نیویارک،(مشرق نامہ) 7 نومبر (اے پی پی): اقوامِ متحدہ نے جمعرات کو بتایا کہ اسرائیل نے 10 اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد تباہ حال غزہ کے لیے 107 امدادی درخواستیں مسترد کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں متاثرہ فلسطینیوں کے لیے ضروری انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے نائب ترجمان فرحان عزیز حق نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا:
“ہماری شراکت دار تنظیموں کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی حکام نے 107 ایسی درخواستوں کو مسترد کیا ہے جن میں کمبل، سرمائی لباس، اور پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کے نظام کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے درکار آلات شامل تھے۔”
انہوں نے کہا کہ تقریباً 90 فیصد مسترد شدہ درخواستیں 30 سے زائد مقامی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کی جانب سے دی گئی تھیں۔
“ان میں سے نصف سے زائد درخواستیں اس بنیاد پر رد کی گئیں کہ متعلقہ تنظیموں کو غزہ میں امداد پہنچانے کی اجازت حاصل نہیں تھی،” انہوں نے مزید کہا۔
فرحان حق نے زور دیا کہ اس طرح کی پابندیاں انسانی امدادی کاموں میں بڑی رکاوٹ ہیں، حالانکہ اقوامِ متحدہ اور اس کے شراکت دار موجودہ 60 روزہ امدادی منصوبے کے تحت امداد کی فراہمی کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کئی ایسی اشیاء کو مسترد کر دیا گیا جنہیں اسرائیلی حکام نے "دوہری استعمال” (dual-use) کے زمرے میں رکھا، جیسے سولر پینل، جنریٹرز اور گاڑیوں کے پرزے، اور انہیں انسانی امداد کے دائرے سے باہر قرار دیا۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے ادارے اوچا (OCHA) کے مطابق، جنگ بندی کے باوجود حماس اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، اور غزہ کے مشرقی علاقوں میں فوجی سرگرمیوں کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔
“رہائشی عمارتوں کو اڑانے کے واقعات روزانہ رپورٹ ہو رہے ہیں، خاص طور پر مشرقی خان یونس، مشرقی غزہ شہر، اور جنوبی رفح میں،” فرحان حق نے بتایا۔
اوچا نے اسرائیلی فوج کو یاد دہانی کرائی ہے کہ اسے اپنے تمام فوجی آپریشنز میں عام شہریوں اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کا خیال رکھنے کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق، جنگ بندی کے آغاز سے اب تک 6.8 لاکھ سے زائد افراد جنوبی سے شمالی غزہ کی طرف منتقل ہو چکے ہیں، تاہم کئی بے گھر خاندان اب بھی اپنے موجودہ مقامات پر رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ ان کے آبائی علاقوں میں تباہی، عدم تحفظ اور بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔
مشکلات کے باوجود اقوامِ متحدہ اور اس کے امدادی شراکت داروں نے دسیوں ہزار گھروں تک خوراک، نقد امداد اور ضروری خدمات پہنچا دی ہیں۔
فرحان حق نے کہا، “غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کے اثرات واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں، لیکن اگر باقی رکاوٹیں دور کر دی جائیں تو ہم اس سے کہیں زیادہ کر سکتے ہیں۔”

