محمد القیق
امریکہ اور "اسرائیل” ایک منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عالمی برادری کی ذہنیت کو تبدیل کرنے اور اپنی شبیہ بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک مربوط پالیسی ہے جس میں سفارتی، سیاسی اور میڈیا سطح پر کئی اقدامات بیک وقت کیے جا رہے ہیں۔
شرم الشیخ میں ہونے والی امن کانفرنس کا مقصد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس اور فلسطین کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کی لہر کے مقابلے میں ٹرمپ کے منصوبے کو مضبوط کرنا تھا۔ اسی کے ساتھ ایک مربوط میڈیا مہم مختلف زبانوں میں مصنفین، تجزیہ کاروں اور نشریاتی اداروں کے ذریعے چلائی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی مزاحمت کو کمزور اور اسرائیلی فوج و قیادت کے حوصلے بلند کرنا ہے۔
حال ہی میں اس مہم کو یہ ہدایت دی گئی کہ وہ نام نہاد "جنگ بندی معاہدے” کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے اور "فریقین” اور "خلاف ورزیوں” جیسے الفاظ استعمال کر کے جاری نسل کشی کی حقیقت کو چھپا دے۔ اسرائیلی حملوں کو "دفاعی کارروائیاں” کہہ کر دنیا کی یادداشت سے فلسطینی قتل عام کے آثار مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
درحقیقت یہ "جنگ بندی معاہدہ” ایک بڑی فریب کاری ہے، جس کا مقصد عالمی برادری کو ساکت کر دینا اور اسرائیل کے مزید جرائم کو چھپانا ہے۔ سرحدی گذرگاہوں کی بندش، طبی امداد اور صحافیوں کی راہ میں رکاوٹیں، زخمیوں کو علاج کے لیے باہر جانے سے روکنا، اور محصور فلسطینیوں کو بھوک و محاصرے میں مبتلا رکھنا — یہ سب نسل کشی کے تسلسل کا حصہ ہیں، جن کے ساتھ اسرائیلی حملے بھی جاری ہیں۔
اسی دوران بعض فلسطینی شخصیات اور اسرائیلی رہنماؤں، جن میں سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ بھی شامل ہیں، کے درمیان خفیہ ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد "دو ریاستی حل” کے فریب کو فروغ دینا اور مسئلے کو صرف نیتن یاہو کی پالیسی تک محدود دکھانا ہے، گویا اسرائیلی ریاست کا پورا نظام اس نسل کشی کا ذمہ دار نہیں۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ اسرائیلی فوج دراصل اسی اسرائیلی معاشرے سے ابھری ہے، جس نے نیتن یاہو کو منتخب کیا، جیسے اس نے اولمرٹ کو منتخب کیا تھا — وہی اولمرٹ جس نے 2006 اور 2008 میں غزہ اور لبنان میں جرائم کیے، القدس سے ہزاروں فلسطینیوں کو بے دخل کیا اور شہر کے میئر کی حیثیت سے گھروں کو مسمار کیا۔
"اسرائیل” نے مظلومیت کا لبادہ اوڑھنے کی سیاست میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ وہ ہر ممکن ذریعہ اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے، حتیٰ کہ بعض فلسطینی شخصیات کو بھی، جو ذاتی فائدے کے لیے اپنے عوام کے حقوق پر سمجھوتہ کرنے پر تیار ہو جاتی ہیں۔
قافلۂ امداد پر اسرائیلی حملے اسی پالیسی کی تازہ مثال ہیں۔ وہ ممالک جن کے کارکن اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں اور جنہوں نے پہلے "اسرائیل” سے تعلقات منقطع کر دیے تھے، اب انہی کارکنوں کی رہائی کے بہانے قابض ریاست سے "رابطہ کاری” پر مجبور کیے جا رہے ہیں، جو دراصل تعلقات میں بہتری کی ایک نئی شکل ہے۔ یہ اسی طرح کی پالیسی ہے جیسے ماضی میں اسرائیل نے اپنی شبیہ بہتر بنانے کے لیے علامتی انسانی ہمدردی کے فضائی امدادی اقدامات کیے تھے۔
ان پالیسیوں کا مؤثر ترین جواب یہ ہے کہ حکومتوں، بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر دباؤ بڑھایا جائے — احتجاج، قانونی کارروائی اور بین الاقوامی کانفرنسوں کے ذریعے اسرائیلی سیاست دانوں اور فوجی اہلکاروں کو جواب دہ بنایا جائے۔ میڈیا کو منظم انداز میں اسرائیل اور امریکہ کے جرائم کو بے نقاب کرنا ہوگا، تاکہ جاری نسل کشی کا خاتمہ ہو، فلسطینی عوام کے ایک خودمختار ریاست کے حق کو تسلیم کیا جائے، اور اسرائیل کو مکمل طور پر جواب دہ ٹھہرایا جائے۔
ٹرمپ اور "اسرائیل” دونوں دھوکہ باز ہیں۔ یہ نسل کشی ہولناک ہے، اور وہ اسے کھلے اور پوشیدہ دونوں طریقوں سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری ایک بار پھر ٹرمپ کے اس فریب میں آ جائے گی، جس کے تحت نسل کشی کو معمول کی بات بنا کر پیش کیا جا رہا ہے؟

