا جائے تاکہ سعودی قیادت میں ہونے والی ثالثی محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ حقیقی نفاذی نظام رکھتی ہو۔
اور ایک معتبر شہری قیادت کو صرف دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ انتقالِ اقتدار کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر سامنے لایا جائے۔
یہ تبدیلی ابو ظہبی سے اپنی عالمی سوچ ترک کرنے کا تقاضا نہیں کرتی، بلکہ اسے عملی طور پر استعمال کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔
اگر مقصد “جیتنا” ہے، تو سوڈان میں “جیت” کو اس طرح ازسرِنو بیان کیا جا سکتا ہے کہ بدترین نتائج سے بچا جائے، اور ساتھ یہ ثابت کیا جائے کہ اماراتی اثر و رسوخ ایک ایسے تصفیے کے لیے ناگزیر ہے جسے عالمی برادری قبول کر سکے۔
اس کے لیے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کچھ رسائی کے بدلے قانونی حیثیت ملے گی، کچھ گاہکوں کو “نہیں” کہنا ہوگا، اور کچھ منافع موخر کرنا پڑیں گے۔
یہ بھی دکھانا ہوگا کہ امارات خطے میں حقیقی اور پائیدار استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔
گزشتہ دہائی نے یہ دکھایا ہے کہ ابو ظہبی آسانی سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔
وہ صبر سے کام لیتا ہے، حکمتِ عملی سے سوچتا ہے اور ابہام کے ساتھ جینا جانتا ہے۔
یہی خصوصیات اس نے غیر ریاستی قوتوں کے ساتھ ایسے تعلقات کا “محور” بنائیں جو حکومتوں سے زیادہ دیرپا ہیں۔
مگر اسی طرزِ عمل نے اب امارات کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں عالمی توجہ نے اس پردے کو ہٹا دیا ہے جو کبھی افریقا میں اس کی سرگرمیوں کو چھپاتا تھا۔
سوڈان میں، اس کی دوہری پالیسی نے ایک ایسی ملیشیا کو طاقتور بنا دیا ہے جس نے جنگ کو مزید وسعت دی ہے۔
اب اگر وہی عزم، وہی ضد تنازع کے خاتمے کی طرف موڑ دی جائے — تو یہی حقیقی طاقت کا مظاہرہ ہوگا۔
یہ پسپائی نہیں بلکہ تبدیلی کا شعوری فیصلہ ہوگا — ایسا فیصلہ جو مداخلت کو استحکام میں بدل دے۔
اور یہی وہ “فتح” ہوگی جو امارات کے طویل المدت مفاد میں زیادہ کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔

