ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیشی جن پنگ کا روس کیساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم

شی جن پنگ کا روس کیساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم
ش

بیجنگ (مشرق نامہ) – چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین بیرونی دباؤ اور غیر یقینی عالمی حالات کے باوجود روس کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے۔

بیجنگ میں منگل کے روز روسی وزیرِ اعظم میخائل میشوستین سے ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون میں اضافے کے عزم کا اظہار کیا۔ چین نے گزشتہ تین برسوں میں روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو اس وقت مضبوط کیا جب ماسکو نے یوکرین پر مکمل حملہ کیا تھا، حالانکہ مغربی ممالک کی جانب سے چین پر مسلسل دباؤ موجود ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ صدر شی باہمی سرمایہ کاری کے فروغ کے خواہاں ہیں اور انہوں نے چین و روس کے تعلقات کو ’’مشترکہ اسٹریٹجک انتخاب‘‘ قرار دیا۔ بیان کے مطابق دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ’’قریبی رابطہ‘‘ برقرار رکھیں۔

چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق شی جن پنگ نے میشوستین سے گفتگو میں کہا کہ غیر مستحکم عالمی حالات کے باوجود چین اور روس کے تعلقات نے اس سال نمایاں پیش رفت کی ہے۔

انہوں نے توانائی، زراعت، خلائی شعبہ، ڈیجیٹل معیشت اور ماحول دوست ترقی جیسے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر زور دیا۔

روس اور چین کے تعلقات 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے مسلسل مضبوط ہوئے ہیں۔ شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس حملے سے کچھ دن قبل ’’لامحدود شراکت داری‘‘ کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

مغربی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے روس نے چین پر بھاری انحصار کیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی اور توانائی کے شعبے میں تعاون بھی مزید گہرا ہوا۔ تاہم حالیہ مہینوں میں دوطرفہ تجارت میں کمی آئی ہے کیونکہ چین کو امریکہ کی جانب سے تجارت اور ٹیکنالوجی پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔

شی جن پنگ اور پیوٹن کے ذاتی تعلقات بھی گزشتہ چند برسوں میں خاصے مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔ رواں سال ستمبر میں روسی صدر نے چین کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے اختتام کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ عظیم فوجی پریڈ میں شرکت کی۔

’انتہائی اہم‘

دوسری جانب کریملن نے میشوستین کے دورۂ چین کو ’’انتہائی اہم‘‘ قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کی قدر و قیمت پر زور دیا۔

دورے سے قبل روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو اس دورے کو ’’انتہائی اہم‘‘ سمجھتا ہے۔

پیوٹن نے منگل کے روز اپنی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ چین کی سرحد پر ’’ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک مراکز‘‘ قائم کرے۔ اسی نوعیت کے مراکز شمالی کوریا کی سرحد پر بھی تعمیر کیے جائیں گے۔

روس اور شمالی کوریا کے تعلقات بھی یوکرین جنگ کے دوران مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ حال ہی میں پیوٹن نے شمالی کوریا کی وزیرِ خارجہ چوے سون ہوئی سے ملاقات کی۔

2024 میں روس اور شمالی کوریا نے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت دونوں ممالک کسی بھی جارحیت کی صورت میں ایک دوسرے کو عسکری مدد فراہم کریں گے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین