استنبول(مشرق نامہ): متعدد مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں جنگ کے بعد کے دور کے لیے ایسے فریم ورک کی حمایت کی ہے جس میں حکمرانی اور سلامتی کی ذمے داری خود فلسطینیوں کے پاس ہو، اور کسی بھی ممکنہ غزہ استحکام فورس (ISF) کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت تشکیل دیا جائے۔
ترک وزیرِ خارجہ حاقان فدان نے استنبول میں ہونے والے اجلاس کے بعد کہا کہ ترکی چاہتا ہے کہ جنگ کے بعد غزہ میں ایک ایسا نظام قائم ہو جس میں “فلسطینی اپنی حکومت اور سیکیورٹی خود سنبھالیں”۔
یہ اجلاس قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان، انڈونیشیا اور ترکی کے وزرائے خارجہ پر مشتمل تھا۔
حاقان فدان نے کہا کہ امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کے لیے جو ٹاسک فورس قائم کی جا رہی ہے، اسے سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے قانونی جواز حاصل ہونا چاہیے تاکہ ممالک اپنی شمولیت کا فیصلہ اس بنیاد پر کر سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ “یہ ضروری ہے کہ غزہ کے لیے بننے والی بین الاقوامی استحکام فورس کا مینڈیٹ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد سے واضح طور پر طے کیا جائے تاکہ اسے بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل ہو۔”
پاکستان کی مشاورت اور مؤقف
رپورٹس کے مطابق پاکستان میں بھی غزہ فورس میں ممکنہ شمولیت کے حوالے سے اعلیٰ سطحی مشاورت جاری ہے، تاہم اسلام آباد، جرمنی اور اردن کی طرح یہ مؤقف رکھتا ہے کہ کسی بھی فوجی تعیناتی کو اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کے تحت ہونا چاہیے۔
ترک وزیرِ خارجہ نے کہا کہ کسی بھی منصوبے کو پہلے تمام ممالک کی اتفاقِ رائے سے تیار کر کے سلامتی کونسل سے منظوری لینی ہوگی، اور اسے کسی بھی مستقل رکن کے ویٹو سے محفوظ ہونا چاہیے — ایک اشارہ امریکا کی جانب تھا جو اسرائیل کا قریبی اتحادی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “ہمارا اصول یہ ہے کہ فلسطینی اپنی حکومت خود چلائیں اور اپنی سیکیورٹی خود سنبھالیں، جبکہ عالمی برادری کو سفارتی، ادارہ جاتی اور معاشی طور پر اس کی حمایت کرنی چاہیے — کوئی نیا سرپرستی نظام نہیں بننا چاہیے۔”
فدان نے بتایا کہ تمام سات ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ غزہ کی سلامتی اور حکمرانی فلسطینیوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ہفتے کے آخر میں انہوں نے حماس کے وفد سے بھی ملاقات کی ہے، جس کی قیادت خلیل الحیہ کر رہے تھے، اور حماس نے غزہ کو فلسطینیوں کی مشترکہ کمیٹی کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ایردوان کا خطاب
ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ حماس جنگ بندی کی پاسداری کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ اسرائیل کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے اجلاس سے خطاب میں کہا، “مسلم ممالک کو غزہ کی تعمیرِ نو میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسرائیلی حکومت ہر ممکن طریقے سے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔”
انہوں نے زور دیا کہ “اب ہمیں غزہ کے عوام کے لیے فوری انسانی امداد فراہم کرنی چاہیے اور تعمیرِ نو کے عمل کا آغاز کرنا چاہیے۔ عرب لیگ اور او آئی سی کی تیار کردہ تعمیرِ نو کی منصوبہ بندی فوری طور پر نافذ کی جانی چاہیے۔”
پاکستان کا مؤقف
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے دیگر عرب و اسلامی وزرائے خارجہ کے ساتھ غزہ میں پائیدار امن، جنگ بندی کے نفاذ اور انسانی امداد کے فوری اقدامات پر مشاورت کی۔
بیان میں کہا گیا کہ “رہنماؤں نے فلسطینی عوام کے لیے ہنگامی انسانی امداد پر زور دیا، اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیوں کی مذمت کی، اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کیا۔”
پاکستان نے اپنے اصولی مؤقف کو دہرایا کہ ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو، جیسا کہ اقوامِ متحدہ اور او آئی سی کی قراردادوں میں طے کیا گیا ہے۔

