ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیاقوامِ متحدہ کا الزام: امریکا نے کیریبین اور بحرالکاہل میں فضائی حملوں...

اقوامِ متحدہ کا الزام: امریکا نے کیریبین اور بحرالکاہل میں فضائی حملوں سے بین الاقوامی قانون توڑا
ا

اقوامِ متحدہ،(مشرق نامہ) یکم نومبر (اے پی پی): اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر، وولکر ٹُرک نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے بحیرہ کیریبین اور بحرالکاہل میں منشیات اسمگلنگ کے مبینہ الزامات کے تحت کشتیوں پر کیے گئے فضائی حملے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہیں، جنہیں فوراً بند کیا جانا چاہیے۔

رپورٹس کے مطابق ستمبر کے اوائل سے جاری ان حملوں میں اب تک 60 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ٹُرک کے مطابق، “یہ حملے ایسی صورتحال میں کیے گئے جن کی بین الاقوامی قانون میں کوئی توجیہہ نہیں ملتی۔”

انہوں نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی “ناقابلِ قبول کارروائیاں” روکے اور ایسے اقدامات کرے جو ان کشتیوں پر موجود افراد کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کو روک سکیں، چاہے ان پر کوئی بھی مجرمانہ الزام کیوں نہ ہو۔

دوسری جانب، امریکی حکام نے ان حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں کی گئی ہیں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے دائرے میں آتی ہیں۔

البتہ، وولکر ٹُرک نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غیرقانونی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا معاملہ ہیں، جن پر بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت مہلک طاقت کے استعمال کی سخت پابندیاں عائد ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ مہلک طاقت کا ارادی استعمال صرف اُس وقت جائز ہے جب کوئی فرد کسی کی جان کے لیے فوری خطرہ بن رہا ہو۔

ٹُرک نے کہا:“امریکی حکام کی جانب سے فراہم کردہ محدود معلومات کی بنیاد پر، نشانہ بنائی گئی کشتیوں پر موجود کسی بھی فرد سے ایسا کوئی فوری خطرہ ظاہر نہیں ہوتا تھا، جو بین الاقوامی قانون کے تحت مہلک طاقت کے استعمال کو جائز ٹھہرا سکے۔

ہائی کمشنر نے ان حملوں کی فوری، آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ منشیات کی اسمگلنگ ایک سنگین مسئلہ ہے، مگر زور دیا کہ امریکا کو اپنی تمام انسدادِ منشیات کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور اُن معاہدوں کے تحت کرنی چاہئیں جن پر وہ دستخط کنندہ ہے۔

آخر میں، ٹُرک نے کہا:“امریکا کو چاہیے کہ وہ سنگین جرائم کے ملزمان کے خلاف کارروائی قانونی ضابطوں، شفاف عدالتی عمل اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کے مطابق کرے — وہی اصول جن کے لیے امریکا طویل عرصے سے خود کو ایک مثال کے طور پر پیش کرتا آیا ہے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین