ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیکیا برطانیہ کی فلسطین کی تسلیم بالفور کے گناہوں کا کفارہ ہے؟

کیا برطانیہ کی فلسطین کی تسلیم بالفور کے گناہوں کا کفارہ ہے؟
ک

بالفور اعلامیہ اور اس کی میراث

نومبر 1917 میں برطانوی وزیرِ خارجہ آرتھر بالفور نے لارڈ روتھسچائلڈ کو ایک مختصر خط لکھا جس میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت فلسطین میں یہودی عوام کے لیے ایک قومی وطن کے قیام کی حامی ہے۔

یہی خط بعد میں ’’بالفور اعلامیہ‘‘ کہلایا جو باضابطہ طور پر 2 نومبر 1917 کو جاری کیا گیا۔ اس میں برطانیہ نے صہیونی مقاصد کی حمایت کا وعدہ کیا، تاہم ساتھ ہی ایک شرط بھی شامل کی گئی کہ ایسا کچھ نہ کیا جائے جو فلسطین کی غیر یہودی آبادی کے شہری یا مذہبی حقوق کو نقصان پہنچائے۔

یہ اعلامیہ فلسطین کے عربوں سے کسی مشاورت کے بغیر جاری کیا گیا تھا، حالانکہ اُس وقت وہ آبادی کا 90 فیصد سے زیادہ تھے۔ یہ اقدام پہلی جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ کی اُن وعدوں سے بھی متصادم تھا جو اس نے حسین-میکمہون خط و کتابت کے ذریعے عربوں سے آزادی کے حق میں کیے تھے، اور جو سائکس-پیکو معاہدے کے تحت فرانس کے مفادات سے بھی جڑے تھے۔

عملی طور پر اس اعلامیے نے فلسطین پر برطانوی انتداب (Mandate) کے قیام کی راہ ہموار کی اور یہودی ہجرت کو بڑھاوا دیا۔ برطانیہ نے اپنے انتدابی دور میں صہیونی آبادکاری کو فعال طور پر فروغ دیا، جس سے فلسطین میں یہودی آبادی 1922 میں تقریباً 9 فیصد سے بڑھ کر 1935 تک 27 فیصد سے تجاوز کر گئی، جو اکثر فلسطینیوں کے نقصان پر ممکن ہوا۔

برطانیہ کے محرکات پیچیدہ تھے۔ مؤرخین کے مطابق اس اعلامیے کا مقصد یہودی حمایت حاصل کرنا تھا، بالخصوص امریکہ اور روس میں، تاکہ اتحادیوں کی جنگی کوششوں کو تقویت ملے، اور ساتھ ہی نہرِ سوئز کے قریب ایک برطانوی حلیف برادری قائم کی جا سکے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانوی پالیسی سازوں نے صہیونیت کو ایک نوآبادیاتی آلہ سمجھا — یہودیوں کو فلسطین میں وطن دینے کے وعدے سے برطانیہ نے گھریلو صہیونی دباؤ کو کم کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔

جو بھی محرک رہا ہو، اس اعلامیے نے فلسطینی اکثریت کو سیاسی طور پر پسِ پشت ڈال دیا۔ معروف دانشور ایڈورڈ سعید نے اسے یوں بیان کیا کہ یہ ایک یورپی طاقت کا اعلان تھا جو غیر یورپی خطے کے بارے میں کیا گیا، وہاں کے باشندوں کی موجودگی اور خواہشات کو سراسر نظرانداز کرتے ہوئے۔

فلسطینیوں کے لیے بالفور اعلامیہ ایک سنگین دھوکے کی علامت ہے — ایک نوآبادیاتی وعدہ جس نے نہ صرف 1948 کے نَقبت (المیہ) کی پیش گوئی کی بلکہ اُس قانونی و سیاسی ڈھانچے کی بنیاد رکھی جس پر آج غزہ کی نسل کشی اور مغربی کنارے میں صہیونی بستیاں پھیل رہی ہیں۔

’’برطانوی حکومت فلسطین میں یہودی عوام کے لیے ایک قومی وطن کے قیام کی حامی ہے اور اس مقصد کے حصول میں اپنی پوری کوشش کرے گی، بشرطیکہ ایسا کوئی اقدام نہ کیا جائے جو فلسطین کی موجودہ غیر یہودی آبادی کے شہری یا مذہبی حقوق کو متاثر کرے یا کسی دوسرے ملک میں یہودیوں کے حقوق و سیاسی حیثیت کو نقصان پہنچائے۔‘‘
— آرتھر جیمز بالفور، برطانوی وزیرِ خارجہ

برطانیہ کا فلسطین کی غیر یہودی آبادی کے حقوق کے تحفظ کا وعدہ انتداب کے آغاز کے ساتھ ہی نظرانداز کر دیا گیا۔ اگرچہ اعلامیے میں واضح طور پر لکھا تھا کہ غیر یہودی برادری کے شہری و مذہبی حقوق متاثر نہیں ہوں گے، مگر برطانوی پالیسیاں جلد ہی ’’یہودی قومی وطن‘‘ کے قیام کے حق میں ڈھل گئیں۔

1939 میں برطانیہ نے عربوں کی مزاحمت کے پیشِ نظر ’’وائٹ پیپر‘‘ جاری کیا جس میں یہودی ہجرت اور زمینوں کی فروخت پر پابندیاں لگائی گئیں، لیکن صہیونی قیادت نے اسے بالفور کے وعدے سے انحراف قرار دیا۔ تاہم دوسری جنگِ عظیم کے آغاز اور 1948 میں ’’اسرائیل‘‘ کے قیام نے ان پالیسیوں کو بے معنی کر دیا۔

اس وقت تک فلسطینی عربوں کو نہ کوئی ریاست ملی اور نہ حقیقی خودمختاری، یوں 1917 کے بیج بوئے گئے ظلم نے جڑ پکڑ لی۔ فلسطینی آج بھی یاد دلاتے ہیں کہ یہ اعلامیہ ایک ایسی سرزمین پر لاگو کیا گیا جہاں 90 فیصد سے زائد آبادی مقامی عرب تھی، جنہیں نہ مشاورت دی گئی نہ سیاسی حقوق۔

غزہ پر جنگ 2025: تباہی اور بے دخلی

قریب ایک صدی بعد، بالفور کی بدنام میراث آج ’’اسرائیل‘‘ کی غزہ پر جنگ میں زندہ ہے — ایک ایسی جنگ جس نے ہولناک تباہی اور موت پھیلائی۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2025 کے اوائل تک صہیونی افواج نے 67 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور 1 لاکھ 69 ہزار کو زخمی کیا، جن میں تقریباً 19 ہزار بچے جاں بحق اور 42 ہزار زخمی ہوئے۔

غزہ کی 22 لاکھ آبادی میں سے تقریباً 90 فیصد کو کم از کم ایک بار زبردستی بے دخل کیا جا چکا ہے۔ ’’اسرائیل‘‘ کی وحشیانہ بمباری اور ناکہ بندی نے شہریوں کو بار بار بے گھر کیا۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق صہیونی حکام نے اجتماعی ’’جبری بے دخلی‘‘ اور شہری گھروں کی منظم تباہی کی پالیسی اپنائی ہے، جو ممکنہ طور پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہے۔

نتیجتاً غزہ مکمل طور پر ناقابلِ رہائش بن چکا ہے — بجلی، پانی، نکاسیِ آب اور صحت کے تمام نظام تباہ ہو چکے ہیں، اور اقوامِ متحدہ کی ایجنسیاں اسے قحط کی حالت قرار دے چکی ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور امدادی تنظیموں کے بقول غزہ ایک ’’انسان ساختہ انسانی المیے‘‘ سے گزر رہا ہے۔

برطانیہ کی فلسطین کو تسلیم کرنا: سیاسی تماشہ؟

غزہ کی بربادی کے بیچ برطانیہ نے ’’امید زندہ کرنے‘‘ کے نام پر فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔

21 ستمبر 2025 کو وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے باضابطہ اعلان کیا کہ برطانیہ ’’ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرتا ہے۔‘‘

یہ اعلان غزہ کی نسل کشی کے عروج پر سامنے آیا اور لیبر پارٹی کے منشور میں شامل وعدے کی تکمیل تھی۔ اسٹارمر نے اسے اخلاقی فریضہ قرار دیا کہ غزہ کا انسان ساختہ بحران نئی گہرائیوں کو چھو رہا ہے، بھوک اور تباہی ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے ’’اسرائیل‘‘ کو 75 سال پہلے تسلیم کیا تھا، اور اب 150 سے زائد ممالک کے ساتھ مل کر فلسطین کو تسلیم کرنا ایک پیغام ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی دونوں بہتر مستقبل کے مستحق ہیں۔

تاہم، 1967 کی سرحدوں کے اندر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا لندن کے گناہوں کا کفارہ نہیں۔

1947 کے اقوامِ متحدہ کے تقسیم منصوبے اور 1949 کے جنگ بندی معاہدوں کے درمیان فلسطین کا جغرافیہ ڈرامائی طور پر بدل گیا۔ جنرل اسمبلی کی قرارداد 181 نے فلسطین کا 56 فیصد حصہ مجوزہ ’’یہودی ریاست‘‘ کو اور 42 فیصد عرب ریاست کو دیا تھا، لیکن 1948 کی جنگ کے بعد ’’اسرائیل‘‘ نے دریائے اردن کے مغرب میں تقریباً 78 فیصد زمین پر قبضہ کر لیا — جو اب 1967 کی سرحدوں کے نام سے جانی جاتی ہیں۔

باقی 22 فیصد حصہ — یعنی غزہ اور مغربی کنارہ — یا تو مکمل طور پر تباہ و محصور ہے یا براہِ راست صہیونی قبضے میں۔

برطانیہ نے فلسطینی ریاست کو اس وقت تسلیم کیا جب ایک مکمل نسل کشی وقوع پذیر ہو چکی تھی — مگر انہی سرحدوں پر جو 1948 کی نسلی صفائی کے نتیجے میں قائم ہوئیں۔

’’اسرائیل‘‘ نے اُس وقت جن علاقوں پر قبضہ کیا، ان میں اہم ساحلی شہر، زرخیز زرعی زمینیں، بحیرہ روم اور بحیرہ احمر تک کی بندرگاہوں تک رسائی، گلیلی جھیل اور دریائے اردن کے حصوں جیسے آبی وسائل، وادیِ یزرعیل و حولہ جیسے زرعی علاقے، اور بحیرہ مردار کے قریب معدنی دولت سے بھرپور علاقے شامل تھے۔ یہ وسائل نہ صرف اقتصادی و زرعی برتری دیتے تھے بلکہ طویل المدتی تزویراتی گہرائی اور تجارتی و آبی راستوں پر کنٹرول بھی فراہم کرتے تھے۔

اب برطانیہ ایک منقسم فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رہا ہے — جو قدرتی وسائل سے محروم، زمین کے بڑے حصے سے کٹی ہوئی، اور مسلسل پھیلتی صہیونی بستیوں کے درمیان بٹی ہوئی ہے — جبکہ مغربی کنارے میں بستیاں روکنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا جا رہا۔

اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموترچ نے جواب میں کہا کہ ’’انتداب ختم ہو چکا ہے‘‘ اور یہ کہ ’’اسرائیل‘‘ کو ’’یہودی عوام کے وطن پر خودمختاری‘‘ کو مستحکم کرنا چاہیے۔

برطانیہ کے اندر مبصرین نے تسلیم کو ’’محض علامتی‘‘ اور اسٹارمر کے خارجہ پالیسی کے ازسرِ نو تعین کا حصہ قرار دیا۔ ’’گارڈین‘‘ کے مطابق یہ اقدام ’’زمینی حقائق پر کچھ نہیں بدلے گا۔‘‘

غیر قانونی بستیاں: توسیع کی انتہا

جب غزہ بمباری کی زد میں ہے، ’’اسرائیل‘‘ مغربی کنارے اور دیگر علاقوں میں بستیوں کی توسیع تیز تر کر رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے ریکارڈ رفتار سے نئے منصوبے منظور کیے ہیں۔ رائٹرز کے تجزیے کے مطابق 2023 کے بعد سے مغربی کنارے میں بستیوں کے لیے منظور شدہ رہائشی یونٹس کی تعداد گزشتہ نو سالوں کے مجموعے سے زیادہ ہے، جب کہ صرف 2025 میں ان کی منظوری 2020 کے مقابلے میں دوگنی رہی۔

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ کے مطابق بستیوں کی تعمیر ’’مسلسل بڑھ رہی ہے‘‘۔ ہر نئی چوکی اور رہائشی منصوبہ فلسطینی زمین میں ’’اسرائیل‘‘ کی جڑیں مزید گہری کرتا ہے، جس سے کسی متصل فلسطینی ریاست کا امکان معدوم ہو جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے اوائل تک مغربی کنارے میں فلسطینی نقل و حرکت پر 850 مختلف پابندیاں نافذ تھیں، جو غزہ کی جنگ سے پہلے 565 تھیں۔ نئے سڑکوں اور چوکیوں نے فلسطینی دیہاتوں کو الگ تھلگ کر دیا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت تمام بستیاں غیر قانونی ہیں، مگر ’’اسرائیل‘‘ مکمل استثنا کے ساتھ انہیں بڑھا رہا ہے۔

بالفور بطور نوآبادیاتی حکمتِ عملی

مورخین کے نزدیک بالفور اعلامیہ صرف صہیونیت کی حمایت نہیں بلکہ ایک حساب شدہ نوآبادیاتی چال تھی۔ یہودیوں کو عثمانی فلسطین میں وطن دینے کی پیشکش کے ذریعے برطانیہ نے اتحادیوں کی حمایت کے لیے ’’یہودی رائے‘‘ کو اپنے حق میں موڑنے اور مشرقِ وسطیٰ میں نیا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کی۔

برطانوی رہنماؤں کو امید تھی کہ یہودیوں کو فلسطین کی طرف راغب کر کے لندن میں ان کے دباؤ کو کم کیا جا سکے گا۔ اس طرح بالفور نے صہیونی قیادت کو پیغام دیا کہ وہ اپنی قوم پرستی کی امنگیں فلسطین میں مرکوز کرے، نہ کہ برطانوی دارالحکومت میں۔

صہیونی رہنما چائم وائزمین جیسے افراد برطانیہ کی مدد لینے کے خواہاں تھے، جبکہ لائیڈ جارج اور دیگر نے نہرِ سوئز کے قریب ایک یہودی مرکز کو تزویراتی لحاظ سے مفید سمجھا۔

یوں یہودی قومی خواہشات کا مرکز برطانوی سڑکوں سے مشرقِ وسطیٰ منتقل ہو گیا۔ بعد ازاں 1922 میں لیگ آف نیشنز نے جب برطانیہ کو انتداب سونپا تو یہ صہیونی منصوبہ باقاعدہ بین الاقوامی حیثیت اختیار کر گیا۔

جواب دہی اور ازالہ

آج برطانیہ کے خلاف جواب دہی اور ہرجانے کے مطالبات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ستمبر 2025 میں فلسطینیوں اور وکلا کے ایک اتحاد نے 900 صفحات پر مشتمل درخواست دائر کی جس میں برطانیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ 1917 سے 1948 تک بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو تسلیم کرے اور تلافی کرے۔

درخواست گزاروں کے مطابق برطانیہ کی ’’غیر قانونی میراث‘‘ — بالفور اعلامیے سے لے کر عرب بغاوتوں کے ظالمانہ کچلاؤ تک — آج بھی گونجتی ہے۔ مہم ’’برٹین اوز فلسطین‘‘ نے باضابطہ معافی، ہرجانے، اور تاریخی احتساب کا مطالبہ کیا ہے، جیسا کہ برطانیہ نے بعض نوآبادیاتی جرائم مثلاً 1948 کے بتانگ کالی قتلِ عام پر کیا تھا۔

تاہم برطانوی حکومت نے قانونی ذمہ داری سے انکار کر دیا ہے۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق 1917 کے حالات اور قوانین اب لاگو نہیں ہوتے۔ حکومتی ترجمان نے کہا کہ برطانیہ نے 1948 میں ’’اسرائیل‘‘ کے وجود کو تسلیم کیا اور متعدد اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کی، اس لیے ’’جو کچھ 1917 میں ہوا وہ اُس وقت کی جنگی صورتحال میں ہوا‘‘ اور آج کے تناظر سے ’’براہِ راست قابلِ موازنہ‘‘ نہیں۔

اگر 1917 کے معیارات لاگو نہیں ہوتے تو موجودہ بین الاقوامی قانون کا کیا جواز باقی رہتا ہے؟

نتیجہ: تاریخ اور آگے راستہ

بالفور اعلامیہ ایک ایسا نوآبادیاتی وعدہ تھا جس نے فلسطین کی مقامی اکثریت کو نظرانداز کر دیا۔ آج، 108 سال بعد، وہی مسائل بدستور حل طلب ہیں۔

2025 میں جب غزہ 1948 کے بعد اپنی تاریک ترین گھڑی سے گزر رہا ہے، 1917 کی بازگشت اب بھی سنائی دیتی ہے — غزہ کے ملبے میں، مغربی ایشیا کے مہاجر کیمپوں میں، اور اقوامِ متحدہ و لندن کی سفارتی بحثوں میں۔

فلسطینیوں کے نزدیک ’’ریاست‘‘ یا ’’دو ریاستی حل‘‘ کی ہر بات سے پہلے 1917 کے الفاظ اور نوآبادیاتی وراثت کا سامنا کرنا ہوگا۔

لیکن محض علامتی اعترافات — چاہے پارلیمانی قراردادیں ہوں، رسمی بیانات ہوں یا اعتذاری تقریریں — حقیقت نہیں بدل سکتے۔

اگر سالگرہ کی یادگاروں کو محض خطابات سے آگے بڑھانا ہے، تو ان کے ساتھ عمل جوڑنا ہوگا: بے دخلی کی پالیسیوں کو فوری روکا جائے، شہریوں کے تحفظ اور انصاف کے مؤثر طریقے اختیار کیے جائیں، اور فلسطینیوں کے سیاسی حقوق کی بحالی کے لیے حقیقی بین الاقوامی دباؤ ڈالا جائے — جن میں ازالہ، ہرجانہ، اور دیرپا سیاسی حل شامل ہوں۔

جب تک ایسا نہیں ہوتا، بالفور اعلامیہ تاریخ کی ایک پرانی دستاویز نہیں بلکہ برطانوی نوآبادیاتی ناانصافی کی زندہ علامت رہے گا، جس کے اثرات آج بھی نسل در نسل منتقل ہو رہے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین