اسلام آباد(مشرق نامہ): وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکس سال 2025 کے لیے 8 لاکھ 92 ہزار 419 نئے انکم ٹیکس گوشواروں (ریٹرنز) کی فائلنگ کو عوام کے حکومت کی اصلاحاتی ایجنڈے پر بڑھتے ہوئے اعتماد سے منسلک قرار دیا ہے۔
وزیراعظم کے یہ ریمارکس اُس وقت سامنے آئے جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا کہ ادارے کو ٹیکس سال 2025 کے لیے 59 لاکھ 12 ہزار گوشوارے موصول ہوئے ہیں، جو ٹیکس سال 2024 کے 50 لاکھ 25 ہزار کے مقابلے میں 17.65 فیصد زیادہ ہیں۔ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر تھی۔
وزیراعظم کے سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری ایک سرکاری اعلامیے میں ایف بی آر کی اس تاریخی کامیابی کو سراہا گیا اور عوام کا شکریہ ادا کیا گیا کہ انہوں نے شہری ذمہ داری اور حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا مظاہرہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نئے فائلرز کی بڑی تعداد کا ٹیکس نیٹ میں شامل ہونا حکومت کے اصلاحاتی پروگرام پر عوام کے بڑھتے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم عوام کے تعاون کے لیے دل سے شکر گزار ہیں۔‘‘
وزیراعظم نے نئے گوشواروں میں اضافے کو ایف بی آر کی ڈیجیٹل اصلاحات سے منسلک قرار دیا۔
شہباز شریف نے اس مثبت پیش رفت کا کریڈٹ جاری ٹیکس نظام میں اصلاحات کو دیا، جنہیں انہوں نے ترقی اور خوشحالی کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے ادارہ جاتی کلچر میں میرٹ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، قابل اور محنتی افسران کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جبکہ کم کارکردگی برداشت نہیں کی جا رہی۔
ٹیکس سال 2025 میں انفرادی ٹیکس گوشواروں کی فائلنگ میں نمایاں اضافہ ہوا، اور زیادہ تر گوشوارے ادائیگی کے ساتھ جمع کرائے گئے۔ ایف بی آر کے مطابق 2025 میں 58 لاکھ 5 ہزار انفرادی گوشوارے جمع کرائے گئے، جو پچھلے سال کے 49 لاکھ 12 ہزار کے مقابلے میں 18.18 فیصد زیادہ ہیں۔
ان میں سے 35 لاکھ 99 ہزار گوشوارے ٹیکس ادائیگی کے ساتھ جمع کرائے گئے، جو 2024 کے 30 لاکھ 24 ہزار کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہیں۔
ان گوشواروں کے ذریعے وصول ہونے والی مجموعی ٹیکس آمدنی مالی سال 2025 میں 69.02 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو پچھلے سال کے 60.15 ارب روپے کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل پر اپنی ذاتی نگرانی کو اجاگر کیا، اور شفافیت و کارکردگی یقینی بنانے کے لیے ہفتہ وار اجلاسوں کی صدارت کرنے کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس فائلنگ کا عمل آسان بنا دیا گیا ہے، جبکہ بندرگاہوں پر خودکار کلیئرنس سسٹم نے کرپشن میں کمی اور کارکردگی میں بہتری میں مدد دی ہے۔
حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے اردو زبان میں ایک آسان ٹیکس ریٹرن فارم بھی متعارف کرایا ہے تاکہ گوشوارے جمع کرانے کا عمل سہل ہو جائے۔
غیر رسمی معیشت کے خلاف اقدامات کے تحت حکومت نے پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم کے استعمال کو وسعت دی ہے، جس سے سیلز ٹیکس چوری میں کمی آئی ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال ٹیکس ریٹرنز کے ساتھ 9 ارب روپے زائد ٹیکس وصولی ایف بی آر کی اصلاحات کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے ایف بی آر میں مزید اصلاحات کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور کرپشن و غیر رسمی معیشت کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں پر زور دیا۔
آخر میں انہوں نے کہا، ’’ہم دن رات محنت کر رہے ہیں تاکہ ایک منصفانہ اور شفاف مالیاتی نظام قائم کیا جا سکے۔‘‘

