راولپنڈی،(مشرق نامہ) 3 نومبر (اے پی پی): پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ غزہ امن فورس میں شمولیت کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی۔
صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی پالیسیوں کی تشکیل میں مکمل طور پر خودمختار ہے اور ملک کی سرحدوں اور عوام کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاک فوج سیاست میں شامل نہیں ہونا چاہتی اور اسے سیاست سے دور رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال بلوچستان سمیت ملک بھر میں 62,113 آپریشنز کیے گئے جن میں 1,667 دہشت گرد مارے گئے اور 582 سیکیورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ پاک–افغان کشیدگی کے دوران 206 افغان طالبان اور 112 ’فتنہ الخوارج‘ کے دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ سرحد پار حملوں میں مارے جانے والے دہشت گردوں میں 60 فیصد افغان شہری شامل تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہے، افغانستان کی اندرونی صورتحال اس حوالے سے کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ منشیات فروش افغان سیاست میں مداخلت کر رہے ہیں اور بڑی مقدار میں منشیات پاکستان اسمگل کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی افغان طالبان کا تسلسل ہے کیونکہ اس نے ان کے امیر کی بیعت کر رکھی ہے۔ افغان طالبان دہشت گردوں کو گنجان علاقوں میں بسا کر انہیں تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارت ایک نئی جعلی کارروائی (False Flag Operation) کی تیاری میں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا:“بھارت اگر زمین، سمندر یا فضا میں کسی مہم جوئی کی کوشش کرے گا تو اس بار ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔”
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے اشتعال انگیزیوں پر پاکستان کا ردعمل فوری رہا ہے اور حکومتِ پاکستان مسائل کے حل کے لیے کابل انتظامیہ سے رابطے میں ہے۔
انہوں نے کہا:“پاکستان کا ایک نکاتی ایجنڈا ہے — افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔”
مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا میں 12,000 ایکڑ پر پوست کی کاشت ہو رہی تھی، جسے ڈرون، اے این ایف اور ایف سی آپریشنز کے ذریعے تلف کیا گیا۔ ایک ایکڑ سے پوست کی آمدنی 18 لاکھ سے 32 لاکھ روپے تک بتائی جاتی ہے، اور اس کاروبار میں مقامی سیاستدان اور رہائشی بھی ملوث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان ان کاشتکاروں کی حفاظت کرتے ہیں کیونکہ پوست افغانستان لے جائی جاتی ہے جہاں اسے آئس اور دیگر منشیات میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گورنر راج سے متعلق معاملات حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
ایک اور سوال پر بتایا کہ ملک میں مدارس کی تعداد 2014 میں 48 ہزار سے بڑھ کر 1 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے۔
=

