بغداد (مشرق نامہ) – عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے کہا ہے کہ ملک سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد ہی حکومت ملیشیاؤں کو غیر مسلح کر سکے گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں السودانی نے واضح کیا کہ اب جبکہ داعش کو شکست ہو چکی ہے، عراق میں بین الاقوامی افواج کی موجودگی کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ ان کے بقول، اب نہ داعش ہے، سلامتی اور استحکام بھی موجود ہے، تو 86 ممالک کی افواج کی موجودگی کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد ایک واضح منصوبہ تشکیل دیا جائے گا جس کے تحت تمام غیر ریاستی مسلح گروہوں کے ہتھیار ریاستی اداروں کے حوالے کیے جائیں گے۔ "یہ سب کی مشترکہ خواہش ہے کہ اسلحہ صرف ریاستی اداروں کے ہاتھ میں ہو۔”
السودانی کے یہ بیانات 11 نومبر کو متوقع پارلیمانی انتخابات سے قبل سامنے آئے ہیں۔ وہ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں—ایک طرف واشنگٹن عراق کی مالیاتی لین دین میں کلیدی کردار رکھتا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں کا طاقتور نیٹ ورک الحشد الشعبی ملک کے اندر گہری جڑیں رکھتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی افواج رواں سال کے دوران دو اہم اڈوں سے انخلا شروع کر چکی ہیں۔ رائٹرز نے بتایا تھا کہ 2024 میں دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے پر اتفاق کیا، جس کے تحت 2025 کے ستمبر تک تمام امریکی قیادت میں کام کرنے والے فوجی مغربی صوبہ الانبار کے عین الاسد اڈے سے نکل جائیں گے، جبکہ بغداد میں ان کی موجودگی نمایاں طور پر کم کر دی جائے گی۔
السودانی کا کہنا تھا کہ مسلح گروہوں کے اراکین یا تو سرکاری سیکیورٹی اداروں میں ضم ہو جائیں گے یا ہتھیار ڈالنے کے بعد سیاست میں حصہ لے سکیں گے۔
لبنان سے مشابہت
السودانی کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے امریکہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
الحشد الشعبی اور حزب اللہ، ایران کے زیرِ اثر ایک وسیع اتحاد — ’’محورِ مزاحمت‘‘ — کا حصہ ہیں، جس میں یمن کے انصاراللہ (حوثی) بھی شامل ہیں۔ یہ گروہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے جب حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر جارحیت شروع کی۔
اگرچہ عراق کی ملیشیاؤں نے جنوری 2024 میں اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ کیا تھا، تاہم اس کے بعد وہ نسبتاً غیر فعال رہیں اور یمن یا لبنان کی طرح اسرائیل کے خلاف براہِ راست کارروائی میں شریک نہیں ہوئیں۔
اقوام متحدہ، انسانی حقوق ماہرین اور متعدد عالمی رہنماؤں کے مطابق 7 اکتوبر کے بعد اسرائیل کی کارروائیاں غزہ میں ’’نسل کشی‘‘ کے زمرے میں آتی ہیں۔ اکتوبر میں امریکہ کی ثالثی سے ایک نازک جنگ بندی طے پائی، مگر اسرائیلی خلاف ورزیوں نے اسے غیر مؤثر بنا دیا۔
امریکہ طویل عرصے سے عراقی حکومت پر زور دیتا آ رہا ہے کہ وہ الحشد الشعبی سے وابستہ مسلح گروہوں کو تحلیل کرے۔ اسی طرح لبنان میں امریکی ایلچی ٹام باراک کی قیادت میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی ایک نمایاں مہم جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق لبنانی فوج جنوبی علاقوں میں حزب اللہ کے بیشتر جنگجوؤں کو غیر مسلح کر چکی ہے، جبکہ حکومت ملک کے دیگر حصوں میں اس کے بھاری ہتھیار فوج کے حوالے کرنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ تاہم حزب اللہ اس مطالبے کی مزاحمت کر رہی ہے۔
بحرین میں ایک کانفرنس کے دوران امریکی ایلچی ٹام باراک نے کہا کہ حزب اللہ کو زبردستی غیر مسلح کرنا مؤثر نہیں ہوگا، اس کے بجائے خلیجی ممالک کو معاشی ترغیبات دینی چاہئیں تاکہ اس کے جنگجو ازخود ہتھیار ڈال دیں۔
لبنان میں حزب اللہ سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، اس کے نمائندے امریکی حمایت یافتہ حکومت میں شامل ہیں۔ تنظیم کا عسکری و سماجی نیٹ ورک حکومت کے دائرہ کار سے باہر کام کرتا ہے۔
عراق میں الحشد الشعبی کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ اراکین کو سرکاری فنڈز سے تنخواہیں ملتی ہیں، اور السودانی کی حکومت نے 2023 کے تین سالہ بجٹ میں ان ملیشیاؤں کے لیے مزید 700 ملین ڈالر مختص کیے تھے۔

