کوئٹہ،(مشرق نامہ) 3 نومبر (اے پی پی): چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت سیکرٹریز کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں گورننس ریفارمز، ڈیجیٹل تبدیلی، منصوبوں کی مانیٹرنگ اور شفافیت پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ڈیولپمنٹ زاہد سلیم، چیئرمین سی ایم آئی ٹی محمد علی کاکڑ اور تمام محکموں کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔
چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے سروس ڈلیوری میں بہتری اور عوامی اعتماد کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے آن لائن بلنگ سسٹم اور ایس اے پی (SAP) سسٹم کے ذریعے فنڈز کی تقسیم کے فوری آغاز کی ہدایت کی، تاکہ مالی امور کو مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔
شکیل قادر خان نے تمام محکموں میں فائل ٹریکنگ سسٹم کے لازمی نفاذ کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس سے شفافیت اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
انہوں نے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سیکشن کو مکمل فعال کرنے پر زور دیا، تاکہ منصوبوں کی ٹریکنگ رپورٹس کی بنیاد پر مسائل کی نشاندہی اور اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔
چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ پاکستان سٹیزن پورٹل پر موصول شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنایا جائے تاکہ ریسپانسیو گورننس کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ صحت، تعلیم، روزگار اور صفائی کے شعبوں میں ترقیاتی پروگراموں پر مرکوز ہے، تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو اور بنیادی مسائل حل کیے جا سکیں۔
چیف سیکرٹری نے محکموں کو ہدایت کی کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے منصوبوں کی پیش رفت اور نتائج عوام کے سامنے لائیں تاکہ شفاف مواصلات کو فروغ ملے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ صوبائی ترقی کی رفتار تیز ہو۔
شکیل قادر خان نے خالی آسامیوں پر شفاف بھرتیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ادارہ جاتی دیانتداری اور عوامی اعتماد کو تقویت ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ:“یہ فعال اقدامات بلوچستان کے عوام کی زندگیوں میں بہتری اور سماجی بہبود کے فروغ کے لیے ہماری حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔”

