ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیافغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے پر پاک فوج کا دوٹوک...

افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے پر پاک فوج کا دوٹوک مؤقف
ا

اسلام آباد(مشرق نامہ): پاک فوج نے طالبان حکومت کے ساتھ آئندہ مذاکرات سے قبل سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا واحد اور ناقابلِ مذاکرات مطالبہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پیر کے روز ایک بریفنگ میں کہا کہ “افغان طالبان کی شرائط بے معنی ہیں، اصل معاملہ دہشت گردی کے خاتمے کا ہے۔ پاکستان کا ایک نکاتی ایجنڈا ہے — افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔”

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 6 نومبر کو ترکی کے شہر استنبول میں متوقع ہے۔

گزشتہ ماہ قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے چھ روزہ مذاکرات میں دونوں فریقین نے دوحہ میں طے شدہ جنگ بندی کے عزم کو دہرایا اور سرحد پار دہشت گردی کی نگرانی کے لیے ایک مانیٹرنگ و تصدیقی میکنزم پر اتفاق کیا، تاہم اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر پیش رفت نہیں ہو سکی۔

افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کی ملی بھگت

جنرل چوہدری نے بتایا کہ فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے خلاف آپریشنز جاری ہیں جن میں 1,667 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ سرحدی جھڑپوں میں 206 افغان طالبان جنگجو اور 112 ٹی ٹی پی دہشت گرد مارے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند ماہ میں سرحدی دراندازی کی کوششوں میں مارے جانے والے دہشت گردوں میں تقریباً 60 فیصد افغان شہری شامل تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان حد فاصل دھندلا چکی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا، “ٹی ٹی پی کوئی الگ گروہ نہیں بلکہ افغان طالبان کی ایک شاخ ہے۔ ہمارے پاس شواہد موجود ہیں کہ طالبان ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو گنجان آباد علاقوں میں بسا رہے ہیں تاکہ انہیں انسانی ڈھال کے طور پر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسائل کے پرامن حل کا خواہاں ہے، لیکن “سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔”

امریکی ڈرون آپریشنز کی تردید

جنرل چوہدری نے افغان اور بھارتی میڈیا میں گردش کرنے والی ان خبروں کو “من گھڑت اور بے بنیاد” قرار دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے امریکا کو افغانستان میں ڈرون حملوں کی اجازت دی ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ خبر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جھوٹی پروپیگنڈا مہم ہے۔ پاکستان نے امریکا یا کسی دوسرے ملک کو اپنی سرزمین افغانستان پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔”

بھارت کی ممکنہ جعلی کارروائی

ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ بھارت سمندری حدود میں جعلی کارروائی (False Flag Operation) کی تیاری کر رہا ہے تاکہ جھوٹے شواہد کے ذریعے پاکستان پر حملے یا جارحیت کا الزام لگایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی اشتعال انگیزی کی صورت میں “پچھلے تمام واقعات سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔”

انہوں نے بتایا کہ حالیہ بھارتی سرگرمیوں — بشمول ٹرشول مشقیں، بہار انتخابات اور علاقائی کشیدگی — کو دیکھتے ہوئے پاکستان اس ممکنہ منصوبے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے حال ہی میں ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں سندھ کے ماہی گیر اعجاز ملاح نے اعتراف کیا کہ اسے بھارتی خفیہ ایجنسی را نے پاکستان میں جاسوسی کے لیے دباؤ میں رکھا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ انکشاف بھارت کے بحری دہشت گردی نیٹ ورک کے ثبوتوں میں سے ایک ہے۔

غزہ امن فورس

غزہ میں ممکنہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) کے قیام کے حوالے سے سوال پر جنرل چوہدری نے کہا کہ “پاکستانی افواج کی شمولیت کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی۔”

انہوں نے واضح کیا کہ فوج حکومت کے فیصلے کی منتظر ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں نے خبردار کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی واضح نگرانی کے بغیر کسی بھی مشن میں شمولیت سے پاکستان کو فلسطینی عوام کے خلاف دباؤ ڈالنے والے اقدامات کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔


مقبول مضامین

مقبول مضامین