خرطوم (مشرق نامہ) – سوڈان کے مغربی علاقے دارفور سے فرار ہونے والے شہریوں نے نیم فوجی فورس ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے ہاتھوں پیش آنے والے خوفناک مظالم کی داستانیں سنائی ہیں، جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
ریاست شمالی دارفور کا دارالحکومت الفاشر، اتوار کو 18 ماہ کے محاصرے کے بعد آر ایس ایف کے قبضے میں آنے سے قبل اس وسیع خطے میں سوڈانی فوج کا آخری مضبوط گڑھ تھا۔
اس کے بعد سے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی اداروں نے شہریوں کے حالات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے، کیونکہ اجتماعی قتل عام، عصمت دری اور دیگر مظالم کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔
الخیِر اسماعیل نامی ایک نوجوان، جو تقریباً 50 کلومیٹر دور شہر تَوِیلہ پہنچنے میں کامیاب ہوا، نے بتایا کہ وہ اُن 300 افراد میں شامل تھا جنہیں آر ایس ایف کے اہلکاروں نے الفاشر سے فرار ہوتے ہوئے روکا تھا۔ اس نے کہا کہ اسے صرف اس لیے چھوڑ دیا گیا کہ حملہ آوروں میں سے ایک نے اُسے یونیورسٹی کے دنوں سے پہچان لیا۔
اسماعیل کے مطابق، میری جان اس وقت بچی جب ایک شخص، جس کے ساتھ میں خرطوم کی یونیورسٹی میں پڑھتا تھا، نے ان سے کہا ‘اسے مت مارو’۔ اس کے بعد انہوں نے باقی تمام نوجوانوں اور میرے دوستوں کو قتل کر دیا۔
تَوِیلہ پہنچنے والے دیگر سوڈانی شہریوں نے بھی خوف اور اذیت کی داستانیں سنائیں۔
تحانی حسن نامی خاتون نے بتایا کہ اچانک وہ نمودار ہوئے، پتا نہیں کہاں سے۔ تین نوجوان مختلف عمر کے۔ انہوں نے فضا میں فائرنگ کی اور ہمیں رکنے کا حکم دیا۔ ان کے جسم پر آر ایس ایف کی وردیاں تھیں۔ انہوں نے ہمیں بری طرح پیٹا، ہمارے کپڑے زمین پر پھینک دیے، حتیٰ کہ مجھے بھی، ایک عورت کو، تلاشی دی گئی۔ حملہ آور میری بیٹی سے بھی کم عمر لگ رہا تھا۔
فاطمہ عبدالرحیم، جو اپنے نواسوں کے ساتھ فرار ہوئیں، نے کہا کہ انہیں تَوِیلہ تک پہنچنے میں پانچ دن لگے۔
انہوں نے لڑکوں کو مارا، ہمارا سارا سامان چھین لیا، ہمیں خالی ہاتھ چھوڑ دیا۔ یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ہمارے بعد آنے والے گروپ کی لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کی گئی، لیکن ہماری لڑکیاں بچ گئیں۔
رواء عبداللہ نامی ایک اور خاتون نے بتایا کہ اس کے والد لاپتہ ہیں۔
ہمیں نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہیں یا مر گئے، کیا وہ فرار ہونے والوں کے ساتھ ہیں یا زخمی ہیں۔
بدھ کی رات ایک خطاب میں آر ایس ایف کے سربراہ محمد حمدان "حمیدتی” دگالو نے اپنے جنگجوؤں کو شہریوں کے تحفظ کی ہدایت دی اور کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
جمعرات کو آر ایس ایف نے دعویٰ کیا کہ اس نے کچھ اہلکاروں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں گرفتار کیا ہے، تاہم اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے آر ایس ایف کے اس اقدام پر شکوک کا اظہار کیا۔
دوسری جانب ایک اعلیٰ آر ایس ایف کمانڈر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یہ تمام رپورٹس فوج کی "میڈیا مبالغہ آرائی” ہیں تاکہ الفاشر میں اپنی شکست پر پردہ ڈال سکیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق، آر ایس ایف اور سوڈانی فوج دونوں پر جنگی جرائم کے الزامات عائد ہیں۔ یہ تنازع اب تک دسیوں ہزار افراد کی جان لے چکا ہے، تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ افراد کو بے گھر کر چکا ہے، اور دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ ملک میں قحط عام ہے، جبکہ ہیضے اور دیگر مہلک بیماریوں کی وبائیں پھیل رہی ہیں۔

