ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیجرمنی کی افغان پناہ گزینوں کو نقد رقم کی پیشکش — پاکستان...

جرمنی کی افغان پناہ گزینوں کو نقد رقم کی پیشکش — پاکستان میں آباد افراد سے دوبارہ آبادکاری سے دستبرداری کا مطالبہ
ج

برلن(مشرق نامہ):جرمنی نے پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ جرمنی میں دوبارہ آبادکاری (ری سیٹلمنٹ) پروگرام سے دستبردار ہو جائیں تو انہیں نقد رقم اور دیگر مالی مدد دی جائے گی، یہ بات انسانی حقوق کے کارکنوں نے منگل کے روز بتائی۔

یہ وہ افغان شہری ہیں جنہیں پچھلی جرمن حکومت نے ایک خصوصی پناہ گزین اسکیم کے تحت قبول کیا تھا، مگر مئی میں قدامت پسند چانسلر فریڈرِش مرز کے اقتدار میں آنے کے بعد اس پروگرام کو منجمد (فریز) کر دیا گیا۔ نتیجتاً تقریباً دو ہزار افغان پناہ گزین پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ایئر برج کابل نامی تنظیم کے مطابق، ان پناہ گزینوں کو ایک خط بھیجا گیا ہے جس میں انہیں پیسوں اور دیگر سہولتوں کی پیشکش کی گئی ہے، بشرطیکہ وہ جرمنی منتقلی کے پروگرام سے رضاکارانہ طور پر علیحدگی اختیار کر لیں۔

خط کے مطابق، اگر کوئی اکیلی افغان خاتون اس پیشکش کو قبول کرے تو اسے

  • پاکستان میں ابتدائی طور پر 1,500 یورو (تقریباً 1,700 امریکی ڈالر) دیے جائیں گے،
  • اور اگر وہ افغانستان یا کسی تیسرے ملک کا سفر کرے تو اسے مزید 5,000 یورو ملیں گے۔

جرمن وزارتِ داخلہ کی ترجمان نے تصدیق کی کہ “یہ پیشکش رضاکارانہ طور پر افغانستان واپسی یا کسی تیسرے ملک جانے کے پروگرام کے دائرے میں کی گئی ہے۔

یہ جرمن اسکیم ان افغان شہریوں کے لیے بنائی گئی تھی جنہوں نے افغانستان میں جرمن افواج کے ساتھ کام کیا تھا یا جو طالبان کے خطرے میں تھے — جیسے صحافی، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنان۔

ایوا بائر (Eva Beyer) جو ایئر برج کابل سے وابستہ ہیں، نے بتایا کہ وہ کسی بھی ایسے پناہ گزین سے واقف نہیں جو یہ پیشکش قبول کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔
انہوں نے کہا کہ اکثر افغانوں نے اس پیشکش پر شدید غم و غصے اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔

ایک افغان خاتون کا پیغام، جسے بائر نے خبر رساں ادارے سے شیئر کیا، میں لکھا تھا:“میں کانپ رہی ہوں اور رونا بند نہیں کر پا رہی۔ مجھے نہ پیسے چاہئیں، نہ روٹی — میں صرف محفوظ زندگی چاہتی ہوں۔”

پاکستانی حکام نے حالیہ مہینوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
گزشتہ موسمِ گرما میں 200 سے زائد افغان پناہ گزین — جو اسی جرمن پروگرام میں شامل تھے — افغانستان واپس بھیج دیے گئے۔

ستمبر میں جرمن وزارتِ خارجہ کی ایک ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ ایک ”افہام و تفہیم“ طے پا گئی ہے جس کے تحت سال کے اختتام تک مزید گرفتاریاں یا جبری ملک بدریاں نہیں ہوں گی۔

تاہم، ایئر برج کابل کے مطابق، اکتوبر کے آخر میں 17 نئے افغان پناہ گزین گرفتار کیے گئے، اور دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں کے باعث ان کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔

تنظیم کے بیان میں کہا گیا کہ تازہ ترین سرکاری خط میں تسلیم کیا گیا ہے کہ “پاکستان میں موجود تمام طریقہ کار کو 2025 کے اختتام تک مکمل کرنا ہوگا، لیکن افسوس کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ تمام درخواستوں پر بروقت عمل ہو جائے گا۔”

کچھ افغان گروہوں نے عدالت کے ذریعے جرمن حکومت کو اپنے فیصلے پر مجبور کیا، جس کے بعد 14 پناہ گزین گزشتہ جمعرات کو جرمنی پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین