ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیچین کی جوہری تجربات کی تردید، امریکہ سے پابندی برقرار رکھنے کا...

چین کی جوہری تجربات کی تردید، امریکہ سے پابندی برقرار رکھنے کا مطالبہ
چ

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ بیجنگ خفیہ طور پر جوہری ہتھیاروں کے تجربات کر رہا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے پیر کے روز کہا کہ چین نے گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری غیر رسمی پابندی (moratorium) کی خلاف ورزی نہیں کی۔

ٹرمپ نے اتوار کو الزام عائد کیا تھا کہ چین کے علاوہ روس، شمالی کوریا اور پاکستان بھی خفیہ جوہری تجربات میں مصروف ہیں۔ انہوں نے یہ بیان اس وقت دیا جب وہ امریکہ کو دوبارہ جوہری تجربات شروع کرنے کے لیے جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ترجمان ماؤ نِنگ نے کہا کہ چین نے "جوہری تجربات معطل رکھنے کے اپنے عہد کی مکمل پاسداری کی ہے۔” انہوں نے کہا کہ چین ایک "ذمہ دار ایٹمی طاقت” کے طور پر پُرامن ترقی کے راستے پر گامزن ہے، "پہلے استعمال نہ کرنے” کی پالیسی پر عمل کرتا ہے، دفاعی نوعیت کی جوہری حکمتِ عملی رکھتا ہے، اور تجرباتی پابندی پر کاربند ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ امریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھی جوہری تجربات پر عائد پابندی برقرار رکھے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے جمعرات کے روز اچانک اعلان کیا کہ انہوں نے محکمہ دفاع کو “فوری طور پر” جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

ماؤ نِنگ نے زور دیا کہ چین توقع کرتا ہے کہ امریکہ بین الاقوامی جوہری تخفیفِ اسلحہ اور عدم پھیلاؤ کے نظام کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے اور عالمی تزویراتی توازن و استحکام کو برقرار رکھے۔

“واحد ملک جو تجربہ نہیں کر رہا”
ٹرمپ نے اپنے الزامات کے ثبوت پیش کیے بغیر امریکی ٹی وی نیٹ ورک CBS کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ روس تجربات کر رہا ہے، چین بھی کر رہا ہے، لیکن وہ اس پر بات نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ میں واحد ملک نہیں بننا چاہتا جو تجربات نہیں کر رہا۔ اس موقع پر انہوں نے شمالی کوریا اور پاکستان کو بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا جن پر مبینہ طور پر خفیہ جوہری تجربات کا شبہ ہے۔

امریکہ نے آخری بار 1992 میں جوہری دھماکہ کیا تھا، جبکہ شمالی کوریا کے سوا کسی ملک کی جانب سے گزشتہ کئی دہائیوں میں جوہری دھماکہ نہیں کیا گیا۔ روس اور چین کا کہنا ہے کہ انہوں نے بالترتیب 1990 اور 1996 کے بعد سے کوئی جوہری تجربہ نہیں کیا۔

تاہم، روس نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا کہ اس نے ایک نیا جوہری توانائی سے چلنے والا کروز میزائل Burevestnik اور جوہری صلاحیت رکھنے والی زیرِ آب ڈرون کا تجربہ کیا ہے۔

“سسٹم ٹیسٹ”

ٹرمپ کے اچانک اعلان کے بعد کہ انہوں نے امریکی فوج کو تجربات شروع کرنے کا حکم دیا ہے، صورتحال مزید غیر واضح ہوگئی۔ انہوں نے یہ بیان چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے چند منٹ قبل سوشل میڈیا پر دیا۔

جب CBS نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ واقعی تین دہائیوں بعد امریکہ سے جوہری دھماکہ کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ہم دیگر ممالک کی طرح جوہری ہتھیاروں کے تجربات کریں گے، ہاں۔

اسی روز امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے وضاحت کی کہ اس کا مطلب جوہری دھماکے نہیں ہیں۔ انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ جو تجربات زیرِ غور ہیں وہ دراصل سسٹم ٹیسٹ ہیں، جوہری دھماکے نہیں۔

انہوں نے بتایا، یہ ایسے تجربات ہیں جنہیں ہم ‘نان کریٹیکل ایکسپلوژن’ کہتے ہیں، یعنی ان میں جوہری دھماکہ شامل نہیں ہوتا بلکہ ہتھیار کے دیگر حصوں کو آزمایا جاتا ہے تاکہ یقین ہو کہ وہ درست طریقے سے جوہری عمل کے لیے تیار ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین