تحریر: سائمن اسپیکمین کارڈل
اسرائیلی فوج کی اعلیٰ وکیل، میجر جنرل یِفات ٹومر یروشلمی نے گزشتہ سال اگست میں صدی تیمان قید خانے میں ایک فلسطینی قیدی کی اجتماعی عصمت دری کی ویڈیو لیک کرنے کے اعتراف کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔
یہ ویڈیو ابتدائی طور پر گزشتہ سال اگست کے آغاز میں میڈیا کو لیک ہوئی تھی، اُس وقت جب فلسطینی قیدی کی عصمت دری کے الزام میں متعدد فوجیوں کی گرفتاری پر دائیں بازو کی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔
جمعے کے روز اپنے استعفے کے بیان میں ٹومر یروشلمی نے کہا کہ اُنہیں دائیں بازو کی جانب سے ریپ کیس کی تحقیقات پر شدید دباؤ کا سامنا تھا، اسی دباؤ کے نتیجے میں انہوں نے ویڈیو لیک کی تاکہ — اُن کے بقول٬ فوجی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف چلائی جانے والی جھوٹی پروپیگنڈا مہم کا توڑ کیا جا سکے۔
لیک ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجی ایک آنکھوں پر پٹی بندھے فلسطینی قیدی کو پکڑ کر لے جا رہے ہیں، پھر اسے ڈھالوں کے حصار میں لے جا کر اُس کی عصمت دری کرتے ہیں۔
اصل فردِ جرم میں بیان کیا گیا تھا کہ پندرہ منٹ تک ملزمان نے قیدی کو ٹھوکریں ماریں، اُس کے جسم پر پاؤں رکھا، اُسے مارتے اور دھکیلتے رہے، ڈنڈوں سے پیٹا، زمین پر گھسیٹا اور اس کے جسم — حتیٰ کہ سر — پر بھی برقی جھٹکے دیے۔
اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق طبی رپورٹس میں بتایا گیا کہ متاثرہ قیدی کی آنت پھٹ گئی، اُس کے پھیپھڑوں اور مقعد میں شدید زخم آئے، پسلیاں ٹوٹ گئیں، اور اُسے بعد میں سرجری کی ضرورت پڑی۔
ملزمان فوجیوں کے ساتھ کیا ہوا؟
کم از کم نو فوجیوں کو اس واقعے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا، جن میں سے پانچ کو جلد ہی رہا کر دیا گیا۔
فروری میں باقی فوجیوں پر قیدی کو “سنگین تشدد کا نشانہ بنانے” کے الزامات عائد کیے گئے، مگر عصمت دری کے الزامات ہٹا دیے گئے۔ مقدمہ اب بھی زیرِ سماعت ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک کمیشن نے اس فردِ جرم میں تبدیلی اور اسرائیل کی جانب سے جنسی و صنفی بنیادوں پر تشدد کے دیگر واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ الزامات میں نرمی کی وجہ سے اگر سزا ہوئی تو وہ یقینی طور پر نرم ہوگی۔
اسرائیلی سیاست دانوں نے احتساب کا مطالبہ کیوں نہیں کیا؟
کیونکہ ان کے نزدیک ایسا مطالبہ کرنا “غیرمحبِ وطن” سمجھا گیا۔
اسرائیل کے متعدد انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان، جن میں وزیرِ وراثت امیخائی ایلیاہو بھی شامل ہیں، اُن افراد میں تھے جنہوں نے فوجیوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے صدی تیمان قید خانے پر دھاوا بولا۔
اسرائیل کے سخت گیر وزیرِ قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے جولائی 2024 میں عبرانی زبان میں ٹومر یروشلمی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملٹری ایڈووکیٹ جنرل، اپنے ہاتھ ریزروسٹ فوجیوں سے دور رکھو! — اُن کا اشارہ عصمت دری کے ملزمان کی جانب تھا۔
اسی عرصے میں دائیں بازو کے ایک اور نمایاں رہنما، وزیرِ خزانہ بیزالیل سموتریچ بھی سوشل میڈیا پر سرگرم تھے، جہاں انہوں نے ان فوجیوں کو “ہیرو، مجرم نہیں” قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
عصمت دری کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد پیدا ہونے والے ہنگامے میں سموتریچ نے دوبارہ سوشل میڈیا کا رخ کیا مگر عصمت دری کے ٹھوس الزامات کو نظر انداز کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری فوجداری تحقیقات کی جائیں تاکہ ویڈیو لیک کرنے والوں کا پتہ چلایا جا سکے، جنہوں نے اسرائیل کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا، اور اُن کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
ٹومر یروشلمی کے استعفے پر ردعمل
جن افراد نے مبینہ ریپ کے ملزمان کا دفاع کیا تھا، وہی ٹومر یروشلمی کے استعفے پر خوشی کا اظہار کرنے والوں میں سب سے نمایاں تھے۔
استعفے کے چند گھنٹے بعد سوشل میڈیا پر سموتریچ نے لکھا کہ یروشلمی اور اسرائیلی عدالتی نظام “بدعنوانی میں ڈوبے ہوئے” ہیں، اور اُن پر فوج کے خلاف “یہودی مخالف جھوٹے الزامات” لگانے کا الزام عائد کیا۔
بن گویر نے بھی عدالتی نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ملوث تمام افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
یہ دونوں وزراء وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی عدلیہ کو کمزور کرنے اور اُس پر سیاسی نگرانی بڑھانے کی جاری کوششوں کے سرگرم حامی ہیں۔
کیا صدی تیمان میں فلسطینیوں کے خلاف دیگر جرائم بھی ہوئے ہیں؟
گزشتہ ہفتے غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل کی جانب سے واپس کیے گئے 135 فلسطینی شہداء کی مسخ شدہ لاشوں کے ساتھ منسلک دستاویزات سے ظاہر ہوا کہ وہ صدی تیمان قید خانے میں رکھے گئے تھے۔
ان میں سے کئی لاشوں کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں، بعض کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، اور ایک کی گردن میں رسی تھی۔
اقوام متحدہ کی وہی رپورٹ، جس میں فوجیوں پر عائد الزامات میں نرمی کا ذکر تھا، نے یہ بھی بتایا کہ صدی تیمان میں قیدیوں — بشمول بچوں — کو اکثر زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے، انہیں تکلیف دہ جسمانی پوزیشنوں میں رکھا جاتا ہے، بیت الخلا اور غسل کی سہولت سے محروم رکھا جاتا ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض قیدیوں کو جنسی تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا، جن میں اشیاء کا داخل کیا جانا، برقی جھٹکے دینا اور عصمت دری جیسے جرائم شامل تھے۔

