ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامینام ہے ممدانی: ڈیموکریٹ زوہرن ممدانی نیویارک سٹی کے پہلے مسلم میئر...

نام ہے ممدانی: ڈیموکریٹ زوہرن ممدانی نیویارک سٹی کے پہلے مسلم میئر منتخب
ن

نیو یارک(مشرق نامہ):34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ زوہرن ممدانی نے منگل کے روز نیویارک سٹی کے میئر کا انتخاب جیت کر ایک شاندار سیاسی سفر مکمل کیا — ایک گمنام ریاستی قانون ساز سے امریکہ کی نمایاں ڈیموکریٹک شخصیات میں شامل ہونے تک۔

سی بی ایس کے مطابق ممدانی نے 10,35,645 (50.4 فیصد) ووٹ حاصل کیے، جب کہ سابق نیویارک گورنر اینڈریو کومو کو 8,54,783 (41.6 فیصد) اور کرٹس سلِوا کو 1,46,127 (7.1 فیصد) ووٹ ملے۔

ممدانی امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیو یارک کے پہلے مسلم میئر بنیں گے۔ انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق گورنر اینڈریو کومو کو شکست دی، جو پارٹی نامزدگی ہارنے کے بعد آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترے تھے۔ یہ انتخابی مہم نظریاتی اور نسلی و عمرانی اختلافات کا مظہر تھی، جس کے اثرات ڈیموکریٹک پارٹی کی قومی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آخری لمحات میں انتخابی مداخلت کرتے ہوئے ممدانی کو “یہودی دشمن” قرار دیا تھا۔

ممدانی کا تعلق بھارتی نژاد یوگنڈا کے ایک خاندان سے ہے۔ وہ سات برس کی عمر میں امریکہ منتقل ہوئے اور 2018 میں امریکی شہریت حاصل کی۔

اپنی فاتحانہ تقریر میں ممدانی نے کہا:“امید زندہ ہے۔ ہم جیتے کیونکہ نیویارک کے عوام نے یقین کیا کہ ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ہم جیتے کیونکہ ہم نے فیصلہ کیا کہ سیاست اب ہم پر مسلط نہیں کی جائے گی، بلکہ اب ہم خود اسے تشکیل دیں گے۔”

انہوں نے جواہر لعل نہرو کا قول بھی نقل کیا:“تاریخ میں کبھی کبھار ایسا لمحہ آتا ہے جب ہم پرانے سے نئے میں قدم رکھتے ہیں، جب ایک دور ختم ہوتا ہے، اور جب ایک قوم کی طویل دبائی گئی روح اظہار پاتی ہے۔”

ممدانی نے کہا کہ نیویارک اب ایسا شہر نہیں رہے گا جہاں “اسلاموفوبیا پھیلانے والے الیکشن جیتیں”، بلکہ اب یہ شہر “سیاسی تاریکی کے دور میں روشنی کا مینار” ثابت ہوگا۔

انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا:“ڈونلڈ ٹرمپ! چونکہ مجھے معلوم ہے آپ دیکھ رہے ہیں — میرے پاس آپ کے لیے صرف چار الفاظ ہیں: آواز اونچی کرو!”

ممدانی نے عزم ظاہر کیا کہ وہ “بدعنوانی کے کلچر” کو ختم کریں گے، جس کے ذریعے ارب پتی افراد جیسے ٹرمپ ٹیکس چوری اور رعایتوں سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا:“ہم مزدور یونینوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور محنت کش طبقے کے حقوق کو وسعت دیں گے، کیونکہ ہم جانتے ہیں — بالکل ٹرمپ کی طرح — کہ جب مزدوروں کے حقوق مضبوط ہوں تو مالکان کے دباؤ بے معنی ہو جاتے ہیں۔”

ممدانی نے وعدہ کیا کہ ان کی انتظامیہ تمام نیویارکرز کی نمائندگی کرے گی —“تارکینِ وطن، ٹرانس کمیونٹی کے افراد، سیاہ فام خواتین جنہیں ٹرمپ نے وفاقی ملازمتوں سے برطرف کیا، اکیلی مائیں جو بڑھتے اخراجات سے لڑ رہی ہیں — ہر وہ شخص جس کی کمر دیوار سے لگی ہے۔”

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا سٹی ہال ایسا ہوگا جو “یہودی نیویارکرز کے ساتھ اینٹی سیماٹزم کے خلاف جدوجہد میں ثابت قدم رہے، اور جہاں ایک ملین سے زیادہ مسلمان یہ جان سکیں کہ وہ اس شہر کا حصہ ہیں۔”

اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے کہا:“یہ طاقت تمہاری ہے، یہ شہر تمہارا ہے۔”ان کی تقریر کا اختتام بالی وڈ کے مشہور گیت ’دھوم مچا لے‘ پر ہوا۔


مبارک بادوں کا سلسلہ

سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے ممدانی کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا:“میں تمہیں کامیابی کی دعا دیتا ہوں کہ تم اپنی مہم کے جذبے کو ایک بہتر، منصفانہ اور زیادہ قابلِ برداشت نیویارک کی تعمیر میں بدل دو۔”

سابق خاتونِ اول اور 2016 کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے کہا:“اس سال نیویارک سٹی کے انتخابات میں پچھلے پچاس سالوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے۔ ہاں، ہم ایک ایسی حکومت بنا سکتے ہیں جو محنت کش عوام کی نمائندگی کرے، نہ کہ صرف ایک فیصد کی۔”

سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ ممدانی نے “جدید امریکی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی اپ سیٹس میں سے ایک انجام دیا ہے۔”

سابق صدر باراک اوباما نے منگل کے روز کامیاب ڈیموکریٹ امیدواروں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا:“یہ یاد دہانی ہے کہ جب ہم ان مضبوط، آگے دیکھنے والے رہنماؤں کے گرد متحد ہوتے ہیں جو عوامی مسائل سے حقیقی لگاؤ رکھتے ہیں، تو ہم جیت سکتے ہیں۔” “ابھی بہت کام باقی ہے، مگر مستقبل پہلے سے کچھ زیادہ روشن نظر آتا ہے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین