کراچی(مشرق نامہ):پاکستان نے اطالوی کمپنی اینی (Eni) کے ساتھ طویل مدتی ایل این جی معاہدے کے تحت 21 کارگو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ گیس کے اضافی ذخیرے کو محدود کیا جا سکے، جو حالیہ مہینوں میں نظام میں ضرورت سے زیادہ شامل ہو چکے ہیں۔
ریاستی ادارے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) کی وزارتِ توانائی کو بھیجی گئی 22 اکتوبر کی دستاویز کے مطابق 2026 کے 11 اور 2027 کے 10 کارگو منسوخ کیے جائیں گے۔ صرف جنوری کے کارگو (دونوں سالوں کے) اور دسمبر 2027 کے کارگو برقرار رہیں گے تاکہ سردیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اینی نے یہ اقدام معاہدے کی لچکدار شقوں کے تحت قبول کر لیا ہے۔ اینی نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جب کہ پی ایل ایل، ایس این جی پی ایل اور وزارتِ پیٹرولیم نے بھی جواب نہیں دیا۔
قطر سے ایل این جی فراہمی پر ازسرِ نو بات چیت
ذرائع کے مطابق پاکستان قطر کے ساتھ بھی اپنے گیس معاہدوں پر نظرِ ثانی یا تاخیر سے فراہمی کے امکانات پر گفتگو کر رہا ہے۔ ایک تکنیکی ٹیم نے گزشتہ ہفتے کراچی کا دورہ کیا تاکہ ممکنہ شیڈول ترتیب دیا جا سکے۔ بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
طلب میں کمی اور نظام میں اضافی گیس
پاکستان کے قطر اور اینی کے ساتھ معاہدے مجموعی طور پر سالانہ 120 کارگو پر مشتمل ہیں، جن میں دو قطری معاہدوں سے اوسطاً ماہانہ 9 کارگو اور اینی سے ایک کارگو شامل ہے۔ مگر اس سال ملک میں ایل این جی کی درآمدات میں واضح کمی آئی ہے کیونکہ بجلی گھروں کی طلب کم ہوئی ہے اور شمسی و آبی توانائی کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔
صنعتی اداروں کے خود بجلی پیدا کرنے کے رجحان نے بھی گیس کی طلب میں مزید کمی کی ہے، جس کے نتیجے میں نظام میں پہلی بار اضافی گیس کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
حکومتی دستاویزات کے مطابق اس اضافی فراہمی نے پاکستان کو گیس رعایتی نرخوں پر بیچنے، مقامی پیداوار کم کرنے اور زائد کارگو سمندر میں ذخیرہ یا دوبارہ فروخت کرنے پر مجبور کیا ہے۔
ڈیٹا کے مطابق اینی کا آخری کارگو 3 جنوری 2024 کو گیس پورٹ ٹرمینل پر موصول ہوا۔ مزید یہ کہ پاکستان اور اینی کے درمیان 2025 میں کسی بھی کارگو کی عدم فراہمی پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔

