مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے امریکہ کی جانب سے اپنی حکومت کے قریبی افراد پر ممکنہ پابندیوں کی خبروں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سویڈن سے گریپن لڑاکا طیارے خریدنے کے فیصلے کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن کی مداخلت کولمبیا کی خودمختاری پر حملہ ہے۔
کولمبیائی روزنامہ ایل تیئمپو کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ، صدر پیٹرو کے قریبی افراد کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔ ان افراد میں خاتونِ اول ویرو نیکا الکوسر بھی شامل ہیں، جو پہلے ہی کلنٹن فہرست، جسے باضابطہ طور پر اوفیک لسٹ کہا جاتا ہے، میں درج ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ صدر پیٹرو کے حالیہ سرکاری دورۂ سعودی عرب، قطر اور مصر کے دوران کم از کم دس کمپنیوں نے ایندھن فراہم کرنے سے انکار کر دیا، مبینہ طور پر اس فہرست میں ان کے نام کی موجودگی کی وجہ سے۔
نام ظاہر نہ کرنے والی واشنگٹن کی ذرائع کے مطابق، پابندیوں کے "دوسرے مرحلے” پر غور جاری ہے، جس کے تحت صدر اور خاتونِ اول سے وابستہ افراد کے اثاثوں اور مالی لین دین کی تحقیقات ممکن ہیں۔
اس رپورٹ کے جواب میں صدر پیٹرو نے دو "انتہائی سنگین امور” کی نشاندہی کی—ایک، ان کے خاندان کی نگرانی؛ اور دوسرا، امریکی حکام کی ناراضی جو سویڈن سے گریپن طیارے خریدنے کے فیصلے پر مبنی ہے، کیونکہ کولمبیا نے واشنگٹن کی جانب سے پیش کردہ پرانے ایف-16 طیاروں کی خریداری کو مسترد کر دیا تھا۔
پیٹرو نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اپنے بیان میں کہا کہ سویڈش گریپن طیاروں کی خریداری کا عمل مکمل طور پر شفاف اور ملکی قانون کے مطابق ہوا۔
امریکی نگرانی اور سیاسی انتقام کے الزامات
صدر پیٹرو نے زور دیا کہ سویڈن نہ تو کوئی دہشت گرد ملک ہے اور نہ ہی اس کے اسلحہ ساز منشیات فروش ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ پھر مجھے روسی طیارے خریدنے پر مجبور نہ کریں۔ ہم ایک خودمختار قوم ہیں، اپنی مسلح افواج کے لیے دوسروں کے پرانے ہتھیار خریدنے کے پابند نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ کولمبیا کے دفاعی فیصلوں میں مداخلت کی عکاسی کرتی ہے اور ساتھ ہی امریکہ کی جانب سے ایک خودمختار فیصلے پر ناجائز سیاسی دباؤ کا اظہار بھی ہے۔
صدر پیٹرو نے سویڈن کی حکومت اور گریپن طیارے بنانے والی کمپنی ’ساب‘ سے مطالبہ کیا کہ وہ کولمبیا کے خودمختار دفاعی فیصلوں کے حق میں کھل کر آواز اٹھائیں تاکہ ملک کو کسی سیاسی یا اقتصادی انتقام کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
برازیل کی سیاسی صورتحال سے موازنہ کرتے ہوئے پیٹرو نے کہا کہ انہیں نے یہی حربہ لولا کے خلاف بھی آزمایا تھا۔ انہوں نے اپنا بیان مختصر مگر معنی خیز الفاظ میں ختم کیا: "کاروبار، بس کاروبار۔”

