مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – امریکی وفاقی عدالت نے فلسطین کے حامی برطانوی صحافی سمی حمری کی گرفتاری کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس کے قانونی جواز پر سوال اٹھائے ہیں۔
برطانوی نژاد تیونسی تجزیہ کار اور صحافی سمی حمری کو گزشتہ ماہ امریکی امیگریشن حکام نے کیلیفورنیا میں اس وقت گرفتار کیا جب وہ شمالی امریکا کے دورے پر فلسطینیوں کے خلاف صیہونی جارحیت اور غزہ میں جاری نسل کشی کے بارے میں لیکچرز دے رہے تھے۔
ایک قانونی تنظیم کے مطابق، امریکی وفاقی عدالت نے فلسطین نواز صحافی کی گرفتاری پر “سنگین آئینی سوالات” اٹھائے ہیں۔ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے سمی حمری کو کیلیفورنیا سے منتقل کرنے کے اقدام کو عدالت نے روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکن اسلامک ریلیشنز کونسل (CAIR) کے مطابق صادر ہوا۔
CAIR نے بیان میں کہا کہ عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ سمی حمری کے وکلاء نے یہ “سنگین سوال” اٹھایا ہے کہ آیا ان کی گرفتاری امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت محفوظ اظہارِ رائے کے خلاف انتقامی کارروائی ہے۔ تنظیم نے عدالت کے فیصلے کو “قانونی جدوجہد میں ایک اہم پہلا قدم” قرار دیا۔
تنظیم کے مطابق، سمی حمری کی گرفتاری ان کے صیہونی حکومت پر تنقید کے بدلے میں کی گئی انتقامی کارروائی ہے، جو غیر آئینی اور ایک “بے گناہ شخص کے اغوا” کے مترادف ہے۔
CAIR کے جنوبی کیلیفورنیا چیپٹر کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر حسام ایلولش نے کہا کہ عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ یہ کیس سنگین آئینی خدشات اٹھاتا ہے، اور اس نے یہ یقینی بنایا ہے کہ سمی کو ان کے وکلاء سے دور چپکے سے منتقل نہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ جدوجہد صرف سمی کی آزادی کے لیے نہیں بلکہ ہر ایک کے آزادیٔ اظہار کے تحفظ کے لیے جاری ہے۔
صیہونی نسل کشی کے ناقد صحافی کی غیر قانونی حراست نے قانونی جنگ کو جنم دیا ہے، ان کے وکلاء نے فوری رہائی کے لیے ہنگامی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ اور سول سوسائٹی تنظیمیں برطانوی حکومت سے ان کی رہائی کے لیے مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
سمی حمری کو 26 اکتوبر کو سان فرانسسکو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ICE کے اہلکاروں نے حراست میں لیا، جبکہ ان کے علم میں لائے بغیر امریکی محکمہ خارجہ نے ان کا ویزا دو دن قبل منسوخ کر دیا تھا۔
شمالی امریکا کے دورے کے دوران سمی کو فلسطین کے حق میں مؤقف اختیار کرنے پر صیہونی نواز گروہوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا گیا۔ ان کے خلاف اسلام مخالف اور اسرائیل نواز اکاؤنٹس نے ایک منظم مہم چلائی اور امریکی حکام پر ان کا دورہ روکنے کے لیے دباؤ ڈالا۔
سمی کی اہلیہ، سومایہ، نے بدھ کے روز کہا کہ ان کے شوہر کو “فلسطینیوں کے حقوق کی وکالت کرنے کی پاداش میں اغوا کیا گیا۔” ان کے اہلِ خانہ کے مطابق، 35 سالہ صحافی کو حراست کے دوران بائیں جانب شدید تکلیف کی شکایت تھی، جس پر انہیں جیل میں طبی امداد فراہم کی گئی۔
صیہونی حکومت نے اکتوبر 2023 میں غزہ کی محصور پٹی پر اپنی نسل کشی کی مہم شروع کی تھی، جس میں اب تک 68 ہزار 500 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ ہزاروں افراد اب بھی ملبے تلے دبے یا ناقابلِ رسائی علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
مقامی فلسطینی حکام کے مطابق، شہادتوں میں دو تہائی سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں، جنہیں زیادہ تر فضائی حملوں میں اپنے خاندانوں سمیت نشانہ بنایا گیا۔

