ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیسوڈان میں قتلِ عام کے خدشات کے باوجود برطانیہ کا کم لاگت...

سوڈان میں قتلِ عام کے خدشات کے باوجود برطانیہ کا کم لاگت منصوبہ
س

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – ایک برطانوی جائزے سے انکشاف ہوا ہے کہ حکام نے الفاشر کے متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے ہاتھوں سقوط سے قبل سوڈان میں ممکنہ مظالم کی روک تھام کے منصوبوں کو مسترد کر دیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہریوں کو اذیت اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

روزنامہ گارڈین کے مطابق، برطانوی حکومت نے سوڈان میں شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط تر حکمتِ عملی اختیار کرنے سے انکار کر دیا، حالانکہ وزارتِ خارجہ و دولتِ مشترکہ (ایف سی ڈی او) کے اندرونی ماہرین نے متنبہ کیا تھا کہ الفاشر شہر آر ایس ایف کے قبضے میں جا سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت، نسلی صفائی اور جنسی تشدد کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔

ایف سی ڈی او نے 18 ماہ طویل محاصرے کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد روکنے کے لیے چار تجاویز پر غور کیا تھا، جن میں ایک بین الاقوامی سکیورٹی میکانزم کے قیام کا منصوبہ بھی شامل تھا تاکہ عام شہریوں کو ممکنہ نسل کشی اور جنسی تشدد سے بچایا جا سکے۔

تاہم، فنڈنگ اور عملے کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے حکام نے ’’سب سے کم پرعزم‘‘ آپشن کا انتخاب کیا، جس کے تحت صرف 10 ملین پاؤنڈ کی اضافی انسانی امداد ریڈ کراس سمیت مختلف تنظیموں کو منتقل کی گئی۔ بعدازاں الفاشر آر ایس ایف کے قبضے میں چلا گیا، جس کے بعد تنظیم پر نسلی بنیادوں پر قتل، زیادتیوں اور جبری گمشدگیوں کے سنگین الزامات عائد ہوئے، جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

غیر ارادی نہیں بلکہ سیاسی غفلت
امریکی ادارے پائما سے وابستہ سوڈانی امور کی تجزیہ کار شائنا لیوس نے گارڈین کو بتایا کہ برطانیہ کا فیصلہ ’’سیاسی عزم کی کمی‘‘ کا مظہر ہے، نہ کہ لاعلمی کا۔
ان کے مطابق، مظالم قدرتی آفات نہیں بلکہ سیاسی فیصلوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، جو سیاسی ارادے سے روکے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ دارفور میں جاری نسل کشی میں شراکت دار بن چکا ہے۔

سوڈان میں جاری جنگ اقوامِ متحدہ کے بقول دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران میں بدل چکی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں آر ایس ایف نے قبضہ کیا، جنسی تشدد کی شرح انتہائی بلند ہے۔

مالی دباؤ اور کمزور پالیسی
ایک آزاد برطانوی امدادی نگرانی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، بجٹ میں کٹوتیوں کے باعث برطانیہ کی مظالم کی روک تھام کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی، خاص طور پر خواتین و بچیوں کے تحفظ کے منصوبوں میں۔
سوڈانی خواتین کے لیے امدادی پروگرام اب کم از کم 2026 تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔

برطانوی حکومت کا دفاع

برطانوی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی ترقیاتی کمیٹی کی چیئر، سارہ چیمپیئن نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لاگت بچانے کی سوچ نے بروقت مداخلت کو پسِ پشت ڈال دیا۔
ان کے مطابق، روک تھام اور ابتدائی مداخلت ایف سی ڈی او کے کام کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے، مگر بدقسمتی سے انہیں اکثر محض اضافی سہولت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

دوسری جانب برطانوی حکام نے اپنے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ نے سوڈان کے لیے 120 ملین پاؤنڈ سے زائد کی انسانی امداد فراہم کی اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بطور ’’قلم بردار‘‘ فعال کردار ادا کیا۔
برطانوی بیان میں کہا گیا کہ آر ایس ایف کے رہنماؤں کو جنگی جرائم پر جواب دہ بنایا جائے گا۔

تاہم، جائزے میں بتایا گیا کہ اگرچہ برطانیہ نے ’’قابلِ اعتماد قیادت‘‘ کا مظاہرہ کیا، مگر الفاشر کے سقوط سے قبل ’’سیاسی توجہ میں عدم تسلسل‘‘ نے اس کے اثر کو محدود کر دیا۔

متحدہ عرب امارات پر تنقید کی راہ میں رکاوٹ
مزید برآں، گزشتہ برس برطانیہ نے متحدہ عرب امارات پر کسی بھی قسم کی تنقید کو روکنے کا فیصلہ کیا، حالانکہ ابوظہبی پر آر ایس ایف کو اسلحہ فراہم کرنے اور ان کے اقدامات کی پشت پناہی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

یو اے ای نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں کہا کہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں اور صرف سوڈان کے انسانی بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔

یاد رہے کہ سوڈان میں لڑائی اپریل 2023 میں شروع ہوئی جب فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان اور ان کے سابق نائب، آر ایس ایف کے کمانڈر محمد حمدان دقلو کے درمیان مسلح تصادم پھوٹ پڑا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین