ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیامریکی سپریم کورٹ کا ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کی قانونی حیثیت پر...

امریکی سپریم کورٹ کا ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کی قانونی حیثیت پر سوال
ا

واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی سپریم کورٹ کے ججوں نے بدھ کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی سطح پر عائد کردہ وسیع ٹیرف کے قانونی جواز پر سوالات اٹھائے۔ یہ مقدمہ، جس کے اثرات عالمی معیشت تک پھیل سکتے ہیں، ٹرمپ کے اختیارات کا ایک بڑا امتحان تصور کیا جا رہا ہے۔

لبرل اور قدامت پسند دونوں ججوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے وکیل سے سخت سوالات کیے کہ آیا 1977 کا وہ قانون، جو قومی ہنگامی حالات کے دوران استعمال کے لیے بنایا گیا تھا، واقعی ٹرمپ کو وہ اختیار دیتا ہے جس کی بنیاد پر انہوں نے ٹیرف عائد کیے، یا انہوں نے اس عمل سے کانگریس کے اختیارات میں مداخلت کی۔

تاہم کچھ قدامت پسند ججوں نے اس نکتے پر بھی زور دیا کہ بیرونی ممالک سے معاملات طے کرنے میں صدر کو آئینی طور پر وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں، جس سے یہ امکان ظاہر ہوا کہ عدالت کا فیصلہ اس معاملے میں منقسم ہو سکتا ہے۔ موجودہ سپریم کورٹ میں قدامت پسند ججوں کی اکثریت 6 کے مقابلے میں 3 ہے۔

یہ سماعت، جو ڈھائی گھنٹے سے زیادہ جاری رہی، اس اپیل کے سلسلے میں ہوئی جو ٹرمپ انتظامیہ نے اُس وقت دائر کی جب ماتحت عدالتوں نے قرار دیا کہ متعلقہ قانون کے تحت ٹیرف عائد کرنے میں ٹرمپ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ ان ٹیرف سے متاثرہ کاروباروں اور بارہ امریکی ریاستوں، جن میں زیادہ تر ڈیموکریٹس کی حکومت ہے، نے اس اقدام کو چیلنج کیا ہے۔

’بنیادی اختیار‘

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے حکومت کے وکیل اور امریکی سالیسٹر جنرل ڈی۔ جان ساور سے کہا کہ ٹیرف دراصل امریکی عوام پر ٹیکس عائد کرنے کے مترادف ہیں، اور یہ ہمیشہ سے کانگریس کا بنیادی اختیار رہا ہے۔

درآمدی اشیاء پر عائد کیے گئے یہ ٹیرف آئندہ ایک دہائی میں امریکہ کے لیے کھربوں ڈالر کی آمدنی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ امریکی آئین کے مطابق ٹیکس اور ٹیرف عائد کرنے کا اختیار کانگریس کو حاصل ہے۔

رابرٹس نے تجویز دی کہ عدالت اس معاملے میں "میجر کویسچنز ڈاکٹرائن” (اہم سوالات کے اصول) کو لاگو کر سکتی ہے، جس کے تحت انتظامی اداروں کے وہ اقدامات جو بڑی معاشی یا سیاسی اہمیت رکھتے ہوں، صرف اس صورت میں درست سمجھے جاتے ہیں جب کانگریس نے ان کی واضح اجازت دی ہو۔

انہوں نے کہا کہ یہ جواز ایک ایسے اختیار کے لیے استعمال ہو رہا ہے جس کے تحت کسی بھی ملک سے کسی بھی شے پر، کسی بھی مقدار اور مدت کے لیے ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ایسا اختیار موجود نہیں، لیکن یہ بظاہر ایک بہت بڑا دعویٰ ہے جس کی قانونی بنیاد کمزور دکھائی دیتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ان ٹیرف کو برقرار رکھے جنہیں وہ اپنی معاشی اور خارجہ پالیسی کا اہم ہتھیار قرار دیتے ہیں۔ اگر عدالت نے ان کے خلاف فیصلہ دیا تو یہ ایک بڑی تبدیلی ہوگی، کیونکہ ماضی میں عدالت نے متعدد مواقع پر ان کے وسیع صدارتی اختیارات کو عارضی طور پر برقرار رکھا تھا، جن میں امیگریشن پر کریک ڈاؤن، وفاقی اداروں کے سربراہوں کی برطرفی، اور ٹرانس جینڈر فوجیوں پر پابندی شامل ہیں۔

آئی ای ای پی اے سے متعلق سوالات

ٹرمپ نے تقریباً تمام امریکی تجارتی شراکت داروں پر ٹیرف عائد کرنے کے لیے "انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ” (IEEPA) کا سہارا لیا۔ یہ قانون صدر کو قومی ہنگامی صورتحال میں تجارت کو منظم کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ تاہم، ٹرمپ اس قانون کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے والے پہلے صدر بنے، جو ان کے وسیع تر صدارتی اختیارات کی ایک اور مثال ہے، خاص طور پر جب سے وہ جنوری میں دوبارہ منصبِ صدارت پر فائز ہوئے ہیں۔

قدامت پسند جج ایمی کونی بیریٹ نے حکومت کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا کبھی کسی اور موقع پر "ریگولیٹ امپورٹیشن” (درآمدات کے ضابطے) جیسے الفاظ کو ٹیرف عائد کرنے کے اختیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے؟

انہوں نے کہا کہ کیا آپ قانون یا تاریخ میں کسی ایسے موقع کی نشاندہی کر سکتے ہیں جہاں یہ اصطلاح ٹیرف کے اختیارات دینے کے لیے استعمال ہوئی ہو؟

لبرل جج کیتنجی براؤن جیکسن نے کہا کہ آئی ای ای پی اے کا مقصد صدارتی اختیارات کو وسعت دینا نہیں بلکہ محدود کرنا تھا۔ ان کے مطابق، "یہ بالکل واضح ہے کہ کانگریس نے صدر کے ہنگامی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کی تھی۔”

سپریم کورٹ عام طور پر دلائل سننے کے بعد فیصلے جاری کرنے میں کئی ماہ لیتی ہے، تاہم اس معاملے میں حکومت نے عدالت سے فوری فیصلہ دینے کی درخواست کی ہے، اگرچہ اس کی حتمی تاریخ واضح نہیں۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، جو بدھ کے روز سماعت میں موجود تھے، نے کہا کہ اگر عدالت نے ٹرمپ کے خلاف فیصلہ دیا تو حکومت دیگر قانونی اختیارات کے تحت ان ٹیرف کو برقرار رکھنے کے اقدامات کرے گی۔ بعد ازاں فاکس بزنس نیٹ ورک کے پروگرام ’’کڈلو‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بیسنٹ نے کہا کہ وہ عدالتی کارروائی کے بعد "انتہائی پُرامید” ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین