ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومپاکستانڈیجیٹل ادائیگیاں 38٪ بڑھیں، مگر نقدی اب بھی غالب

ڈیجیٹل ادائیگیاں 38٪ بڑھیں، مگر نقدی اب بھی غالب
ڈ

کراچی(مشرق نامہ):پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام تیزی سے ترقی کر رہا ہے، مگر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی سالانہ رپورٹ “Annual Payment Systems Review 2024–25” کے مطابق، ساختی، آپریشنل اور ریگولیٹری مسائل ملک کو مکمل ڈیجیٹل معیشت میں منتقل ہونے سے سست کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں ریٹیل ادائیگیوں کی تعداد 9.1 ارب تک پہنچ گئی، جن کی مالیت 612 کھرب روپے رہی۔ یہ پچھلے سال کے مقابلے میں حجم کے لحاظ سے 38 فیصد اضافہ اور مالیت کے لحاظ سے 12 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
ڈیجیٹل ذرائع سے ہونے والی ٹرانزیکشنز کا حصہ اب 88 فیصد تک جا پہنچا ہے، جو گزشتہ سال کے 78 فیصد کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔

اربن فوکسڈ انفراسٹرکچر، دیہی علاقوں میں خلا:
پوائنٹ آف سیل (POS) مشینوں کی تعداد 56 فیصد بڑھ کر 1,95,849 ہو گئی جبکہ کیو آر (QR) فعال دکانداروں کی تعداد دگنی ہو کر تقریباً 11 لاکھ تک پہنچ گئی۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق دیہی اور نیم شہری علاقوں میں لوگ اب بھی بینک برانچوں یا ایجنٹس کے ذریعے اوور دی کاؤنٹر (OTC) ٹرانزیکشنز پر انحصار کرتے ہیں۔

ملک کے 7,31,814 برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس مالی شمولیت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، مگر کم ڈیجیٹل خواندگی، کمزور انٹرنیٹ نیٹ ورک اور ایجنٹس کے پاس نقدی کی کمی اب بھی بڑی رکاوٹیں ہیں۔

"اسٹکی کیش کلچر” برقرار:
اس وقت پاکستان میں اے ٹی ایمز کی تعداد 20,000 سے زائد ہے، لیکن ان کا 98 فیصد استعمال نقدی نکالنے کے لیے ہوتا ہے، جمع کرانے کے لیے نہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی صارفین کی روایتی عادتیں، بھروسے کی کمی اور نقدی پر انحصار “Sticky Cash Culture” کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

ریگولیٹری رکاوٹیں اور تکنیکی چیلنجز:
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بینکوں، الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (EMIs) اور فِن ٹیک پلیٹ فارمز کے درمیان Interoperability کے مسائل اب بھی موجود ہیں۔
اگرچہ "راست” کے ذریعے اب تک 1.9 ارب ٹرانزیکشنز مالیت 44.3 کھرب روپے ہو چکی ہیں، لیکن نئے کھلاڑیوں کے انضمام اور نظام کی uptime برقرار رکھنا اب بھی ایک چیلنج ہے۔

اسٹیٹ بینک نے بڑے پیمانے کی ادائیگیوں کے لیے PRISM+ (ISO 20022) سسٹم متعارف کرایا ہے، جو ریئل ٹائم گریس سیٹلمنٹ کو بہتر بناتا ہے۔ تاہم، اس کے لیے بینکوں کو سائبر سکیورٹی، کمپلائنس اور صلاحیت سازی میں مسلسل سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، خاص طور پر چھوٹے اور مائیکرو فنانس بینکوں کو۔

سائبر خطرات میں اضافہ:
ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کے بڑھتے ہوئے حجم کے ساتھ، سائبر حملوں، فِشنگ، اور فراڈ کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے اگرچہ جامع سکیورٹی ہدایات جاری کی ہیں، مگر ان پر عمل درآمد چھوٹے بینکوں اور فِن ٹیک اداروں میں غیر یکنواخت ہے۔
رپورٹ کے مطابق، فراڈ رپورٹنگ کا متحدہ نظام نہ ہونے کے باعث پورے شعبے کی دفاعی صلاحیت محدود ہے۔

مالی شمولیت — ترقی مگر غیر فعال اکاؤنٹس:
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں موبائل اور ای-والٹ صارفین کی تعداد تقریباً 11 کروڑ ہو چکی ہے، مگر ان میں سے بڑی تعداد غیر فعال ہے یا صرف سرکاری امدادی پروگراموں تک محدود ہے۔
اسٹیٹ بینک نے تسلیم کیا کہ "راست پرسن ٹو مرچنٹ (P2M)” اور "ڈیجیٹل ایکسیپٹنس ایٹ کیٹل مارکیٹس” جیسے اقدامات نے آگاہی تو بڑھائی ہے، مگر عوامی رویے اور بھروسے کی رکاوٹیں اب بھی بڑی حد تک موجود ہیں۔

نقدی کی برتری برقرار:زیادہ تر چھوٹے کاروباری افراد اور غیر رسمی شعبے کے کارکن اب بھی نقدی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، ڈیجیٹل فیسوں کی زیادتی، غیر مستحکم نیٹ ورک، اور ڈیجیٹل خواندگی کی کمی بڑی وجوہات ہیں۔

فِن ٹیک انڈسٹری میں جدت مگر نازک توازن:اسٹیٹ بینک نے 2025 میں Regulatory Sandbox متعارف کرایا ہے تاکہ نئی فِن ٹیک کمپنیوں کو محدود ماحول میں تجرباتی سہولت دی جا سکے۔رپورٹ کے مطابق، جدت، صارف کے تحفظ اور مالی نظام کے استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھنا اب بھی ایک نازک معاملہ ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین