بیجنگ، 4(مشرق نامہ) نومبر (اے پی پی): پاکستان 5 سے 10 نومبر تک منعقد ہونے والے آٹھویں چین انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو (CIIE) میں اپنی متنوع برآمدی مصنوعات پیش کرنے کے ساتھ ساتھ چین کے ساتھ ڈیجیٹل تعاون کے فروغ کے منصوبے بھی نمایاں کرے گا۔
پاکستان کی جانب سے 20 سے زائد کمپنیاں اس عالمی نمائش میں شرکت کر رہی ہیں جو اپنی روایتی مصنوعات — جیسے دستکاری، سنگِ مرمر، فرنیچر، ملبوسات، قالین اور زیورات — کی نمائش کریں گی، تاکہ ملکی پیداواری صلاحیت کی وسعت کو اجاگر کیا جا سکے۔
پاکستان کا اس نمائش میں مسلسل شرکت کرنا اس کی تجارتی امنگوں اور عالمی منڈی میں کردار کو ظاہر کرتا ہے۔
شنگھائی میں پاکستان کے قونصل جنرل شہزاد احمد خان نے بتایا کہ “پاکستانی کمپنیاں اب بڑے اور حسبِ ضرورت ڈیزائن کردہ اسٹالز کا انتخاب کر رہی ہیں تاکہ مارکیٹ میں زیادہ مؤثر انداز میں اپنی موجودگی کو ظاہر کر سکیں — یہ چین کے اس پلیٹ فارم پر بڑھتے اعتماد کی علامت ہے۔”
ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کی جانب سے چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے لیے قومی پویلین کے ذریعے تعاون جاری ہے، مگر نجی شعبے کی بڑھتی شمولیت کاروباری بلوغت کی نشاندہی کرتی ہے۔
نمایاں شرکاء میں پاکستانی جیولری برانڈ وِنسا (Winsa) بھی شامل ہے، جو چین میں ساتویں سال سے سرگرم ہے۔ قونصل جنرل نے بتایا کہ “اس سال کمپنی نے گنیز ورلڈ ریکارڈ سے تصدیق شدہ قدرتی کنزائٹ (kunzite) کا مظاہرہ کیا ہے — جو پاکستان کے نادر خزانوں کی عکاسی کرتا ہے۔”
روایتی تجارت سے آگے بڑھ کر پاکستان چین کے ساتھ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پارٹنرشپ کو فعال طور پر آگے بڑھا رہا ہے۔ قونصل جنرل نے ستمبر میں بیجنگ میں منعقدہ بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں پاکستانی اور چینی آئی سی ٹی کمپنیوں کے درمیان متعدد مفاہمتی یادداشتیں اور مشترکہ منصوبوں کے معاہدے طے پائے، خاص طور پر یانگ ژی ریور ڈیلٹا (Yangtze River Delta) خطے کی کمپنیوں کے ساتھ۔
انہوں نے کہا کہ “یہ ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، اور ان پر مکمل عمل درآمد ایک سے دو سال میں متوقع ہے۔” ان کے مطابق، پاکستان ٹیکنالوجی میں چین کی قیادت پر پختہ یقین رکھتا ہے۔
حالیہ اقتصادی اعداد و شمار سے چین اور پاکستان کے تجارتی تعلقات کے استحکام کی تصدیق ہوئی ہے۔ مالی سال 2025-2026 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی یانگ ژی ریور ڈیلٹا خطے کو برآمدات میں 21.1 فیصد اضافہ ہوا، جو 297 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جب کہ اس خطے کے ساتھ کل تجارتی حجم 2.69 ارب ڈالر رہا۔
قونصل جنرل نے اس تجارتی رفتار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط اقتصادی تعلقات کو عوامی سطح پر روابط سے مزید تقویت دینی چاہیے۔ “تجارت اور سرمایہ کاری انسانی تعلقات کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتیں،” انہوں نے کہا، اور شنگھائی میں ثقافتی تبادلوں کے پروگرام — جیسے فیشن شوز، میوزک فیسٹیولز، فلم ایونٹس اور کھانوں کی تشہیر — کا ذکر کیا۔
آٹھویں چین انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو میں پاکستان کی کثیر جہتی شرکت — جس میں روایتی برآمدات، ڈیجیٹل تعاون، اور ثقافتی روابط شامل ہیں — اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان عالمی شراکت داریوں اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

