تحریر: عبدالباری عطوان
امریکی نشریاتی ادارے "سی این این” نے کل انکشاف کیا کہ امریکی محکمہ دفاع (پنٹاگون) نے ابتدائی طور پر یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے "ٹام ہاک” میزائل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن کے ذریعے یوکرینی فوج روس کے اندر، حتیٰ کہ دارالحکومت ماسکو تک فوجی اہداف کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ اگر یہ فیصلہ نافذ ہوا اور یوکرین کو اس نوعیت کے میزائل مل گئے، تو امریکا اور روس کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم، بلکہ ممکنہ طور پر ایٹمی جنگ، تیزی سے قریب آ جائے گی۔
یہ امریکی اشتعال انگیزی اس وقت سامنے آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے یوکرینی ہم منصب ولاديمير زیلنسکی کے درمیان سربراہی اجلاس ہوا، جہاں زیلنسکی نے زمینی جنگ کے توازن کو بدلنے کے لیے اعلیٰ درجے کی فوجی امداد کا مطالبہ کیا۔ بظاہر امریکی محکمہ دفاع نے اس درخواست پر لبیک کہتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اپنے ذخیرے کو متاثر کیے بغیر 1,500 "ٹام ہاک” میزائل فراہم کر سکتا ہے۔
یوکرینی فوج کو "ٹام ہاک” میزائلوں کی فراہمی جنگ کو دفاعی مرحلے سے طویل فاصلے تک جارحانہ رخ پر منتقل کر دے گی۔ اسی لیے روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے فوری طور پر خبردار کیا کہ اس اقدام کے تباہ کن نتائج صرف یوکرین ہی نہیں بلکہ امریکا اور یورپی ممالک کے لیے بھی ہوں گے — جو دراصل ممکنہ ایٹمی جنگ کی جانب اشارہ ہے۔ شاید صدر ٹرمپ کا کئی دہائیوں بعد ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ بھی اسی ممکنہ تصادم کی تیاریوں کا حصہ ہے، اگر سابقہ "دوستوں” — ٹرمپ اور پیوٹن — کے درمیان خلیج بڑھتی رہی۔
امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے یوکرین کو 1,500 "ٹام ہاک” میزائل فراہم کرنے کی دھمکی، صدر پیوٹن کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی، جس میں انہوں نے روس کی نئی عسکری ایجاد — "بورویسٹنک” یا "اسٹارم برنگر” — کے انکشاف کیا۔ یہ ایٹمی انجن سے لیس میزائل 14,000 کلومیٹر کا فاصلہ صرف 15 منٹ میں طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، 15 گھنٹے تک مسلسل پرواز کر سکتا ہے اور تمام ریڈار سسٹمز کو چکمہ دینے والا جدید ترین ہتھیار ہے — جس کا فی الحال امریکا یا مغرب میں کوئی ہمسر موجود نہیں۔
یقیناً "ٹام ہاک” میزائل، امریکی عسکری ٹیکنالوجی کی معراج سمجھا جاتا ہے، جس کی مار 1600 سے 2500 کلومیٹر ہے، وزن 450 کلوگرام، پرواز کی بلندی کم اور نشانے کی درستگی بلند ہے، تاہم اسے نئے روسی میزائل کے مقابلے میں نہیں رکھا جا سکتا۔
ٹرمپ جو اپنی تجارتی جنگوں میں ہار چکے ہیں، کوئی فوجی جنگ بھی نہیں جیت سکیں گے۔ ان کا بار بار یہ دعویٰ کہ وہ امن پر توجہ دے رہے ہیں اور اب تک نو جنگوں کو ختم کر چکے ہیں، دراصل اپنی ناکامی کو چھپانے کا حربہ ہے۔ روسی مصنف الیگزینڈر نازاروف نے اپنی حالیہ تحریر میں تصدیق کی کہ جنوبی کوریا میں ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات اپنے اہداف حاصل نہ کر سکی اور ناکام رہی۔ نازاروف نے اس حقیقت کو نظرانداز کیا کہ ٹرمپ چین اور روس کے درمیان دراڑ ڈالنے میں ناکام رہے۔
برطانوی جریدے "دی اکانومسٹ” نے اپنے تازہ شمارے کے سرورق اور اداریے میں تصدیق کی کہ چین نے صدر ٹرمپ کی شروع کردہ تجارتی جنگ جیت لی ہے۔ جریدے کے مطابق وائٹ ہاؤس کا یہ غرور کہ امریکا اعصابی جنگ میں چین سے برتر ہے اور چین کمزور ہے، اس ناکامی کا سبب بنا۔ مگر چینی تدبیر نے یہ ثابت کیا کہ معاملہ اس کے برعکس تھا، اور بیجنگ اس جنگ سے فاتح بن کر نکلا۔
"دی اکانومسٹ” کے اداریہ نگار نے درست لکھا کہ چینی قیادت — بلکہ شاید روسی بھی — اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ صدر ٹرمپ ایک "بزدل” سیاست دان ہیں، جو اپنی دھمکیاں بڑھاتے ہیں مگر جلد ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ یہی فرق اس وقت ظاہر ہوا جب انہوں نے چینی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے، مگر نیویارک کے وال اسٹریٹ اسٹاک مارکیٹ میں معمولی جھٹکے کے بعد فوراً اپنے فیصلے واپس لے لیے۔
صدر ٹرمپ، جو اپنے گرد زیادہ تر یہودی نژاد جائدادوں کے سوداگر اور نااہل مشیروں کو جمع کیے بیٹھے ہیں، اپنی ریاست کی عالمی ساکھ تباہ کر رہے ہیں اور اسے زوال کی جانب لے جا رہے ہیں۔ چین اور روس اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں اور پیش گوئی کرتے ہیں کہ ٹرمپ کی سیاسی تباہی اگلے سال، کانگریس اور سینیٹ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد، یقینی ہے — جب ریپبلکن جماعت کو متوقع طور پر دھچکا لگے گا۔
چینی صدر، جنہوں نے تجارتی جنگ میں ٹرمپ کو عبرتناک شکست دی، جنوبی کوریا کے شہر سیول میں ہونے والی ملاقات کے بعد خوشی سے ہاتھ ملتے ہوئے دیکھے گئے، جہاں ٹرمپ کو اپنی تمام تجارتی اور مالی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن، جنہوں نے سنگاپور اور ویتنام کی ملاقاتوں میں ٹرمپ کو دو بار شکست دی تھی، اب ان کے ساتھ تیسری ملاقات کی تجویز میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔
آخرکار، پیوٹن کا نیا دیو قامت میزائل "بورویسٹنک” تمام امریکی میزائلوں خصوصاً "ٹام ہاک” کو بونا ثابت کر چکا ہے، اور مستقبل "مسخرہ” ٹرمپ کے لیے تاریک دکھائی دیتا ہے — وہی ٹرمپ جو غزہ میں نسل کشی کے حامیوں میں صفِ اوّل پر کھڑا ہے۔
اللہ کرے عبرت ان کے نصیب میں ہو، نہ کہ فخر۔

