ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیلی فوج کی سابق اعلیٰ وکیل ویڈیو لیک اسکینڈل میں گرفتار

اسرائیلی فوج کی سابق اعلیٰ وکیل ویڈیو لیک اسکینڈل میں گرفتار
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – اسرائیلی فوج کی سابق اعلیٰ وکیل کو ایک متنازع ویڈیو کے افشا ہونے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر ایک فلسطینی قیدی پر اسرائیلی فوجیوں کے تشدد کی شدید مناظر دکھائے گئے ہیں۔ یہ معاملہ اسرائیل میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش کا باعث بن گیا ہے۔

میجر جنرل یفات ٹومر یروشلمی نے گزشتہ ہفتے اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) میں ملٹری ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ویڈیو کے افشا ہونے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتی ہیں۔

اتوار کو معاملہ اس وقت سنگین رخ اختیار کر گیا جب ان کی گمشدگی کی اطلاع ملی اور پولیس نے تل ابیب کے شمالی ساحل پر کئی گھنٹے جاری رہنے والی تلاش کے بعد انہیں زندہ اور خیریت سے پا لیا۔ بعد ازاں پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔

یہ ویڈیو اگست 2024 میں ایک اسرائیلی نیوز چینل پر نشر ہوئی تھی۔ فوٹیج میں جنوبی اسرائیل کے صدی تیمان فوجی اڈے پر تعینات ریزرو فوجیوں کو ایک فلسطینی قیدی کو الگ لے جا کر ڈھالوں کے پیچھے چھپاتے ہوئے دکھایا گیا، جہاں مبینہ طور پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایک نوکیلے آلے سے زیادتی کی گئی۔ قیدی کو بعد ازاں شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔

اس واقعے کے بعد پانچ ریزرو فوجیوں پر قیدی کے ساتھ سنگین تشدد اور جسمانی نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے۔ تمام ملزمان نے الزامات کی تردید کی ہے اور ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

اتوار کو ان میں سے چار فوجی سیاہ ماسک پہن کر یروشلم میں سپریم کورٹ کے باہر اپنے وکلاء کے ہمراہ پریس کانفرنس میں شریک ہوئے اور مقدمہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
دائیں بازو کی قانونی تنظیم "ہونینو” سے تعلق رکھنے والے وکیل آدی کیدار نے کہا کہ ان کے مؤکلوں کو ایک "جانبدار اور مکمل طور پر گھڑے گئے قانونی عمل” کا سامنا ہے۔

گزشتہ ہفتے ویڈیو کے لیک ہونے پر فوجداری تحقیقات شروع کی گئی تھیں، جس کے دوران جنرل ٹومر یروشلمی کو عارضی طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ جمعے کو اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹس نے اعلان کیا کہ وہ دوبارہ اپنی پوسٹ پر واپس نہیں آسکیں گی، جس کے بعد جنرل ٹومر یروشلمی نے استعفیٰ دے دیا۔

اپنے استعفے میں انہوں نے لکھا کہ میں میڈیا کو جاری ہونے والے ہر مواد کی ذمہ داری قبول کرتی ہوں۔ میں نے یہ قدم اس لیے اٹھایا تاکہ فوج کے قانونی اداروں کے خلاف پھیلائی گئی جھوٹی مہمات کا جواب دیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی قیدی پر تشدد کا معقول شبہ ہو تو تحقیقات ہماری ذمہ داری ہے۔

ان کے استعفے کے بعد وزیر دفاع کاٹس نے ان کے طرزِ عمل کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جھوٹے الزامات پھیلائے وہ فوجی وردی پہننے کا اہل نہیں۔

وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی اپنے وزیر دفاع کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سدی تیمان کا واقعہ اسرائیل کے قیام کے بعد سے "ملک کی ساکھ پر سب سے شدید حملہ” ہے۔

چند گھنٹوں بعد اسرائیلی میڈیا میں جنرل ٹومر یروشلمی کی گمشدگی کی خبریں گردش کرنے لگیں، جس سے خدشہ ظاہر کیا جانے لگا کہ سیاسی تنازع کسی سانحے میں بدل نہ جائے۔
پولیس نے بڑے پیمانے پر تلاش مہم شروع کی اور چند گھنٹوں بعد انہیں ہرزیلیا کے ساحلی علاقے میں خیریت سے تلاش کر لیا۔

رات گئے پولیس ترجمان نے بتایا کہ دو افراد کو "لیک اور دیگر سنگین جرائم” کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد میں جنرل ٹومر یروشلمی اور سابق چیف ملٹری پراسیکیوٹر کرنل ماتان سولو موش شامل ہیں۔

صدی تیمان واقعہ اسرائیلی معاشرے میں بائیں اور دائیں بازو کے درمیان تقسیم کی علامت بن چکا ہے۔
دائیں بازو کے حلقے ویڈیو کے افشا کو فوج کے خلاف غداری کے مترادف قرار دے رہے ہیں، جب کہ بائیں بازو کے ناقدین اسے جنرل یروشلمی کا وہ واحد اقدام سمجھتے ہیں جس میں انہوں نے اپنے عہدے کی اخلاقی ذمہ داری پوری کی۔

بائیں بازو کے مبصرین کے مطابق یہ ویڈیو ان درجنوں رپورٹس کی تصدیق کرتی ہے جن میں 7 اکتوبر 2023 کے بعد فلسطینی قیدیوں پر تشدد، بدسلوکی اور جنسی زیادتی کے الزامات سامنے آئے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں گزشتہ سال الزام لگایا گیا تھا کہ غزہ سے گرفتار کیے گئے ہزاروں بچوں اور بالغ قیدیوں کو "وسیع پیمانے پر جسمانی، نفسیاتی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔”

اسرائیلی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی مکمل پابند ہے اور ہر شکایت کی تفصیلی تحقیقات کی گئی ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین