ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیویکیپیڈیا کے بانی نے ’’غزہ میں نسل کشی‘‘ صفحے کی تدوین کیوں...

ویکیپیڈیا کے بانی نے ’’غزہ میں نسل کشی‘‘ صفحے کی تدوین کیوں روکی؟
و

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – ویکیپیڈیا کے شریک بانی جمی ویلز نے ویب سائٹ کے ’’غزہ میں نسل کشی‘‘ کے صفحے پر ترمیم (ایڈیٹنگ) روک دی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ صفحہ کمپنی کے ’’اعلیٰ معیارات‘‘ پر پورا نہیں اترتا اور اسے ’’فوری توجہ‘‘ کی ضرورت ہے۔

اتوار کے روز صفحے کے مباحثہ حصے میں ایک بیان میں، جس کے بعد صفحے پر مزید ترامیم بند کر دی گئیں، ویلز نے کہا کہ ان سے ایک ’’نمایاں میڈیا انٹرویو‘‘ میں اس صفحے سے متعلق سوال کیا گیا تھا۔ صفحے کے ابتدائی جملے میں درج تھا کہ یہ نسل کشی ’’غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کی جاری، دانستہ اور منظم تباہی ہے جو اسرائیل نے غزہ کی جنگ کے دوران انجام دی‘‘۔

ویلز نے کہا کہ یہ مضمون ویکیپیڈیا کے غیر جانب دار نقطۂ نظر کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اسے ’’انتہائی سنگین‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ یہ بیان ذاتی حیثیت میں دے رہے ہیں، ویکیمیڈیا فاؤنڈیشن کی جانب سے نہیں جو ویکیپیڈیا چلاتی ہے۔

صفحے پر درج نوٹ کے مطابق، اسے منگل کی رات 21:47 جی ایم ٹی تک یا ’’جب تک تدوینی تنازعات حل نہیں ہوتے‘‘، لاک رکھا گیا ہے۔

ویلز نے کیا کہا؟

اتوار کے روز اپنے بیان میں ویلز نے کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کے ’’نیک نیتی‘‘ پر یقین رکھتے ہیں جنہوں نے اس مضمون پر کام کیا۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ’’فی الحال، صفحے کے آغاز اور مجموعی پیشکش میں ویکیپیڈیا کی آواز میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے، حالانکہ یہ دعویٰ سخت متنازع ہے۔ یہ ویکیپیڈیا کی غیر جانب دارانہ (NPOV) اور منسوبی نقطۂ نظر (ATTRIBUTEPOV) پالیسیوں کی خلاف ورزی ہے جسے فوری طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ’’ناقابلِ بحث‘‘ ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ غیر جانب دار انداز کچھ اس طرح ہونا چاہیے: متعدد حکومتوں، غیر سرکاری تنظیموں اور قانونی اداروں نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات کو نسل کشی قرار دینے یا مسترد کرنے کی رائے دی ہے۔

متعدد عالمی اداروں، بشمول اقوام متحدہ، نے اسرائیل کے غزہ پر حملے کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ اس موقف کی توثیق انسانی حقوق کی تنظیموں اور محققین نے بھی کی ہے۔

ویلز نے صفحے کے مدیران کے لیے چند سفارشات بھی پیش کیں، جن میں ذرائع اور مواد پر توجہ دینا، ’’اعلیٰ معیار‘‘ کے ماخذات استعمال کرنا، اور حقائق و اعداد و شمار کو قانونی تشریحات سے الگ رکھنا شامل تھا۔

انہوں نے کہا کہ قابلِ تصدیق ذرائع اور غیر جانب داری پر توجہ دے کر ہم جلد ایک ایسا مضمون تیار کر سکتے ہیں جو تنازعات سے متعلق ہمارے معیارات پر پورا اترے۔

کیا ان کے مؤقف پر تنقید ہوئی؟

جی ہاں۔ جس بحثی صفحے پر ویلز نے اپنا بیان اپ لوڈ کیا، وہاں متعدد مدیران نے ان کے فیصلے اور سفارشات پر اعتراضات اٹھائے۔

’’Hemiauchenia‘‘ نامی مدیر نے ویلز کے بیان کو ’’تحقیر آمیز‘‘ قرار دیتے ہوئے ان پر الزام لگایا کہ وہ غیر جانب دار اداروں کی آراء کو سیاسی یا جانبدار ذرائع کے مساوی وزن دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مدیر نے لکھا کہ سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ماہرین جیسے غیر جانب دار اداروں کی آراء کو سیاسی حکومتوں یا تبصرہ نگاروں کی رائے کے برابر کیوں رکھا جائے؟ آپ ویکیپیڈیا کمیونٹی کے اتفاقِ رائے سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اسے ’غلط‘ کہنا کہ وہ اقوام متحدہ اور ماہرینِ نسل کشی کے نظریات پر انحصار کرتی ہے، سراسر تحقیر ہے۔

جواب میں ویلز نے کہا کہ مدیران کا کام ’’بطور ویکیپیڈین کسی بحث میں فریق بننا نہیں، بلکہ اس کی غیر جانب دارانہ دستاویز تیار کرنا ہے۔‘‘

ایک اور مدیر ’’Cortador‘‘ نے ویلز کے مؤقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ویکیپیڈیا نے کبھی تمام آراء کو مساوی نہیں سمجھا، نہ پالیسی اس کی تقاضا کرتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ویکیپیڈیا کے ’زمین‘ والے صفحے پر یہ لکھا ہوتا کہ زمین کی شکل متنازع ہے۔ مگر ہم ایسا نہیں کرتے کیونکہ سائنسی اتفاق رائے ہے کہ زمین تقریباً کروی ہے۔ اسی طرح فلیٹ ارتھ ازم کو fringe نظریہ قرار دیا جاتا ہے۔

ایک تیسرے مدیر ’’Darouet‘‘ نے لکھا کہ وہ ’’مایوس‘‘ ہیں کہ ویلز سیاسی دباؤ میں آ کر کمیونٹی سے علمی معیار اور غیر جانب داری کو ’’قربان‘‘ کرنے کا تقاضا کر رہے ہیں۔

کن اداروں نے غزہ میں نسل کشی کو تسلیم کیا ہے؟

ستمبر میں اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی کمیشن نے قرار دیا تھا کہ اسرائیل کی غزہ میں کارروائیاں نسل کشی کے مترادف ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے بیانات ’’نسل کشی کے ارادے‘‘ کے ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

تاہم اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے اس رپورٹ کو ’’جھوٹا‘‘ قرار دیا اور اس کے مصنفین پر ’’حماس کے ایجنٹ‘‘ ہونے کا الزام لگایا۔

اسی ماہ ’’انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف جینوسائیڈ اسکالرز‘‘، جو 500 ماہرین پر مشتمل تنظیم ہے، نے بھی ایک قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا کہ اسرائیل کی پالیسیاں اور اقدامات اقوام متحدہ کے 1948 کے نسل کشی کنونشن کی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔

اپریل میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی کہا کہ اسرائیل ’’براہِ راست نشر ہونے والی نسل کشی‘‘ کر رہا ہے۔

2023 میں جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ عدالت نے 2024 کے اوائل میں ابتدائی فیصلے میں کہا کہ اسرائیل کے اقدامات میں نسل کشی کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ یہ مقدمہ تاحال جاری ہے۔

غزہ میں موجودہ حالات کتنے سنگین ہیں؟

اسرائیل کی جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے بعد ہوا تھا، جن میں 1,139 افراد ہلاک اور تقریباً 200 افراد کو گرفتار کر کے غزہ لے جایا گیا تھا۔

گزشتہ دو برسوں میں جنگ نے غزہ کی اکثریتی آبادی کو بار بار بے گھر کر دیا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک تقریباً 69 ہزار افراد جاں بحق اور 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد لاپتہ ہیں۔

انسانی حقوق تنظیم ’’سیو دی چلڈرن‘‘ نے ستمبر میں بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم 20 ہزار بچے مارے جا چکے ہیں، یعنی ہر گھنٹے میں ایک بچہ ہلاک ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 21 ہزار سے زائد بچے مستقل معذور ہو گئے ہیں۔

شدید بمباری نے غزہ کی بیشتر رہائشی عمارتوں اور عوامی ڈھانچے کو ملبے میں بدل دیا ہے، جن میں تقریباً تمام اسپتال بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے ’’اونروا‘‘ کے مطابق صرف غزہ سٹی میں 83 فیصد عمارتیں تباہ یا متاثر ہو چکی ہیں، جن میں 81 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس شامل ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسُس نے اکتوبر میں کہا کہ غزہ میں اب کوئی مکمل فعال اسپتال باقی نہیں رہا۔ ’’36 میں سے صرف 14 اسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں‘‘ اور ادویات، آلات اور عملے کی ’’شدید قلت‘‘ ہے۔

بڑے پیمانے پر تباہی کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل پر پابندی برقرار رکھی ہوئی ہے، حتیٰ کہ 10 اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کے بعد بھی اسرائیلی حملے جاری رہے جن میں 236 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوئے۔

غزہ میں غذائی قلت خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ رپورٹ کے مطابق علاقے میں قحط کی صورتِ حال پیدا ہو چکی ہے۔ برطانوی ریڈ کراس نے 10 اکتوبر کو بتایا کہ غزہ کی 22 فیصد آبادی یعنی تقریباً 4 لاکھ 70 ہزار افراد بھوک سے مرنے کے قریب ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین